bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Monday, 20 May 2013

بابا فرید گنج شکر کیوں کہلائے۔ عاصِمہ شوکت


بابا فرید رحمتہ اللہ  علیہ برصغیرکے اُولیائے کرام  کی فہرست میں ایک نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔آپکی ولادت مبارک ۵۸۹ھ میں ہُوئی اور وصال ۶۶۶ھ میں ہوا ۔آپکا خاندانی نام فرید الدین مسعود ہے اور والدہ کا نام قرسم خاتون ؒ اور والدمحترم قاضی جلال الدین ہیں ۔بابا فرید پانچ سال کی عمر میں یتیم ہو گئے تھے ۔


بابا فرید کو گنج شکر کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے انکا یہ لقب گنج شکر کیوں پڑا؟ اسکے بارے میں مختلف کتابوں میں مختلف روایات پائی جات ہیں ۔۔۔۔ روایت ہے کہ بابا فرید ؒ کو گنج شکر پہلی مرتبہ انکی والدہ صاحبہ نے کہا۔ قرسم خاتون بہت ہی عبادت گزار ،پرہیزگار ،نیک خاتون تھیں وہ اپنی بیوگی میں بھی اپنے بچوں کی بہت اچھی تربیت کرتی رہیں ۔  آپکی ایک کرامت کا تذکرہ اکثر معتبر تواریخ میں موجود ہے ۔ کہ ایک مرتبہ  آپکے شہر میں قحط پڑگیا۔ جب کئی برس تک بارش کے آثار نظر نہ آئے ۔ تو آپکے شہر کے لوگوں نے اپنی ازواج کو آپکے پاس دُعا کیلئے بھیجا۔ آپ کی والدہ نے خواتین کے اِصرار پر  اپنے صِحن کی جھاڑو نِکالی۔ اُور ۲ رکعت نفل  ادا فرمانے کے بعد یُوں دُعا فرمائی۔ ،،اے میرے پروردیگار جھاڑو لگا کر صفائی کرنا میرے اِختیار میں تھا ۔سُو میں نے تمام کچرے کو سمیٹ  دِیا۔ اب پانی کے چھڑکاوٗ کیلئے بارش کی ضرورت ہے۔جو کہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔،، کہتے ہیں کہ حضرت قُرسم خاتون کے ہاتھ ابھی بُلند تھے ۔کہ ایسی زُور دار بارش ہُوئی کہ تمام شہر جل تھل ہُوگیا۔

قُرسم خاتون  نے پہلی بار بابا فریدؒ کو نماز پڑھنے کی تلقین کی تو  اپنے جگر پارے کو کچھ اِسطرح سے سمجھایا۔ کہ،، جب چھوٹے بچے اللہ تعالیٰ کی نماز ادا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں شکر کا انعام دیتے ہیں اور جب بڑھے ہو جاتے ہیں تو دوسرے بڑے اور مزید انعامات دیئے جاتے ہیں ۔ بابا فرید ؒ جب نمازپڑھتے۔ تو قرسم خاتون چپکے سے انکے مصلے کے نیچے شکر کی پڑیاں رکھ دیتیں اور بابا فرید ؒ وہ شکر کی پڑیاں انعام میں پا کر بہت خوش ہوتے، یہ سلسلہ کافی عرصہ تک چلتا رہا۔ یہاں تک کہ ،، ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ قرسم خاتون شکرکی پڑیاں رکھنا بھول گئیں۔ تو اگلے دن اضطراب سے پوچھا کہ اے فرید الدین مسعود کیا آ پکو کل شکر کی پڑیاں کی پڑیاں مل گئی تھیں ؟ تو بابا فرید نے ہاں میں جواب دیا ! تو قرسم خاتون نے اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا کہ انکی لاج رہ گئی۔ اور اس بات پر خوشی بھی ہوئی کہ اللہ عزوجل کی طرف سے انعام دیا گیا تب انہوں نے بابا فریدؒ سے کہا کہ اے فرید الدین مسعود آپ تو واقع ہی گنج شکر ہیں۔

روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ بابا فرید ؒ کے مرشد کامل حضرت قطب الدین بختیار کاکی نے تین دن کے لیئے ’’ طے‘‘ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ، اس روزہ کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ تیسرے دن مغرب کے وقت افطار کیا جاتا ہے، اس روزہ کو چلہ بھی کہا جاتا ہے۔اس کے لیئے گوشہ نشینی اور تنہائی اختیار کی جاتی ہے ۔ اس مقصد کے لیئے غزنوی دروازے کے پاس برج مینار میں بابا فرید نے تنہائی اختیار کی اور اللہ عزوجل کی عبادت میں مصروف رہے اور جب روزہ مکمل ہوا اور افطاری کا وقت ہوا تو انتظار کرنے لگے کہ غائب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ کیونکہ مرشد کامل کا کہنا تھا کہ کھانا بھی غیب سے دیا جائے گا ۔ اسی دوران وہاں پر ایک شخص کو پتہ چلا کہ ایک نوجوان درویش یہاں برج میں چلہ کش ہے۔ تو اس شخص نے سوچا کہ اس درویش کی خدمت کر کے دعائیں سمیٹ لوں تو وہ پر لطف کھانا لے کر بابا فریدؒ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؒ نے اللہ عزوجل کی طرف سے انعام سمجھ کر یہ کھانا تناول فرما لیا ۔تو وہ شخص خوشی خوشی واپس چلا گیا۔اس کے تھوڑی ہی دیر بعد بابا فرید ؒ کے شکم میں درد اٹھا اور قے آ گئی اور کھانے کا ایک زرہ بھی پیٹ میں نہ بچا۔تو آپ ؒ نے پانی پی کر گزارہ کیا اور تو آپ ؒ نے پانی پی کر ساری رات عبادت میں مصروف ہو گئے صبح مرشد کامل کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور رات کا سارا واقع گوش گزار کر دیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ آدمی جو کھانا لایا تھا وہ آدمی شراب اور بدکاری کا عادی ہے۔ تو اس کا لایا ہوا کھانا بھی بابا فریدؒ کے لئے کھانا مناسب نہ تھا اس لیئے وہ ہضم نہ ہوا تھا ۔ اب اس کھانے کی وجہ سے روحانی طاقت کم ہو گئی تھی ۔اب مرشد کامل نے کہا کہ مولانا ! ’’تمہیں طے کا ایک اور روزہ رکھنا ہو گا‘‘ اور ا س بار انسان کے لائے ہوئے کھانے کا انتظار نا کرنا اور غائب سے جو میسر ہو اسی سے افطار کر لینا۔
  
بابا فرید ؒ اپنے مرشد کامل کا حکم بجا لائے اور دوبارہ سے طے کا روزہ رکھ لیا ۔اور جب روزہ مکمل ہوا اور افطار کا وقت ہوا تو انتظار کرنے لگے کے کب غائب سے کچھ ظہور ہوتا ہے؟ اسی انتظار میں عشاء کا وقت ہو گیا تو آپ ؒ نے جسم کی تمام تر نقاہت کو نظر انداز کر کے پوری عاجزی اور توجہ سے نماز ادا کی ۔ آپکو اللہ عزوجل پر بھی پورا بھرسہ تھا اور ساتھ ساتھ مرشد کامل کی بات پر بھی یقین تھا کہ غائب سے زرور کچھ ظہور ہو گا ۔ اسی طرح وقت گزرتا گیا اور جب بھی شکم کی آگ زور پکڑتی تو آپ آنکھ کھول کر دیکھ لیتے کہ کچھ حاضر ہوا یا نہیں تو وہاں پر سوائے اندھیرے اور ویرانی کے کچھ نہ ملتا ۔

آدھی رات کے وقت جب برداشت جواب دے گئی کہ چھ دن سے ،مسلسل بھوک کی وجہ سے بہت نقاہت تھی تو بے اختیار اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے تو ہاتھوں پر کچھ چپک گیا .دیکھا تو سنگریزے تھے آپؒ نے وہ سنگریزے اٹھا کر منہ میں ڈالے تو کچھ مٹھاس کا احساس ہوا تو آپؒ نے وہ تھوک دیئے کہ کہں یہ بھی شرابی کے کھانے کی طرح فریب نہ ہُو۔ دُوبارہ پھر زمین پر ہاتھ مارے تو سنگریزے چھپکے اور جب انہیں منہ میں ڈالا تو شکر کا احساس ہوا تو آپؒ نے وہ اس طرح تھوک دئیے جیسے لقمہ حرام منہ میں چلا گیا ہو۔

تیسری بار بھی سنگریزے کھانے پر یہی واقع پیش آیا کہ سنگریزے شکر محسوس ہونے لگے تو بابا فرید ؒ نے اسے تحفہء غائب سمجھا اور اسکے ساتھ ہی آپ ؒ کو مرشد کامل بختیار کاکیؒ کے یہ الفاظ یاد آ گئے کہ ’’ اے مولانا فرید جو کچھ بھی غائب سے ظاہر ہو.اسی سے افطار کر لینا۔ دُوسرے دن بابا فرید ؒ مرشد کامل کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ؒ کو دیکھتے ہی پیرومرشد نے فرمایا ’’ مولانا فرید! روزہ مکمل ہو گیا۔۔۔؟

جواب میں بابا فرید نے عجیب و غریب واقع سنایا اور سن کر انتظار کرنے لگے کہ حضرت بختیار کاکیؒ اس واقع کی کیا توجیح پیش کرتے ہیں پیرو مرشد نے محبت آمیز نظروں سے بابا فرید ؒ کی طرف دیکھا اور بولے کہ’’ فرزند! اللہ عزوجل اپنے نیک اور فرمابردار بَندوں کو ایسی نشانیاں دیکھاتا ہے۔ وہ سنگریزے حقیقت میں سنگریزے ہی تھے مگر تمہارے لبوں کو چھو کر اپنی فطرت بدل دیتے تھے ۔اور یہ سب اللہ عزوجل کے حکم سے ظہور پزیر ہوا تھا ۔جب روح کثافت کا لباس اتار کر لطافت کی قباء پہن لیتی ہے تو اور مسلسل ریاضت سے نفس کی سرکشی ختم ہو جاتی ہے تو انسان دائمی حلاوت (ابدی مٹھاس) حاصل کر لیتا ہے سنگریزوں کا شکر بن جانا اسی شرینی کی وجہ سے ہے ۔جسے اللہ عزوجل نے اپنی رحمت سے تنہاری روح میں شامل کر دیا ہے ۔فرید تمہیں قدرت کا یہ خاص انعام مبارک ہو کہ آج سے تم ’’ گنج شکر‘‘ بن گئے۔

ایک بار پیرومرشد کی زبان سے یہ الفاظ کیا ادا ہوئے ۔۔۔ بابا فرید قیامت تک کے لیے گنج شکر بن گئے۔بابا فرید گنج شکر بن گئے اور اسکے بعد انکی زندگی میں بہت سے ایسے وا قعات ملتے ہیں۔ جن سے انکے گنج شکر ہونے کے فیض و برکات ظاہر ہوتے ھیں۔ انکی تفصیل پھر کبھی پیش کروں گی ۔انشاء اللہ عزوجل۔

نوٹ: یہ تحریر لکھنے کے لئے مدد خان آصف کی کتاب ’’ اللہ کے سفیر ‘‘  اُور دیگر کتب سے لی گئی ہے۔


یارب دَر فرید کے منگتوں کی خیر ہُو
اِنکے دیار پاک کے رَستوں کی خیر ہُو

خواجہ معین الدین نے دیکھا تو یہ کہا
اے بختیار تیرے مُریدوں کی خیر ہُو

خواجہ نظام الدین اور صابر علاوٗالدیں
گنج شکر کے شیر ہیں شیروں کی خیر ہُو

یہ عشق یہ جنون کِسی کو بھی نہ مِلا
آبِ وَضو کو آنکھ دی چشموں کی خیر ہُو

دیوانگی نے اُنکی ہمیں  اچھا بنادیا
مستی میں جو رہیں تیرے مستوں کی خیر ہُو

مجھ سے ہزاروں سگ ہیں تیرے نام پہ فِدا
تیرے فریدی تیرے فقیروں کی خیر ہُو

مُنکر نکیر نے مجھے دیکھا تُو یہ کہا
منگتا ہے تُو فرید کا تجھ سُوں کی خیر ہُو

ہے اُولیا کی دِل میں محبت اگر تیرے
زِندوں کی خیر ہُو تیرے مُردوں کی خیر ہُو

تُو لکھ رَہا ہے وارثی عشرت جو منقبت
جاگا تیرا نصیب نصیبوں کی خیر ہُو۔

عشرت اقبال وارثی

2 comments: