bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Thursday, 14 January 2016

Fatuhl Ghaib Makala # 1 to 16




Fatuhl Ghaib Part 1 , Makalma # 1-2


Fatuhl Ghaib Part 2 , Makalma # 3



Fatuhl Ghaib Part 3 , Makalma # 4



Fatuhl Ghaib Part 4 , Makalma # 5-6


Fatuhl Ghaib Part 5 , Makalma # 7



Fatuhl Ghaib Part 6 , Makalma # 8





Fatuhl Ghaib Part 7 , Makalma # 9-10




Fatuhl Ghaib Part 8 , Makalma # 11-12-13





Fatuhl Ghaib Part 9 , Makalma # 14-15-16





Tuesday, 12 January 2016

کھٹا میٹھا عشق





سب کُج اِتہوں مل جاندا اے۔ کیوں وَل ہُور میں آواں؟
کھایا جس دا عُمر میں ساری گیت اُسی دے گاواں۔

سوھنے سراج دا نقشہ ہر دَم دل دا پہرہ دیوے۔
کیوں نہ ایسے مُرشد توں میں واری صدقے جاواں۔

جے تُوں رُوٹھے , تینوں ماہی میں کیویں مناواں۔
باجھوں تیرے حال میں دل دَا کِس نُوں جا سُناواں۔

عشق دی امبڑی کھٹی میٹھی جلوے نال شہد دے۔
ہر دَم تیرے ذِکر تُوں مُرشد سانواں نُوں مہکاواں۔

وارثی عشرت جمدے ناہیں دُودھ بِنا مُرشد دے۔
شُکر خدا دا کرئیے ہَر دَم دِتیاں ٹھنڈیاں چھاواں۔

عشرت اقبال وارثی




میرے سرکار کا پسینہ




Meray Sarkar ka Paseena
Download

وجود عطر میں خوشبو تیرے پسینے سے.
جو مہکی گُل میں ہے وُہ بُو تیرے پسینے سے.

جلے وہ آگ میں دَستر کہاں سے وُہ بِستر
جو یاوری سے گیا چُھو تیرے پسینے سے

مِلی ہے چھینٹ جِسے وُہ ہُوا زمانے میں.
رضا و رُومی کا پَرتو تیرےپسینے سے.

تیرے ہی ذکر سے ہر بزم بزم مہکائیں.
یہ اہلبیت سُو بہ سُو تیرے پسینے سے

یہ سیدہ ہیں طاہرہ ہیں  طیبہ زہرا
ملی ہے انکو سبھی ضُو تیرے پسینے سے

تھا کون اُنکی مثل پوچھیئے صحابہ سے.
جنہیں ہے عشق تیرے مُؤ تیرے پسینے سے
وَہی کریم تھے اخلاق کربلا میں عیاں 

وَہی مہک تھی چار سُو تیرے پسینے سے.
وُہ بُوتُراب کا مٹی سے چمٹ کر رہنا
وُہ لمسِ پا وُہ جستجو تیرے پسینے سے

جُدا کرے جو ابوبکر و عُمر عثماں کو
نہ پائے کچھ بھی وُہ عُدو تیرے پسینے سے

سراج و وَارث و غوث الورای کا صدقہ دو.
ملے پئے میرے باھو تیرے پسینے سے

تمہاری چشم کے فیضان سے ہے رنگِ چمن
چہار سُو میں کو بہ کُو تیرے پسینے سے

لحد میں وارثی عشرت بھی جھوم جائے گا
ملے کفن کیلئے جو تیرے پسنے سے


Monday, 11 January 2016

میرے سرکار کی زلفیں





اللہ اللہ کیا معطر ہیں تمہاری زلفیں
نکہتء شب کا سمندر ہیں تمہاری زلفیں

غلاف کعبہ نے لہرا کہ جنہیں چوم لیا
سیاہ وہ دلکش و دلبر ہیں تمہاری زلفیں

جہاں پہ طائر قدسی کے قدم جل جائیں
محوے پرواز وہاں پر ہیں تمہاری زُلفیں

کیا استعارے ہیں اچھے , یہ نجم اور قمر
کہ لیل و نجم کا محور ہیں تمہاری زُلفیں

نکلنا چاند کا شرماتے ہوئے بادل سے
مچلنا مثل جبیں پر ہیں تمہاری زلفیں

کتنا محمود کیا نام تک پکارا نہیں
یادِ والیل میں عنبر ہیں تمہاری زُلفیں


فقط سبب تھا یہی خالد کی فتوحاتوں کا

کہ تاج مَلک کے اندر ہیں تمہاری زلفیں

عشرت وارثی فیضان ہے یہ مُولائے رُوم
مثلٍ قرطاس پہ گوہر ہیں تمہاری زُلفیں

میرے سرکار کی بینی



الف کا راز عیاں بےظِہار بینی سے
نگاہِ شوق نے پایا قرار بینی سے

قمر گدائے ضیاء بار بار بینی سے
صبحِ کا نور تیری آشکار بینی سے

کّمِثلِ شمس و قمر کیسے استعارے بیاں؟
کوئی مثال نہیں طرحدار بینی سے

سقیم حال ہوں سرکار کرم فرمائیں
ملے طفیلِ عطا وضعدار بینی سے

میرے نصیب بھی ستواں ہو سرور عالم
نیاز و ناز ملے آبشارِ بینی سے

کرم کریماں ہو احباب پر میرے ذیادہ
اُنہیں بھی بھیک ملے رازدار بینی سے

میری نسل سے نہیں کوئی بے ادب گزرے
پئے حُسین و حَسن تاجدار بینی سے

کیا حور و غلماں, عرش اور فرش کا حصہ
ہے فیضیاب خلق حصہ دار بینی سے

کیا اب بھی کوئ گلہ وارثی عشرت باقی
رواں ہے قلم و سخن شاہکار بینی سے

Tuesday, 11 August 2015

عامل کامل ابو شامل (حوالگی) قسط 55.akas




بیٹا!!! اب پہریدار تلاش کرنے کا وقت آن پُہنچا ہے۔ کیوں کہ خزانے کا چرچا بُہت ذیادہ ہُوگیا۔ بچانے والوں نے اگرچہ خوب ساتھ نبھایا۔۔۔لیکن اب وقت آگیا ہے۔کہ،، اپنا ہاتھ کسی کے ہاتھ میں دے کر باقی کی سیڑھیاں بےفکری سے طے کرتے جاوٗ۔ کیونکر دھیان اگر سیڑھی پر ہُو۔تو اکثر کندھے پر موجود بار سلامت نہیں رہتا۔ اُور توجہ اگر بار پر رہے تو سیڑھی سے پاوٗں رپٹ جانے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ اِسلئے مسافت طے کرنے کیلئےکسی مشاق کوہ پیماکی ضرورت ضرور رہتی ہے۔ جو دشمن کو خوب پہچانتا ہُو۔ قذاق جس کی بہادری سے خوف کھاتے ہوں۔ جو پھسلن میں بھی قدم جماکر  ناصرف خود چل سکے بلکہ ہمسفر کو بھی نہ پھسلنے دے۔۔۔ جسے سمندر کی لہروں کے ارادوں کی خبر ہُو۔ جسے طغیانی اور طوفانوں سے لڑنے میں مزہ آتا ہو۔ جو تعداد کے بجائے جمعیت اور قوت یقین کا علم جانتا ہُوں۔


جو نہ صرف ٹھگوں کو پہچاننے والا ہُو۔ بلکہ قدم قدم پر اُنہیں مات دینے والا ہُو۔ ایسا ہی کوئی جانباز تمہیں آگے کی جانب کا رستہ دِکھا سکتا۔ تماش بین اور تماشہ گر ایسے رستے پر ہرگز نہیں چلتے جہاں جان کو خطرہ ہُو۔ بلکہ وُہ تو صرف نگاہوں کے جھپکنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہاں نگاہ جھپکی۔ وہاں شعبدہ تیار۔۔۔۔ میں ایک ایسے جانباز کو جانتا ہُوں۔ جسے باز پالنے کا بیحد شوق ہے۔

 اُور جو عقاب اُسکی تربیت کی بھٹی سے ایکبار گُزر جاتا ہے۔ اُسے کوئی سنار ناقص نہیں کہتا۔ اب فیصلہ تمہارے ہاتھ ہے۔ چاہو تو لڑجاوٗ۔ اور ہمیشہ کیلئے امر ہُوجاوٗ۔ وگرنہ کرگ کی جھپٹ کا انتظار کرو۔وہ گوشت کی تھیلی کو ذیادہ دیر تمہارے ہاتھ میں رہنے نہیں دےگی۔ بوڑھے شخص نے گفتگو رُوک کر کامل کے چہرے پر نظریں جمادیں۔۔۔۔۔۔۔مجھے منظور ہے! کامل نے پہلی مرتبہ لب کشائی کرتے ہُوئے اپنی رضامندی ظاہر کی۔میں خود بھی سیاحت کرتے کرتے اِس سیلانی زندگی سے اُکتا کربےحد تھک چُکا ہُوں ۔اُور اب یہی چاہتا ہُوں۔کہ،، باقی کا سفر بھول بھلیوں کے بجائے مقصد کی راہ پر سکون سے گُزار سکوں۔۔۔۔  سکون؟؟؟؟ بوڑھے شخص نے لفظ سکون سُن کر اتنا زوردار قہقہ لگایا۔جیسے کامل نے کوئی لطیفہ سُنادیا ہُو۔


اب  مزید پڑھ لیجئے۔

کیاہُوا بابا۔آپ ہنس کیوں رہے ہیں۔۔۔؟؟؟ بوڑھے شخص نے سنجیدگی سے کامل کے چہرے کو بغور دیکھا۔ جیسے اندازہ لگانے کی کوشش کررہا ہُو۔کہ،، کیا واقعی کامل اُسکی بات نہیں سمجھا ہے۔ یا یُونہی انجان بننے کی کوشش کررہا ہے۔۔۔ کچھ نہیں بیٹا! بس مجھے لفظ سکون پر ہنسی آگئی تھی۔ کیوں کہ عشق کی راہ میں سکون نام کی کوئی شئے نہیں ہُوتی۔ سکون تو  جمود کا دوسرا نام ہے۔ اور عرف میں جمود موت کو کہتے ہیں نا؟ اور جو مرجاتے ہیں۔وُہ بھلا عشق کی پرواز کا مزاہ کیا جانیں۔۔۔  البتہ جو موت سے پہلے مرجاتے ہیں۔ وہ ہمیشہ کیلئے اَمر ہُوجاتے ہیں ۔کامل علی ہونقوں کی طرح بوڑھے شخص کو دیکھ کر اثبات میں یُوں سر ہلانے لگا۔جیسے وُہ تمام باتوں کا مطلب اچھی طرح سے سمجھ گیا ہُو۔ حالانکہ اُسے ککھ سمجھ نہیں آئی تھی۔ اُس کے لئے تو یہ بات ہی بہت خُوش آئند تھی۔کہ،، وُہ کسی کامل رہنما سے مُلاقات کا شرف حاصل کرنے والا تھا۔ جو اسے زندگی کے اسرار سے واقف کردے۔۔۔

بوڑھا شخص اب خاموشی سے گاڑی میں بیٹھا کامل کی رہنمائی کررہا تھا۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں کار ملیر قبرستان کی جانب بڑھ رہی تھی۔ راستے میں ریلوے پھاٹک کے قریب سے گُزرتے ہُوئے بوڑھے شخص نے کامل کو  گھنی جھاڑیوں کے نذدیک گاڑی روکنے کا اشارہ کیا۔۔ گاڑی رُکتے ہی بوڑھا شخص چند خورد نما جھاڑیوں سے چند پھول توڑ کر پھر کار میں سوار ہُوگیا۔ اور گاڑی آگے کی جانب بڑھانے کا اِشارہ کرتے ہُوئے ایکبار پھر نیم دراز ہُوگیا۔


تھوڑی دیر بعد جب کار سنسان علاقے کے ایک تنہامکان کے سامنے سے گُزرنے لگی تو بوڑھے شخص نے منزل آجانے کا اعلان کرتے ہُوئے کامل کو حُکم دیا کہ گاڑی دیورا کے سائے میں پارک کردو۔ کامل گاڑی کو دیوار کے سائے میں کھڑی کرنے میں مصروف تھا۔جبکہ بوڑھا شخص مکان کی شمالی دیوار کیساتھ موجود چند کچی قبروں پر وُہ پھول جو راستے میں جھاڑیوں سے حاصل کئے تھے۔ بڑی عقیدت سے نچھاور کررہا تھا۔ کامل علی بھی خاموشی سے بوڑھے شخص کے قریب پُہنچ کر فاتحہ پڑھنے میں مشغول ہُوگیا۔ فاتحہ سے فارغ ہُوکر بوڑھے شخص نے کامل کو ایک قبر کی جانب اشارہ کرتے ہُوئے بتایا کہ، یہ میری والدہ منہاج بی بی کی تربت ہے۔اور دوسری قبر میرے مُرشد کریم اور والد صاحب، سید میاں میر شاہ، (رحمتہ اللہ علیہ)کی ہے۔ ۔۔۔ فاتحہ سے فارغ ہُونے کے بعد بوڑھا شخص اُس مکان کے اکلوتے دروازے کی جانب بڑھنے لگا۔ کامل بھی آہستہ روی سے دروازے کے سامنے پُہنچ گیا۔ مکان کا دروازہ کھلا ہُوا تھا۔

 جسکی وجہ سے تمام مکان کا اندرونی منظر صاف نظر آرہا تھا۔ یہ کوئی غالباً دو سو گز کا پلاٹ ہُوگا۔ جسکے ایک جانب ۲ کمرے دکھائی دے رہے تھے۔ جبکہ ایک حصہ بڑے درائینگ رُوم کی مانند تھا۔ لیکن اِسے ڈرائینگ رُوم سے ذیادہ آستانہ کہنا مناسب ہُوگا۔ کیونکہ یہاں دریاں صفوں کی صورت فرش پر موجود تھیں۔ جس پر کوئی دراز گیسو بُزرگ انتہائی سفید لباس و عمامہ زیب تن کئے بڑی عاجزی کیساتھ  تشریف فرما تسبیح میں مصروف تھے۔




بوڑھے شخص نے آہستگی سے لکڑی کے دروازے پر تین مرتبہ دستک دی۔اور پھر آستانے جیسی جگہ کی جانب بڑھنے لگا۔ دستک کی آواز سُن کر اُن بزرگ نے تسبیح پڑھتے ہوئے گردن گھما کر دروازے کی جانب دیکھا۔ اُور جونہی اُن بزرگ کی نگاہیں بوڑھے شخص کے چہرے سے ٹکرائیں۔اُن کے چہرے پر مسرت کے جذبات اُمنڈ آئے۔ اُور انہوں نے فوراً اپنی جگہ سے کھڑے ہُوتے ہُوئے والہانہ انداز میں صدا لگائی۔آہا! آج برادر ،، سید محمد میر،، آستانے تشریف لائے ہیں۔۔۔ کامل نے جب اُن بزرگ کے چہرے کی جانب دیکھا۔ تو اسے بھی ایک خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ سید محمد میر،، اور وُہ بزرگ نہ صرف ایک دوسرے کے ہمشکل تھے۔ بلکہ اُن کے قدوقامت میں بھی ذرہ برابر فرق نہیں تھا۔ ۔۔


بس اگر کوئی فرق تھا تو صرف اتنا کہ،، میاں محمد میر کا حلیہ ایک ایسے مسافر سے مشابہ تھا۔ جو مدت سے  زندگی کےاسفارمیں رات و دن بسرکررہا ہو۔ اور مسلسل اسفار کی مشقتوں نے اُس کے رنگ و رُوپ کو گہنا کر رکھ دیا ہُو۔ لباس کو پیوند زدہ ،اور بالوں کو گرد آلود کرڈالا ہُو۔ دونوں بزرگ کافی دیر تک ایک دوسرے سے بغلگیر رہے۔اچانک اُن بزرگ کی نگاہ کامل علی پر پڑی تو انہوں نے دریافت کیا۔۔ بردار ،، سید محمد میر،، یہ نوجوان آپ کے ساتھ ہیں۔؟ جی برادر گرامی ۔ یہ کامل علی ہے۔ ۔۔ایک عقاب کا بچہ جو اپنے نشیمن سے بچھڑ کر ،کرگسوں کے ہاتھ لگ گیا تھا۔ میں اِسے آپ کی خدمت میں لیکر حاضر ہُوا ہُوں۔تاکہ آپ اسکی نگہبانی کریں۔اور اسے بلند پرواز سے آگاہی دیں۔۔۔۔ اور کامل میاں یہ میرے بڑے بھائی ہیں ،، سید احمد میر،، دامت برکاتہم عالیہ۔جو میرے بھائی ہونے کیساتھ میرے مرشد کے خلیفہ بھی ہیں۔آگے بڑھو۔ اُور انکی دست بوسی کی سعادت حاصل کرو۔

کامل علی نے آگے بڑھ کر میاں سید احمد میر کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔تو کامل کو ایسے محسوس ہُوا۔جیسے وُہ ہاتھوں کے بجائے لطیف بادلوں کو چھونےکی کوشش کررہا ہُو۔ سید احمدمیر،، نے شفقت سے کامل علی کے سر پہ ہاتھ پھیر کر اُسے اپنے قریب بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے۔ سید محمد میر کو مخاطب کیا!برادر عقاب تو واقعی بہت عمدہ  نسل سےہے۔بس اپنی پرواز سے ناآشنا ہے۔آپ خود کیوں اسکی تربیت نہیں فرماتے؟؟؟۔

میاں صاحب آپ تو جانتے ہیں۔ کہ،، میں ٹہرا ایک سیلانی انسان آج یہاں ہوں تو کل کی کچھ خبر نہیں کہ،، کہاں جانا پڑے۔ اُور تربیت کیلئے اضطرار کیساتھ انہماک کی بھی اشد ضرورت پڑتی ہے۔اسلئے برائے مہربانی اِسے قبول فرمائیں۔ اور اپنی خاص نگاہ سے اسے  اپنے فیض کی بھٹی سے گُزار کر کندن فرمادیں۔ سید احمد میر کے استفسار پر سید محمد میر نے اپنی مجبوری بتاتے ہوئے عرض کیا۔

برادر گرامی آپ خوب جانتے ہیں۔کہ،، میں آپ کی کوئی خاہش کبھی رَد کر ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ مجھے بابا جان کی یہ نصیحت آج بھی یاد ہے۔ کہ،، بابا  جان نے فرمایا تھا۔ کہ،،احمد میر کی بقا محمد میر کی قربانیوں کی وجہ سے ہے۔ اِس لئے کوشش کرنا کبھی سیدمحمد میر آپکی کسی بات سے دلبرداشتہ نہ ہُو۔۔۔ برادر گرامی ! یہ تو بابا جان کی شفقت اور آپکی مہربانی ہے۔ جو آپ اِس طرح سُوچتے ہیں۔ ورنہ حقیقت یہی ہے۔ کہ آپکو جو بھی مقام عطا کیا گیا ہے۔ وُہ  اللہ کریم کا خاص فضل، آپکی استقامت اور بابا جان کی فیضان نگاہ کے سبب سے ہے۔چونکہ میری طبیعت میں سیلانی عنصر کی فروانی ہے۔ اسلئے میں نے بابا جان سے عرض کیا تھا۔کہ،، مسند و خلافت بڑے بھائی کو عطا فرمادیں۔کیونکہ میں  خود کو اِس ذمہ داری کا اہل نہیں پاتا۔اسمیں بھلا قربانی کی کیا  بات ہے۔۔۔ اچھا بہرحال آپ کامل علی کو قبول فرماکر مجھے اجازت مرحمت فرمادیں۔ تاکہ میں جو کام ادھورے چھوڑ کر  آیا ہُوں اُنکی تکمیل کی سعی انہماک سے کرسکوں۔

تو کیا آپ ابھی چلے جائیں گے؟ کیا ہی بہتر ہوتا کہ،، رات کا کھانا  اپنی بھتیجی اور بھابی کیساتھ تناول فرماتے۔ اور آج کی شب ہمارے ساتھ کچھ گزری یادوں کی تجدید میں بسر کرلیتے۔ سید احمد میر،،  نے مغموم لہجے میں استفسار کیا!!!۔ برادر گرامی میری اپنی بھی یہی خاہش ہے۔کہ،، کچھ ایسی راتیں بھی میسر آئیں جب میں آپکی قربت و نصائح سے لطف اندوز ہُوسکوں۔ لیکن آپ تمام معملات  مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ کہ،، ہمیں جو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اُسمیں سب سے بڑی رکاوٹ ہماری خواہشات و چاہت کی تمنا ہی ہے۔ لیکن میرا دِل کہتا ہے۔کہ،، وُہ کریم عزوجل ہمیں ساتھ وقت گزارنے کی توفیق بھی عطا فرمائے گا۔

مغرب کی نماز کے بعدسید محمدمیر،، زنان خانے  کے حصےمیں چلے گئے۔ اور تھوڑی دیر بعد ہی واپسی کے سفر پر روانہ ہوگئے۔ کامل علی نے عرض بھی کیاکہ،، میں آپکو چھوڑ آتا ہُوں۔لیکن حضرت سید احمدمیر،، نے مسکرا کر جواب دیتے ہُوئے فرمایا۔کہ سید محمد میر کو کہیں جانے کیلئے سواری کی حاجت نہیں ہے۔ یہ جہاں چاہیں پلک جھپکنے سے پہلے پُہنچ سکتے ہیں۔

جاری ہے۔

میرے لئے فی الحال تواتر سے لکھنا مشکل ہے۔ اسلئے میں کوشش کروں گا۔کہ فیس بُک کے پیج پر گاہے بگاہے پیراگراف کی صورت میں یہ کہانی لکھتا رہوں۔

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔



Saturday, 27 June 2015

عامل کامل ابوشامل (جاگ بنا دُودھ)قسط 54.akas



گُذشتہ سے پیوستہ۔

اگلے آٹھ دن بعد جب وُہ بچی دوبارہ  دَم کروانے اپنی والدہ کیساتھ  کامل کے گھرآئی تو اسکا رنگ ہی بدلا ہُوا تھا۔ اُس نے بتایا۔ کہ،، وہ خبیث اب اِسکے نذدیک نہیں آتا۔ پہلے دن اُس نے کافی دھمکیاں دیں۔ پھر منت ترلے کرنے لگا۔کہ،، اپنے گھر سے اِن لیمووں کو نکال دُو۔کیونکہ اِن سے چنگاری نکلتی ہیں۔جو میرے وجود میں آگ بھڑکادیتی ہیں۔ جبکہ میں تمہارے بغیر نہیں رِہ سکتا۔۔۔۔۔۔وُہ خواتین کامل کو  بے انتہا دُعاوں سے نواز رہی تھیں۔۔۔ جبکہ جاناں بھی کامل کو رشک کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔اِس واقعہ نے جہاں کامل کو اعتماد فراہم کیا تھا۔ تو دوسری جانب غیر محسوس انداز میں جنات کے ستائے ہُوئے مریضوں کی  آمد میں اضافہ کی وجہ سے اب ہفتے  کا کوئی دن نہیں بچا تھا۔ جب لوگ کامل سے علاج کیلئے رُجوع نہ کررہے ہُوں۔

اب مزید پڑھ لیجئے۔

تین سال کیسے گُزر گئے کچھ پتہ ہی نہیں چلا! وہی کامل علی جسے محلے والے بھی ٹھیک سے نہیں جانتے تھے۔ شہرت کی ایسی بلندی پر پہنچا کہ  پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا تک اُسکی  دھوم کا ڈنکا بجنے لگا۔ کیا بیوروکریٹس۔کیا سیاستدان۔فلمی  ستارے، عدلیہ کے نمائندے، فوجی افسران  غرض ہر  ایک شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سبھی افراد  کامل کی محبت کے اسیر ہُوتے چلے گئے۔۔۔۔ لیکن اتنی بھیڑ ہونے کے باوجود بھی کامل علی کے اندر ایک عجیب سی بےچینی بڑی خاموشی سےاپنی جگہ بنائے چلی جارہی تھی۔۔۔۔ حالانکہ نہ تو  وُہ آج ابوشامل کے سہاروں  کا محتاج تھا۔اُور نہ  ہی دوبارہ سلطان تبریزی  نے اُسکی زندگی میں کوئی دستک دی تھی۔ لیکن نجانے کامل علی کو یہ وہم کیوں کھائے جارہا تھا۔کہ،، اچانک ایک دِن یہ کیفیت بھی  ختم ہُوجائے گی۔اُسے کبھی یہ بات بھی سمجھ نہیں آسکی۔کہ،، کسطرح وُہ ایسے مریضوں کا علاج بھی کرنے میں کامیاب ہُوجاتا ہے۔جنہیں زمانے بھر کے عامل کامل کا دعویٰ کرنے والے بھی لاعلاج قرار دے چُکے ہُوتے ہیں۔

اُسکی بےچینی اُور بیقراری پر  بلاآخرایک شام قدرت کو رِحم آہی گیا۔۔۔ وُہ حسب معمول اُس شام گھر جانے کیلئے آفس سے نکلا ہی تھا۔۔۔ کہ اُسکی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑی۔ جسکی عمر قریباً ۷۰ برس کے قریب ہُوگی۔وُہ بوڑھا شخص جسمانی طور پر کافی صحت مند دکھائی دے رَہا تھا۔ گھنی زُلفوں اُور داڑھی کے بالوں میں سفیدی سے ذیادہ سیاہ بال چمک رہے تھے۔ ۔۔  سفید قمیص شلوار پر چیک  کا کُوٹ بھی بوڑھے شخص کے رُعب میں اضافہ کررہا تھا۔ جب کہ،، ہاتھ کی انگلیوں میں دبی سگریٹ کو وُہ  بار باراپنے ہونٹوں سے لگا کر سفید دھویں کے مرغولے فضا میں بکھیر رہا تھا۔

اُسی آنکھوں میں بلا کی چمک موجود تھی۔جو کامل علی کو اپنی جانب متوجہ کئے ہُوئے تھی۔ وُہ شخص کہیں سے بھی گداگر (بھکاری) دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ مگر نجانے کیوں کامل علی کا ہاتھ جیب میں رینگ کر پچاس کے نُوٹ کو باہر کھینچ لایا تھا۔ بے اختیاری  طور پر کامل علی نے وُہ نوٹ بوڑھے شخص کی جانب بڑھادیا۔۔۔ بوڑھے شخص  کی جگمگاتی آنکھیں  پچاس کا نُوٹ دیکھ کر  غضب سے سُرخ ہُونے لگی تھی۔ اُس نے کامل علی کو متوجہ کرتے ہُوئے نہایت حقارت سے جواب دیا۔۔۔۔ اپنی اُوقات میں رِہ تماشہ گر۔۔۔ تیری ابھی اتنی اُوقات نہیں ہے۔کہ،، تو میری جھولی میں کچھ ڈال سکے۔


 کامل علی نے کھسیانی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہُوئے  اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ  کر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔۔۔ جناب میں  اپنے عمل پر شرمندہ ہُوں۔ اُور آپ سے معافی چاہتا ہُوں۔۔۔لیکن آپ نے مجھے تماشہ گر کیوں کہا تھا۔حالانکہ میں کوئی تماشہ گر نہیں ہُوں۔۔۔ لوگوں کی آنکھوں میں دُھول جھونک کر۔اور اپنے چہرے پر عامل کامل کا نِقاب چڑھا کر تم جو لوگوں کیساتھ خود کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کررہے ہو۔ اُسکے بعد بھی تُم اِس خوش فہمی میں مُبتلا ہُو کہ،، تُم تماشہ گر نہیں ہُو۔۔۔ بوڑھے شخص نے اپنے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجاتے ہُوئے اپنی گفتگو ختم کی۔۔۔

حضور !!! جب آپ سب کچھ جانتے ہیں تو آپکو یہ بھی معلوم ہُوگا۔ کہ،، میں اِس تالاب میں اپنی مرضی سے نہیں اُترا ہُوں۔بلکہ مجھے کسی نادیدہ ہاتھ نے دھکا دیکر اِس تالاب میں پھینک دیا ہے۔۔۔ جسکی وجہ سے میرے اندر ایک عجیب سی بےچینی پینپنے لگی ہے۔۔۔کیا آپ مجھے کوئی نصیحت کرنا چاہیں گے۔یا کوئی ایسا مشورہ دیں گے۔کہ،، میں اِس نقاب کیساتھ اپنی بےچینی سے  بھی چھٹکارہ حاصل کرسکوں۔۔۔

اگر تمہاری رُوح اِس کھیل تماشے سے واقعی بیزار ہُونے لگی ہے تو اسکا مطلب ہے۔کہ،، اب واقعی نصیحت کا وقت آچکا ہے۔ اسلئے اب جو کچھ میں تمہیں کہنے لگا ہُوں اُسے بہت غور سے سُننا۔ اور اگر ممکن ہُو تو اپنی ذات کے سحر سے نکل کر اپنے اندر جھانکنے کی کوشش کرو تاکہ تم فلاح پاسکو۔۔۔ بوڑھے شخص نے ایک ہنکارہ بھر کر اپنا گلا صاف کیا۔اُور آگے بڑھ کر کامل کی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر براجمان ہُوگیا۔ کامل کو بوڑھے شخص کی اِس حرکت پر ذرہ بھی اچھنبا  نہیں ہُوا کہ،، کسطرح اُس بوڑھے شخص نے گاڑی کے لاک کو اپنی انگلی کی مدد سے بےضرر کرڈالا تھا۔۔۔

کہتے ہیں کوئی پہاڑ پر چڑھ جاتا ہے۔اُور کوئی پستی میں اُتر جاتا ہے۔ لیکن وقت کسی کیلئے ٹہرتا نہیں ہے۔ وُہ لوگوں کو سبق دیتا ہُوا آگے کی جانب بڑھتا رہتا ہے۔ اب یہ وقت کیا ہے؟ کیوں ہے۔؟ کہاں ہے۔؟ اُور کہاں نہیں ہے؟ یہ باتیں بھی تو خود میں بیشمار سوالات سمیٹے ہُوئے ہیں۔ اللہ کریم جسکے لئے چاہتا ہے۔ ادرک کے دروازے کھول دیتا ہے۔ پھر وُہ وقت کی قیمت  اور اسکی ماہیت کو خوب سمجھ لیتا ہے۔ لیکن سب سے پہلے انسان کو خود کو سمجھنا پڑتا ہے۔ جو خود کو پہچان لیتا ہے۔ اُسے آب حیات کا پیالہ تلاش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جسے ،،میں اُور تو،، کا فارمولہ سمجھ آجاتا ہے۔ اُسے پھر کسی رستہ دِکھانے والے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اندر ہی اندر تمام راستے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن ایک پہریدار کی ضرورت البتہ ہمیشہ رہتی ہے۔ جو چور ڈاکووں سے ہمیشہ خزانے کو بچائے رکھتا ہے۔

اِس لئے بیٹا!!! اب پہریدار تلاش کرنے کا وقت آن پُہنچا ہے۔ کیوں کہ خزانے کا چرچا بُہت ذیادہ ہُوگیا۔ بچانے والوں نے اگرچہ خوب ساتھ نبھایا۔۔۔لیکن اب وقت آگیا ہے۔کہ،، اپنا ہاتھ کسی کے ہاتھ میں دے کر باقی کی سیڑھیاں بےفکری سے طے کرتے جاوٗ۔ کیونکر دھیان اگر سیڑھی پر ہُو۔تو اکثر کندھے پر موجود بار سلامت نہیں رہتا۔ اُور توجہ اگر بار پر رہے تو سیڑھی سے پاوٗں رپٹ جانے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ اِسلئے مسافت طے کرنے کیلئےکسی مشاق  کوہ پیماکی ضرورت ضرور رہتی ہے۔ جو دشمن کو خوب پہچانتا ہُو۔ قذاق جس کی بہادری سے خوف کھاتے ہوں۔ جو پھسلن میں بھی قدم جماکر ،ناصرف خود  چل سکے بلکہ ہمسفر کو بھی نہ پھسلنے دے۔۔۔ جسے سمندر کی لہروں کے ارادوں کی خبر ہُو۔ جسے طغیانی اور طوفانوں سے لڑنے میں مزہ آتا ہو۔ جو تعداد کے بجائے جمعیت اور قوت یقین کا علم جانتا ہُوں۔

جو نہ صرف ٹھگوں کو پہچاننے والا ہُو۔ بلکہ قدم قدم پر اُنہیں مات دینے والا ہُو۔ ایسا ہی کوئی جانباز تمہیں آگے کی جانب کا رستہ دِکھا سکتا۔ تماش بین اور تماشہ گر ایسے رستے پر ہرگز نہیں چلتے جہاں جان کو خطرہ ہُو۔ بلکہ وُہ تو صرف نگاہوں کے جھپکنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہاں نگاہ جھپکی۔ وہاں شعبدہ تیار۔۔۔۔ میں ایک ایسے جانباز کو جانتا ہُوں۔ جسے باز پالنے کا بیحد شوق ہے۔ اُور جو عقاب اُسکی تربیت  کی بھٹی سے ایکبار گُزر جاتا ہے۔ اُسے کوئی سنار ناقص نہیں کہتا۔ اب فیصلہ تمہارے ہاتھ ہے۔ چاہو تو لڑجاوٗ۔ اور ہمیشہ کیلئے امر ہُوجاوٗ۔ وگرنہ کرگس کی جھپٹ کا انتظار کرو۔وہ گوشت کی تھیلی کو ذیادہ دیر تمہارے ہاتھ میں رہنے نہیں دےگی۔ بوڑھے شخص نے گفتگو رُوک کر کامل کے چہرے پر نظریں جمادیں۔۔۔۔۔۔۔مجھے منظور ہے! کامل نے پہلی مرتبہ لب کشائی کرتے ہُوئے اپنی رضامندی ظاہر کی۔میں خود بھی سیاحت کرتے کرتے  اِس سیلانی زندگی سے اُکتا کربےحد تھک چُکا ہُوں۔اُور اب یہی چاہتا ہُوں۔کہ،، باقی کا سفر بھول بھلیوں کے بجائے مقصد کی راہ پر سکون سے گُزار سکوں۔۔۔۔ سکون؟؟؟؟ بوڑھے شخص نے لفظ سکون سُن کر اتنا زوردار قہقہ لگایا۔جیسے کامل نے کوئی لطیفہ سُنادیا ہُو۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


Friday, 26 June 2015

عامل کامل ابوشامل (تیرنشانے پر) قسط 53.akas


گُذشتہ سے پیوستہ۔

کامل جاناں کی اِس حرکت پر بِھنَّا کر رِہ گیا۔۔۔۔ بات صرف دَم کی ہُوتی تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔۔۔لیکن  دَم کرنا کچھ اُور بات تھی۔ اُور جنات سے مقابلہ کرنا کچھ اُور بات تھی۔پھر جنات بھی ایسے کہ،، جو شہر بہ شہر کے عاملوں کے قبضے نہیں آرہے ہُوں۔اب ابو شامل تو موجود نہیں تھا۔ جو جنات کی پھینٹی لگا کر اُنہیں بھاگنے پر مجبور کردیتا۔  کامل آفس سے گھر کیلئے نکل تو گیا تھا۔لیکن اُسے جاناں پر سخت غصہ آرہا تھا۔ جس نے بےوقوفی کی انتہا کردی تھی۔ بندہ کم از کم پوچھ ہی لیتا ہے۔کہ،، علاج کرنا ہے یا نہیں۔یا کیا آپ جنات کا علاج کرسکتے ہیں یا نہیں۔ یہاں تو اس خُدا کی بندی نے نا صرف پڑوسن کو دعوت دے ڈالی تھی بلکہ اُسے یقین بھی دلایا تھا۔ کہ جنات کی اب خیر نہیں۔ حالانکہ کامل کو اپنی خیر خطرے میں دکھائی دے رہی تھی۔ وُہ دِل ہی دِل میں ،، یا لجپال بیڑہ کردے پار،، کی صدائیں لگاتا چلا جارہا تھا۔ کہ،، کسی صدا دینے والے نے صدا دی۔  لجپال کو پکارا ہے۔ ہے تو جا ! دَم دستگیر تیری حفاظت کریں گے۔

کامل  ناچاہتے ہُوئے بھی گھر کی جانب   سُست رفتاری سے بڑھ رَہا تھا۔ اگرچہ دِل کے نہاں خانے سے کوئی  بار بار پُکار کر اُسے کامیابی کی نوید سُنارہا تھا۔ لیکن کامل شائد اِن آوازوں کو سُننا ہی نہیں چاہتا۔ ۔۔۔ اے کاش  ہمیشہ کی طرح آج پھر سے ابوشامل کی انٹری ہُوجائے۔ یا پھر  پڑوسن انتظار کی کوفت سے گھبرا کر واپس چلی جائے۔نجانے کتنےہی اے کاش کے پنچھی کامل کے ذہن میں اُڑان بھرتے رہے۔یہاں تک کہ،، کامل اپنے گھر میں داخل ہُوگیا۔ اُور جونہی اُسے ڈرائنگ رُوم سے خواتین کی آواز سُنائی دِی۔تو کامل کی پیشانی پر پسینے کے قطرات جگمگانے لگے۔  سلام کرتے ہُوئے کامل ڈرائینگ رُوم میں داخل ہُوا۔تو اِسے تین خواتین دِکھائی دیں۔ ایک نوجوان لڑکی تھی۔جو کافی نڈھال نظر آرہی تھی۔جسے اُسکی والدہ نے سنبھالا ہُوا تھا۔جبکہ تیسری خاتون  شائد لڑکی کی دادی تھی۔۔۔کامل  کمرے کاسرسری جائزہ لینے کے بعد صوفے پرنظریں جھکا کر بیٹھ گیا۔  

جاناں نے اُن خواتین کا تعارف کامل سے کرواتے ہُوئے بتایا۔کہ،، لڑکی ماشا اللہ عالمہ کا کورس کررہی  تھی۔  لیکن پچھلے چند ماہ سے عجیب حرکتیں کررہی ہے۔اگرچہ لڑکی کے گھر والے تعویزات و عملیات پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی بچی کی خاطر ہر ایک تعویز و عملیات کرنے والے کے پاس جاچکے ہیں۔لیکن کہیں سے کوئی افاقہ نہیں ہُوا۔۔۔۔ کامل کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔کہ،، وُہ کیا کہے اُور کرے۔۔۔۔ کیوں کہ جاناں نے اپنی ناسمجھی  کی وجہ سے  کامل کے ساتھ اپنی بھی عزت داوٗ پر لگادی تھی۔۔۔۔۔ رفتہ رفتہ کامل کے دِل میں ایک خیال قرار پکڑنے لگا۔سلطان تبریزی کے دیئے ہُوئے لیمن کی برکات وُہ دیکھ ہی چکا تھا۔۔۔ اسلئے ایک خیال کے تحت جاناں کو مخاطب کرتے ہُوئے  کامل نےاستفسار کیا۔ جاناں  گھر میں لیمن ہیں۔؟؟؟  جی ہیں تو کتنے چاہیئں؟ جاناں کے استفسار پر کامل نے کچھ سُوچتے ہُوئے کہا۔ایسا کرو پانچ لیمن  فریج سے نکال لاوٗ۔ اُور  کوشش کرنا کہ،، لیمن تازہ ہُوں۔

کامل کو جتنی دعائیں آتی تھیں۔ وُہ تمام اُس نے زیر لب پڑھ کر  لیمن پر دَم کردی۔آخری لمحات میں وُہ کچھ جذباتی سا ہُوکر دِل میں دُعا کرنے لگا۔ اے بادشاہوں کے بادشاہ مجھے تو کچھ نہیں آتا۔ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں ہے۔ کہ،، کُون اِن خواتین کو میرے در تک لایا ہے۔ اُور کیوں لایا ہے۔ تو اِنکے حُسن ظن کی لاج رکھ لے۔اُور جو تجھے پسند ہیں۔ اُنکے وسیلے سے انہیں شفا عطا کردے۔یا انکے دِلوں کو میری جانب سے پھیر دے۔ دُعا سے فارغ ہُوکر کامل نے انگلی کے پُوروں پر گیارہ مرتبہ آہستہ سے  ،، یا لجپال بیڑہ کردے پار،، کا ورد کیا اُور اُن لیمن میں سے ایک لیمن اُس نوجوان بچی کو تھماتے ہُوئے کہا بیٹا اِس لیموں کو ایک ہفتہ اپنے ساتھ رکھنا۔اور ایک لمحے کیلئے بھی اِسے خود سے جُدا نہیں کرنا۔ جبکہ چار لیموں گھر  کے چار کونوں میں رکھے جائیں گے۔ کامل جو کچھ کہہ رہا تھا۔ اُسے خود سمجھ نہیں آرہی تھی۔ کہ،، وُہ ایسا کیوں کہہ رہا ہے۔اُور  کس لئے کہہ رہا ہے۔لیکن کامل کا اعتماد اب کافی حد تک بحال ہُونے لگا تھا۔

اچانک وُہ نوجوان لڑکی جو ابھی تک بہت نڈھال نظر آرہی تھی۔۔۔ اچانک  اُس لیموں کو فضا میں ایسے لہرانے لگی جیسے وُہ اُس لیموں سے کسی کو ڈرانے کی کوشش کررہی ہُو۔ پھر وُہ خوشی سے چلاتے ہُوئے اپنی ماں کو مخاطب کرکے کہنے لگی۔ماں وُہ  ڈر کربھاگ رہا ہے اس لیموں سے!!!۔ کُون بھاگ رہا ہے بیٹا۔؟؟؟ وہی ماں۔ جس نے اتنے عرصے سے میری زندگی حرام کی ہُوئی ہے۔اُور میرے جسم کو کھلونا بنالیا تھا۔۔۔ کامل نے شفقت سے اُس بچی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہُوئے کہا۔ان شاٗ اللہ اب تمہیں کوئی نہیں ستائے گا۔ بس اِس لیموں کو حفاظت سے رکھنا۔ کیونکہ یہ لیموں تمہارے لئے ہے ورنہ شیطانوں کیلئے کسی ایٹم بم سے کم نہیں۔ ہفتہ دس دِن بعد پھر تشریف لے آیئے گا۔کامل کی خود سمجھ نہیں آرہا تھا۔ کہ،، وُہ ایسی باتیں کیوں کہہ رہا ہے۔۔۔۔

اگلے آٹھ دن بعد جب وُہ بچی دوبارہ  دَم کروانے اپنی والدہ کیساتھ  کامل کے گھرآئی تو اسکا رنگ ہی بدلا ہُوا تھا۔ اُس نے بتایا۔ کہ،، وہ خبیث اب اِسکے نذدیک نہیں آتا۔ پہلے دن اُس نے کافی دھمکیاں دیں۔ پھر منت ترلے کرنے لگا۔کہ،، اپنے گھر سے اِن لیمووں کو نکال دُو۔کیونکہ اِن سے چنگاری نکلتی ہیں۔جو میرے وجود میں آگ بھڑکادیتی ہیں۔ جبکہ میں تمہارے بغیر نہیں رِہ سکتا۔۔۔۔۔۔وُہ خواتین کامل کو  بے انتہا دُعاوں سے نواز رہی تھیں۔۔۔ جبکہ جاناں بھی کامل کو رشک کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔اِس واقعہ نے جہاں کامل کو اعتماد فراہم کیا تھا۔ تو دوسری جانب غیر محسوس انداز میں جنات کے ستائے ہُوئے مریضوں کی  آمد میں اضافہ کی وجہ سے اب ہفتے  کا کوئی دن نہیں بچا تھا۔ جب لوگ کامل سے علاج کیلئے رُجوع نہ کررہے ہُوں۔اور فائدہ حاصل کرنے والوں کی پبلسٹی نے کامل کی مصروفیت میں کئی گُنا اضافہ کردیا تھا۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


Wednesday, 24 June 2015

خُدا کی تلاش پارٹ ۲




لُوگ کہتے ہیں،کہ،، بیٹیاں خُدا کی رحمت ہوتی ہیں۔۔۔مگر لُوگ ہمیشہ صرف کہتے  ہیں۔ اُور کہہ کر گُزر جاتے۔ لیکن اللہ کریم نے مجھے جو حساس قلب و ذہن عطا فرمایا ہے۔ تو یہ اُس کریم کا ہی مجھ پر خاص فضل ہے۔کہ،، میں صرف سُنتا اُور لکھتا ہی نہیں ہُوں۔ بلکہ جب بھی میں کوئی بات سُنتا ہُوں۔تو اُس بات کی دلیل کیلئے میرا قلب و ذہن ایکدم مستعد ہُوجاتا ہے۔ اِسلیئے جب میں نے  پہلی مرتبہ یہ بات سُنی کہ،، بیٹیاں اللہ کی رحمت ہُوتی ہیں،، تو میرا ذہن اِس بات کی دلیل  جاننےکیلئے پُرشوق ہُوگیا۔لیکن سچی بات یہی ہے۔کہ،، کم سنی کی وجہ سے میرا ذہن اِس سَوال کے جواب سے یکسر نابلد تھا۔ پھر جب میرے گھر اللہ کریم کی عطا سے پہلی اُولاد بیٹی کی صورت جلوہ گر ہُوئی۔تو اِس سوال  کے جواب کی تلاش شدت  اختیار کرنے لگی۔کہ،، آخر کیوں بیٹیاں اللہ کی رحمت ہُوتی ہیں۔

اِس سوال کیساتھ ایک بات بہرحال دِل میں راسخ ہُوتی چلی گئی۔کہ،، اگر بیٹیاں اللہ کریم کی رحمت ہیں۔ تو رحمت،، رحیم کے قریب کرنے کا باعث ہونی چاہیئے۔ پھر میرے گھر ایک اُور بیٹی کا جنم ہُوا۔ لیکن دوسری بیٹی کی زندگی نہایت مختصر ثابت ہُوئی۔ وُہ اپنی محبت کا دیپ میرے دِل میں جلا کر صرف ایک سال میں رخصت ہُوگئی۔ مجھے ہمیشہ سے بیٹیاں بُہت پسند ہیں۔ شائد اِسی وجہ سے دوسری بیٹی کے وصال کے بعد  تیسری اُور چوتھی بیٹی سے  بھی نوازا  گیا۔ ہر بیٹی کی پیدائش کے بعد ایک بیٹا بھی عطا کیا گیا۔ یُوں چاربیٹیوں  کیساتھ انعام میں تین بیٹے بھی عطا کیئے گئے۔

جن  احباب نے۲۰۱۰ میں میری تحریر خُدا کی تلاش خُدا کی تلاش کو پڑھا ہُوگا۔ وُہ بخوبی اِس بات سے بھی آگاہ ہُونگے۔کہ،، میری اِس تحریر کا جنم میری چار سالہ بیٹی جائزہ علی کی گفتگو سے  ہی ممکن ہُوا تھا۔ اُور یہ میری واحد تحریر ہے۔ جسے میں خُود بھی بیسیوں مرتبہ پڑھ چُکا ہُوں۔لیکن پھر بھی  اِس تحریر کو میں جب بھی پڑھتا ہُوں مجھے کچھ نہ کچھ مہکتے پھول اِس تحریر سے ضرور ملتے ہیں۔ جو تجدید وفا کیلئے میری خُوب معاونت کرتے ہیں۔جائزہ علی اب خیر سے نو برس کی ہُوچکی ہے۔اُور سچی بات یہی ہے۔کہ،، خُدا کی تلاش پارٹ ۲ لکھنے کا سہرا بھی جائزہ علی کی گفتگو کا مرہون منت ہے۔ اُس کی آج کی گفتگو نے مجھ پر  اُفک پر جگمگاتے خُورشید کی مانند خوب واضح کردیا ہے۔کہ،، واقعی بیٹیاں خُدا کی رحمت ہیں۔ کیونکہ جائزہ علی کی گفتگو مجھے ہمیشہ اپنے رحیم و کریم پروردیگار سے قریب کرنے کا ذریعہ ثابت ہُوتی ہیں۔ اِس لئے اب مجھے اپنے سوالوں پر کوئی ابہام نہیں ہے۔ میں برملا دلیل سے ثابت کرسکتا ہُوں۔کہ،، واقعی اللہ کریم نے جتنا زرخیز معصوم  ذہن بیٹیوں کو عطا کیا ہے۔وُہ واقعی خُدا کی رحمت کہلائے جانے کی اہل ہیں۔

گُذشتہ شب معلوم ہے  نو برس کی جائزہ نے مجھ سے کیا کہا۔۔۔ یقین جانئے جب میں آپکو اُسکے الفاظ بتاوٗں گا۔ تو آپ بھی اُس کی خُدادادقابلیت پر عش عش کر اُٹھیں گے۔جس وقت میرا سات برس کا بیٹا  احمد رضامجھ سے جنت کے متعلق کرید کرید کر سوالات کررہا تھا۔ جائزہ علی  خاموشی سے ہم دُونوں کی گفتگو نہایت انہماک سے سُن رہی تھی۔لیکن جونہی احمد رضا کے سوالات میں ایک معمولی سا تعطل (بریک )آیا۔جائزہ علی نے ذہانت سے اپنا سوال میرے دماغ میں اُنڈیل دیا۔جسے سُن کر میں حیرت سے اُسکے چہرے کو تکتا رِہ گیا۔ وُہ مجھ سے پُوچھ رہی تھی۔کہ،، بابا جب ہم اِس دنیا میں بُور  ہو جاتے ہیں (اُکتا جاتے ہیں) تو ہم باغات کی سیر یا جھولے جھولنے کیلئے نکل جاتے ہیں۔ لیکن پھر جلد ہی ہمارا دِل اُن باغات کی خوبصورتی اُور جھولوں کی محبت سے بھر جاتا ہے۔ اُور ہمیں پھر سے گھر کی یاد ستانے لگ جاتی ہے۔۔۔تو بابا  جان پھر  مستقل جنت میں قیام کی وجہ سے  جنت کے مزے سے ہمارا دِل کیوں نہیں اُکتائے گا۔۔۔؟؟؟کیونکہ انسان ذیادہ دیر تک ایک جیسے ماحول میں خوش نہیں رِہ سکتا۔ اُور اگر واقعی جنت میں بھی ہمارے ساتھ ایسا کچھ ہُوا۔تو ہم آخر کہاں جائیں گے۔کہ،، ہماری اکتاہٹ ختم ہُوسکے؟؟؟

میں آپ سے سچ کہتا ہُوں۔ جب بھی مجھ سے لُوگ سوالات کرتے ہیں ۔تو میں چند سیکنڈ کی تاخیر بھی برداشت نہیں کرپاتا۔ اُور اکثر فوراً ہی بولنا شروع کردیتا ہُوں۔لیکن جائزہ علی کا یہ سوال سُن کر مجھ پر کتنی ہی دیر سکتہ سا طاری ہُوگیا تھا۔ پھر میں نے خُود کو سنبھالا۔ اُور اُسے سمجھانے لگا۔کہ،، ہمیں اکتاہٹ ہمیشہ تشنگی کی وجہ سے پیش آتی ہے۔اُور جنت میں نعمتوں کی اتنی ذیادہ ورائٹی ہُوگی ۔کہ،، اکتاہٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہُوتا۔کیونکہ وہاں عطائے ربانی انسانی ذہن سے اسقدر ذیادہ ہیں۔ کہ،،وہاں تک انسان کے ذہن کی رسائی  ممکن ہی نہیں ہے ۔ جنت کے باغات، وہاں موجود خیمے ، محلات، رنگ و نور کا سمندر، چہکتے پرندے، مہکتے پھول ، جھرنے، آبشاریں ، مزیدار شربتوں کی مختلف نہریں،   زمین پر موجود مخملی گھاس،  حُور وغلماں کے حسین چہرے  ، سُواری کے لئےبرق رفتار بُراق ،اور بازاروں کی رونقیں انسان کو کہاں بُور ہُونے دیں گی۔؟ پھر وہاں انسانوں میں حسد  کا مادہ  بھی نہیں ہُوگا۔ کہ،، جسکی وجہ سے  دل میں حرص پیدا ہُوسکے۔!!!  مجھے لگا تھا۔کہ،، شائد جائزہ علی میری گفتگو سے متاثر ہُوکر خاموش ہُوجائیگی۔ لیکن اُسے چہرے پر صاف لکھا تھا۔کہ،، وُہ میرے جواب سے ہرگز مطمئین نہیں ہے۔

وُہ کافی دیر تک میرے جواب پر غور کرتی رہی۔جیسے میری گفتگو میں کوئی سِقم تلاش کررہی ہُو۔۔۔ لیکن شائد وُہ اتنی پیچیدہ گفتگو کیلئے فوری طور پر تیار نہیں تھی۔ میرا خیال تھا۔کہ،، اب وُہ ضرور ہتھیار ڈال دے گی۔ لیکن وُہ تو میرے لئے رحمت ہے۔ اُور بھلا رحمت قُرب دیئے  بغیر کہاں ٹہرتی ہے؟ اُس نے اگلا سوال قائم کردیا۔ جس نے مجھے مزید حواس باختہ کردیا۔۔۔ بابا  جان کیا آپ اُور ساری دُنیا کے انسان صرف اسلئے اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔تاکہ ،، ہم سب کو آخر میں صرف جنت مِل جائے؟؟؟ اُور آپ جنت میں ہمیشہ مزے کرتے رہیں۔؟

جائزہ علی کے اِس سوال نے  یقین جانئے ایک مرتبہ مجھے پھر سے جھنجھوڑ ڈالا تھا۔۔۔ میں دِل میں جائزہ علی کے سوال پر جتنا غور کرتا جارہا تھا۔ مجھے اپنا وجود آئینہ دِل میں ایک منافق کی  شکل دِکھارہا تھا۔۔۔ ایک ایسا منافق جو  کبھی دِل میں اُور کبھی زُبان حال سے پُکارتا رہتا ہے۔کہ،، مجھے اپنے پروردیگار کی محبت و رضا کے سِوا کچھ نہیں چاہیئے۔ لیکن جانے انجانے میں  بار باردُنیا کے جال میں خوشی سے پھنسا رہتا ہے۔ اُور اپنے دِل کو جھوٹے دِلاسے دیتا رہتا ہے۔کہ،، بس آج دُنیا کی محبت میں اُور  جی لُوں۔۔۔ کل سے دُنیا کی محبت کو خیرباد کہہ دُونگا۔ لیکن رات کا بچا ہُوا خاہشات کا بیج صبح تک پھر سے ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہُوتا ہے۔۔۔۔۔ بابا جانی کہاں کھو گئے۔؟  جائزہ علی نے  شائدمیری خاموشی کی طوالت  سے  بیزار  ہوکر سوال کیا۔۔پتہ نہیں کیوں مجھے  ایسا لگا جیسے جائزہ علی مجھ سے کہہ رہی ہُو۔کیوں بابا جانی آپ تو بڑے فلسفی بنتے ہیں نا!!! لیکن آج آپ  ایک بچی کے سوال پر کتنے بےبس دکھائی دے رہے ہیں۔

کہیں نہیں بٹیا۔۔۔ میں نے پھیکی سی مسکراہٹ  چہرے پر سجانے کی ناکام کوشش کرتے ہُوئے  پھر سے سلسلہ کلام جُوڑا۔۔۔۔۔ بٹیا تمہارے بابا جانی تو بُہت کمزور سے انسان ہیں۔ جو کبھی عشق کی راہ کے مسافر بن جاتے ہیں۔ اُور کبھی خود غلامی کی زنجیروں کو اپنے پاوٗں سے لپیٹ لیتے ہیں۔ لیکن اِس کائینات میں اللہ کریم کے ایسے  کروڑوں عاشق موجود ہیں۔ جو اللہ کریم کی عبادت نہ جنت کی لالچ کی وجہ سے کرتے ہیں۔ اُور نہ  ہی جہنم  کے خُوف کی وجہ سے وُہ  گناہوں سے دُور رہتے ہیں۔  ۔۔۔۔۔۔۔  بابا جانی یہ کیا بات ہُوئی۔کہ،،  جب نہ اُن لوگوں کا جنت کا لالچ ہے ۔ اُور نہ ہی جہنم کا ڈر ہے۔ تو پھر وُہ لُوگ کس وجہ سے اُور کس کیلئے عبادت کرتے ہیں۔؟؟؟

بٹیا وُہ لوگ صرف اللہ کریم کو راضی کرنے کیلئے اُور اللہ کریم کادید ار اُور اللہ کریم سے ملاقات کو پسند کرتے ہیں۔ اِس لئے اُنکے دِل میں اللہ کریم کے  علاوہ کسی مخلوق کی محبت جگہ نہیں پکڑتی۔ اُور کیوں کہ جنت اُور دوزخ بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔ اسلئے اُنکے دِل  خالق کی محبت سے اتنے لبریز ہیں۔ کہ،، جنت کے لطف کی طرف اُنکا  خیال ہی نہیں جاتا۔۔۔۔۔۔ تو بابا  جانی قیامت کے دِن جب سب لُوگ جنت یا دُوزخ میں چلے جائیں گے تو یہ لُوگ  پھرکہاں جائیں گے۔؟ جائزہ کی آنکھوں میں اگرچہ نیند نے اپنی جگہ بنانی شروع کردی تھی۔ لیکن شائد وُہ مطمئین ہُوئے بغیر سُونا نہیں چاہتی تھی۔

بٹیا سلطان العارفین حضرت سلطان باہو (رحمتہ اللہ علیہ) جنہیں سُلطان الفقر اُور اِمام العاشقین بھی کہا جاتا ہے۔اپنی کتاب  عین الفقر میں ایک روایت بیان کرتے ہیں۔ جسکا مفہوم کچھ یُوں ہے۔کہ،، جب سب لُوگ جنت یا دُوزخ میں داخل کردیئے جائیں گے۔ تب یہ تمام عاشقین الہی  جنکے لئے جنت کا اعلان کردیا گیا ہُوگا۔ لیکن  یہ گروہ عاشقین جنت کو قبول کرنے میں  تامل کریں گے۔  فرشتے اپنی تمام کوشش کرنے کے بعد  اللہ کریم کی بارگاہ میں عرض کریں گے ۔ اے ہمارے رب تمام لُوگ جنت یا دُوزخ میں منتقل ہُوچکے ہیں۔ لیکن ایک گروہ اولیا ٗ جنت کی نوید کے باوجود خوش نہیں ہے۔

اللہ کریم ارشاد فرمائے گا۔اِن لوگوں سے معلوم کرو۔کہ،، آخر یہ چاہتے کیا ہیں؟ وُہ گروہ عاشقین عرض کرے گا۔ اے ہمارے پروردیگار تو جانتا ہے۔کہ،، ہم نے کبھی دُنیا کی محبت کو اپنے قلوب میں جگہ نہیں دی۔ ہم نے تیرے عشق کی شمع  سے اپنے وجود کو  اسلئے خاکستر نہیں کیا تھا۔ کہ،، بدلے میں ہمیں باغیچے اُور خدام عطا کردیئے جائیں۔ ہم دُنیا کی تمام تکالیف کو صرف اِس لئے ہنس کے سہتے رہے۔کہ،، تو ہم سے راضی ہُوجائے۔ اور ہمیں دائمی قربت اُور دیدار کی دولت سے سرفراز کردیا جائے۔تاکہ ہماری تشنگی بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بُجھ جائے!!!  اِن عاشقین کی فریاد کے جواب میں اللہ کریم ارشاد فرمائے گا۔ بیشک میرے یہ بندے سچ کہتے ہیں۔ اِن تمام کو مقام القُربہ  میں لے آوٗ۔ تاکہ میں انہیں اپنی قربت خاص  اُور دید کے جام سے سیراب کروں۔ اُور یہ لوگ جنت النعیم اُور جنت الفردوس سے بھی لُطف اندوز ہُوں۔

مطلب بابا جانی جنت تو اِن لوگوں کو بھی مِل جائے گی۔لیکن  اِنکا اصل انعام اللہ تعالی کی قربت اُور اُسکا دیدار ہُوگا۔ تو باباجانی کیا دوسرے جنتیوں کو اللہ کریم کا دیدار نہیں ملے گا۔ ؟جائزہ علی نے نیند بھگانے کی کوشش کرتےہُوئے اگلا سوال کیا۔۔۔۔ نہیں بٹیا ایسی بات نہیں ہے۔دیدار تو  سب جنت والوں کیلئے ہُوگا۔لیکن  دوسرے جنتی ایک مرتبہ دیدار کے بعد ایک  طویل مُدت کیلئے بیہوش ہُوجائیں گے۔ جبکہ مقام قرابت کے عاشقین تجلی سے قرار پکڑیں گے۔ اور بار بار دیدار سے سیراب کئے جائیں گے۔  بس یوں سمجھ لُو کہ ،،   دیگر جنت میں حُسن  محبوب  حجاب میں ہوگا۔ جبکہ مقام قربت میں عاشقین بے حجاب جلوئے سمیٹں گے۔

بابا جانی پھر تو اللہ کے عاشقین ہی فائدے میں رہیں گے۔۔۔ بابا جانی آپ بھی عاشق بن جائیں نا۔ پھر آپ بھی کبھی بُور (تشنہ) نہیں رہیں گے۔۔۔۔اُس نے شب کا آخری جملہ کہا۔ اُور نیند کی وادی میں پُہنچ گئی۔۔۔۔ وُہ آج پھر ہمیشہ کی طرح  قربت کا چراغ میرے من میں رُوشن کر کے اطمینان سے سُوگئی تھی۔ اُور میں ہمیشہ کی طرح اُسکی نصیحت پر عمل کرنے کیلئے خود سے عہد و پیمان کرنے کیلئے جاگنے کی کوشش میں مصروف ہُوں۔ اُور اللہ کریم کی بارگاہ میں فریاد کررہا ہُوں۔کہ،، اے میرے پروردیگار  تونے مجھے کتنا خُوبصورت ناصح عطا کیا ہے۔ جو مجھے بار بار جھنجوڑ کر تیری جانب متوجہ کرتا رہتا ہے۔۔۔  اے کریم مجھ پر مہربانی فرمادے۔ اُور میرے من میں ٹمٹماتی آتشِ عشق  کی شمع کو قرار عطا فرمادے۔ مجھے اپنی پسند کے کردار کی محبت کے چنگل سے نکال کر ۔ تیری پسند کے کردار کیلئے مستعد کردے۔ تاکہ میں اسمیں خوبصورت رنگ بھر کر عاشقوں کے نشانِ  قدم کو ڈھونڈتا ہُوا مُراد پاجاوٗں۔


اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔



Sunday, 21 June 2015

عامل کامل ابوشامل( تالاب میں دھکا کس نے دیا) قسط 52


گُذشتہ سے پیوستہ۔

وجاہت دہلوی کی مدد سے کامل علی  نے پراپرٹی آفس جانا شروع کردیا تھا۔ وجاہت نے آفس میں بُہت ذمہ دار اسٹاف متعین کیا تھا۔ جس نے تھوڑے ہی دنوں میں  اپنا کام کافی حد تک پھیلا کر ادارے کے منافع میں اچھا خاصہ اضافہ کردیا تھا۔ تمام اسٹاف کے لوگ ہی اپنے کام سے  محبت کرنے والے تھے۔ اگر کبھی کبھار انویسٹمنٹ کی ضرورت پیش آجاتی۔ تو۔ وجاہت دہلوی خوش دِلی کے ساتھ مطلوبہ رقم مُہیا کردیا کرتا۔ وقت گُزرتا رہا۔ اُور رفتہ رفتہ کامل علی ماضی کی زندگی بھولتا جارہا تھا۔ اب اُسے نہ ابوشامل کی یاد ستاتی اُور نہ نرگس کی۔۔۔ جاناں کی محبت نے کامل کو نرگس  کے سراب سے اپنا قیدی بنالیا تھا۔ وقت بُہت آہستگی سے  سرکتا چلاجاہا تھا کہ،،چند ماہ بعد ایک صبح   عجیب واقعہ پیش آگیا۔ کامل آفس جانے کیلئے گھر سے نکلا۔ تو دروازے پر اِک دیہاتی نے کامل کو گھیر لیا۔ سائیں آپ کامل شاہ قادری ہیں نا؟۔۔۔ نام تو میرا ہی کامل ہے۔ لیکن آپکو مجھ سے کیا کام ہے۔ کیا کوئی مکان کرایہ پر چاہیئے؟ کامل نے دیہاتی کے حلیہ پر نگاہ ڈالنے کے بعد اندازہ لگایا۔۔۔ نہیں شاہ صاحب مجھے  مکان نہیں چاہیئے ۔! سائیں مکان  مُوں وٹ آھیی ۔ میرے گھر والی کو بچہ ہوا ہے سائیں بدین میں۔ لیکن سات دن سے بچہ نے ماں کا دودھ نہیں پیا۔ ابھی ڈاکٹر بولتے ہیں کہ،، ہسپتال میں جگہ نہیں اے۔ اُور بھوکا پیاسہ بچہ سائیں کتنے دن جیئے گا۔کسی نے آپکا پتہ بتایا اے سائیں۔۔۔ تو ہم بدین سے آپکی زیارت کیلئے آیا ہُوں۔۔۔۔۔ لیکن بھائی میں دم پھونک کا کام نہیں جانتا آپکو کسی نے غلط پتہ بتایا ہے۔

کامل آدھے گھنٹے بعد واپس گھر سے باہر نکلا۔۔۔ تب بھی وُہ دیہاتی گھر کے دروازے سے لگا کھڑا تھا۔کامل نے سُوچا کہ،،  یہ دیہاتی آدمی ہے۔ میں اِسے جتنا منع کروں گا۔یہ اتنی ہی ضد ذیادہ کرے گا۔ اگر چند گھنٹے کیلئے اِسے اسکے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ تو خود ہی دلبرداشتہ ہوکر چلا جائے گا۔ کامل یہی سُوچ کر آفس  کیلئے روانہ ہُوگیا۔۔۔ شام پانچ بجے جب کامل واپس گھر آیا۔ تو اُسی دیہاتی شخص کو گھر کے باہر منتظر دیکھ کر تلملا گیا۔۔۔ یار تُم عجیب انسان ہُو۔ میں نے تمہیں سمجھایا بھی تھا۔کہ،، تم غلط جگہ آگئے ہو۔ لیکن تم بجائے اسکے کہ،، اپنے بچے کا کہیں جاکر علاج کراوٗ۔ زبردستی میرے گھر کے باہر دہرنا دے کر بیٹھے ہو۔ ۔۔۔بھائی میں سچ کہتا ہُوں کہ مجھے علاج معلوم نہیں ہے۔ اگر مجھے دم پھونک کرنا آتا تو میں ضرور تمہارے بچے کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کرتا۔ تم کم از کم مجھے اُس شخص کا نام تو بتاوٗ جس نے تمہیں یہاں کا رستہ دِکھایا ہے۔۔۔۔ سائیں شاہ صاحب جس نے مجھے آپکے پاس بھیجا ہے۔ اُس نے ۲ بات کہی تھی۔ نمبر ۱ کہ،، آپ اتنی آسانی سے علاج کیلئے راضی نہیں ہُونگے اور نمبر۲ میرا نام نہیں لینا۔ ورنہ سائیں مجھ پر خفا ہُوجائیں گے۔

کامل سُوچنے لگا ۔ضرور کسی نے  میرے ساتھ گھٹیامذاق کیا ہے ۔ کامل کو جان چھڑانے کی ایک  ہی تدبیر سُجھائی دی۔ کامل نے جیب سے ایک سادہ کاغذ نکالا۔ اُور اُس کاغذ پر چند اُلٹی سیدھی لکیریں بناکر وُہ کاغذ اُس دیہاتی کے حوالے کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ دیکھو بھائی میں نے یہ تعویز  تمہارے کہنے پرلکھ دیا ہے۔ اِس کاغذ کو پانی کی بوتل میں ڈال کر ہلانا۔ اُور اس پانی کو اپنی بیوی اُور بچے کو پلانا۔ اگر اللہ چاہے گا۔تو  ماں کے پستان میں بچہ کیلئے دودھ آجائے گا۔ اُور تمہارا مسئلہ حل ہُوجائے گا۔ورنہ میں پہلے ہی بتا چُکا ہُوں کہ،، مجھے دَم پھونک نہیں آتی۔۔۔۔ وُہ دیہاتی اُس کاغذ کے ٹکڑے کو آنکھوں سے  لگا کر کامل کو ڈھیروں دُعائیں دیتا ہُوا ۔ روانہ ہُوگیا۔۔۔۔۔

دُو یا تین دِن ہی گُزرے ہُوں گے۔ کہ،، وہی دیہاتی شخص چار پانچ لوگوں کیساتھ کامل کے گیٹ پر پھر سے موجود تھا۔ کامل کی جونہی اِن لوگوں پر نظر پڑی۔ اُس کے دِل میں پہلا خیال یہی آیا۔ کہ،، خدانخواستہ زچہ یا بچے کو کوئی نقصان پُہنچ گیا ہے۔ جسکا بدلہ لینے کیلئے وُہ دیہاتی ہجوم کیساتھ آیا ہے۔  لیکن تمام لوگ انتہائی پرامن تھے۔ اُور اُنکے ہاتھ میں کوئی لاٹھی ڈنڈا بھی نہیں تھا۔ کامل علی ہمت جمع کرکے آگے بڑھا تو اُن دیہاتیوں نے کچھ گلاب کے ہار کامل کو پہناتے ہُوئے کامل کے ہاتھوں کو بوسہ دینا شروع کردیا۔ اُور وُہ دیہاتی جو پہلے کاغذ لیکر گیا تھا۔ لوگوں کو بڑی عقیدت سے بتا رہا تھا۔ کہ یہی وُہ سائیں ہیں۔جنکے تعویز کی برکت سے بچے کیلئے ماں کے سینے میں دودھ اُتر آیا ہے۔ وُہ دیہاتی ساتھ میں ایک بکری کا  چھیلا تحفے میں دینے کیلئے لایا تھا۔ کامل خود حیران تھا۔کہ،، یہ کیا عجیب ماجرا ہُوگیا۔ میں نے تو ٹالنے کیلئے کاغذ پر چند  ٹیڑھی ترچھی لکیریں بنائی تھیں۔ بھلا اُن لکیروں سے کسی کو کیا فائدہ حاصل ہُوسکتا ہے۔ جب جاناں  نے بکری کا بچہ دیکھا تو وُہ ایسے خوشی سے اُس چھلیے سے لاڈ کرنے لگی ۔جیسے وُہ خود کوئی چھوٹی سی بچی ہُو۔  کامل نے تمام واقعہ جب جاناں کو سُنایا تو۔ جاناں نے  فقط اتنا کہا۔ میں نے سُنا ہے۔جب اللہ کریم کسی سے کوئی کام لینا چاہتا ہے۔ تو وُہ کام اپنے اُس بندے کو سِکھادیتا ہے۔یا اُس کام کی محبت اسکے دل میں ڈال دیتا ہے۔ اگر آپ کے دم کرنے سے کسی کا بھلا ہوجاتا ہے۔ تو آپ کردیا کریں نا دَم ! ویسے بھی کسی کو پھونک مارنے میں ٹائم  ہی کتنالگتا ہے۔

اِس واقعہ کے بعد تو یُوں محسوس ہُونے لگا۔ جیسے کسی ہار کا تاگا ٹوٹ گیا ہُو۔ اُور جسطرح ایک موتی کے پیچھے پیچھے دوسرے موتی چلے آتے ہیں۔ ہر شام کوئی نہ کوئی کامل کے گھر اپنے بچوں کو دَم کروانے کیلئے کھڑا نظر آتا۔ کامل علی چونکہ کسی سے کوئی رقم طلب نہیں کرتا تھا۔ اس لئے اب علاج کیلئے کراچی کے ایک کونے سے لیکر دوسرے کونے تک کامل کی خوب پبلسٹی ہُورہی تھی۔۔۔ دِن کے اوقات میں کامل علی پراپرٹی آفس چلا جاتا۔جہاں سے ایک معقول آمدنی اُسے حاصل  ہُورہی تھی۔۔۔ اُور عصر تا مغرب دم  دَرُود کا معاملہ بھی ہفتے میں تین دِن جاری تھا۔ تمام معملات بخیر و خوبی چل رہے تھے۔ کہ ،، ایکدن آفس میں کامل کو جاناں کی کال موصول ہُوئی ۔ اُور جاناں نے کامل کو بتایا کہ،، ہمارے گھر ہماری پڑوسن آئی ہُوئی ہے۔ جسکی سولہ سالہ بیٹی پر جنات کا اثر ہے۔ بیچارے شہر بہ شہر بچی کو لئے پھر رہے ہیں۔آج انہیں کسی نے آپ کے متعلق بتایا۔ تو بیچاری بچی کو لیکر ہمارے گھر آگئی ہیں۔۔۔۔ آپ ایسا کریں فوراً گھر آجائیں۔اُور اِس بچی کا جن اُتار دیں۔ اتنا کہہ کر جاناں کی شائد بیٹری جواب دے گئی تھی۔

کامل جاناں کی اِس حرکت پر بِھنَّا کر رِہ گیا۔۔۔۔ بات صرف دَم کی ہُوتی تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔۔۔لیکن  دَم کرنا کچھ اُور بات تھی۔ اُور جنات سے مقابلہ کرنا کچھ اُور بات تھی۔پھر جنات بھی ایسے کہ،، جو شہر بہ شہر کے عاملوں کے قبضے نہیں آرہے ہُوں۔اب ابو شامل تو موجود نہیں تھا۔ جو جنات کی پھینٹی لگا کر اُنہیں بھاگنے پر مجبور کردیتا۔  کامل آفس سے گھر کیلئے نکل تو گیا تھا۔لیکن اُسے جاناں پر سخت غصہ آرہا تھا۔ جس نے بےوقوفی کی انتہا کردی تھی۔ بندہ کم از کم پوچھ ہی لیتا ہے۔کہ،، علاج کرنا ہے یا نہیں۔یا کیا آپ جنات کا علاج کرسکتے ہیں یا نہیں۔ یہاں تو اس خُدا کی بندی نے نا صرف پڑوسن کو دعوت دے ڈالی تھی بلکہ اُسے یقین بھی دلایا تھا۔ کہ جنات کی اب خیر نہیں۔ حالانکہ کامل کو اپنی خیر خطرے میں دکھائی دے رہی تھی۔ وُہ دِل ہی دِل میں ،، یا لجپال بیڑہ کردے پار،، کی صدائیں لگاتا چلا جارہا تھا۔ کہ،، کسی صدا دینے والے نے صدا دی۔  لجپال کو پکارا ہے۔ ہے تو جا ! دَم دستگیر تیری حفاظت کریں گے۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔