bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Friday, 31 May 2013

جل پریاں حقیقت یا فسانہ۔۔۔؟


محترم قارئین السلامُ علیکم کائنات میں اللہ عزوجل نے بے شُمار مَخلوقات پیدا فرمائی ہیں ۔اِن میں بعض وہ ہیں جِنہیں دیکھنے سے ہماری آنکھ قاصر ہیں جیسے فرشتے ۔ جنّات وغیرہ اور بعض وہ مخلوقات ہیں جنہیں ہم دیکھ تو سکتے ہیں۔ لیکن وہ ہماری پُہنچ سے بُہت  دور ہیں۔۔۔ آپ نے بچپن میں اکثر پریوں اور جل پریوں کی کہانی ضرور سُنی ہوگی۔ بعض لوگ اِسے صرف کہانی کی حد تک ہی مانتے ہیں۔ جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مخلوقات اجسامِ دُنیا میں ایسے ہی موجود ہیں جیسے ہم اور آپ۔۔۔ آئیے دیکھتے ہیں اِس میں کتنی حقیقت ہے اور کِتنی کہانی ہے۔

قُرآنِ مجید میں جا بَجا اللہُ سُبحانہُ تعالیٰ نے انسان کے ساتھ جِنّات کا تذکرہ فرمایا ہے جِس میں سے ایک مشہور آیت آپ نے ضُرور سُنی ہوگی (وما خَلَقتُ الجِنَّ والانِسَ اِلا لِیَعبُدُون) ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ : ہم نے انسانوں اور جِنّات کو اِس لئے پیدا فرمایا کہ وہ ہماری عِبادت کریں۔

اِن آیات کے تِحت ہم پر لازم ہو گیا کہ ہم جِنّات پر یقین رکھیں کہ قُران کی آیت کا انکار کُفر ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔کہ،، کیا پریوں کا بھی وُجود ہے۔ تو مُحترم قارئین جب جِنّ کا وُجود ثابت ہوگیا تو کیا جِّنِی کا وُجود نہ ہوگا۔۔۔؟ ہم جب بیتُ الخلا میں داخِل ہوتے ہیں تو کیا دُعا پڑھتے ہیں۔۔۔؟ یہی نہ کہ اے اللہ عزوجل میں تیری پناہ چاھتا ہوں خَبِیث جِنُّوں اور جِنّیوں سے۔۔۔ اب معلوم یہ ہُوا کہ جِنِّی کا وَجود بھی ہے تو محترم قارئین پری بھی جِنّی ہے یہ کوئی الگ مَخلوق نہیں ہے۔ بلکہ عام جِنّی اور پَری میں وَہی فَرق ہے جیسے ایک عام دراز گوش اور عربی نسل گُھوڑے میں فرق ہوتا ہے۔ ایک عام جِنّیِ کے پر نہیں ہوتے جبکہ پری کے پر بھی ہوتے ہیں اور یہ دیکھنے میں بھی جاذِب نظر ہوتی ہے۔ اِن میں قبائل بھی ہوتے ہیں اور جِس طرح ہمارے یہاں نسل اور قبائل پہ فَخر کیا جاتا ہے بالکل ویسے ہی اُن میں بھی اعلٰی قبائل دوسروں پر فخر کرتے ہیں۔۔۔ مثال کے طور پر قبیلہ ایمن یہ قبیلہ نہائت مُعزز قبیلہ مانا جاتا ہے۔

اِسی طرح بیشُمار قبائل پریوں میں بھی موجود ہیں یہ تو بات ہوگئی پریوں کی اور مُجھے اُمید ہے آپ کو یہ مضمون پڑھنے میں لُطف بھی آرہا ہوگا آئیے اب کچھ بات جل پریوں کے بھی مُتعلق کرلیتے ہیں۔

جل سنسکرت زُبان کا لفظ ہے جسکے معنٰی ہیں پانی اور پری فارسی زُبان کا لفظ ہے جسکے لغوی معنٰی ہیں انتہائی ،، حسین ،، اسطرح یہ اُردو میں اسطرح مستعمل ہوتا ہے۔ کہ،،  اِس کے لغوی معنٰی بنتے ہیں پانی کی پری،، یا پانی میں رہنے والی انتہائی حسین مِخلوق۔  بچپن میں  میرے ذہن میں اکثر یہ سوال پیدا ہوتا تھا ۔ کہ،، جب ہَوا میں جِنّ اور پرّی ہوسکتے ہیں۔ زمین پر ہوسکتے ہیں۔۔۔ تو آخر پانی میں کیوں نہیں ہوسکتے۔۔۔؟ میں اُن لوگوں پر جو اِسے افسانوی مَخلوق مانتے ہیں۔ زبردستی اپنی رائے نہیں تھوپنا چاہتا۔صرف وہ دلائل جو میرے ذہن سے اِبہام کو رفع کرتے ہیں شیئر کرنا چاہتا ہوں ۔تاکہ آپ بھی غور کریں شائد میں آپکو قائل کر سکوں۔ ورنہ لازمی نہیں کہ آپ میرے خیالات سے 100 فی صد اِتِفاق کریں۔ لیکن میں آپ کو حضرت کمال الدین الدمیری کی کتاب حیاتُ الحیون سے یہ تحریر ضرور پڑھانا چاہوں گا ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کا زمانہ 742 ھجری سے 808 سن ھجری تک کا ہے۔

آپ اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف ِٔ لطیف میں مضمون دریائی انسان کے تحت ارشاد فرماتے ہیں

(انسانُ الماءَ دریائی انسان)

یہ بھی ہمارے جیسے انسان کے مشابہ ہوتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ پانی کے انسان کے دُم ہوتی ہے۔ شیخ قزوینی رحمتہ اللہ علیہ نےعجائبُ المخلوقات میں کہا ہے کہ ایک مرتبہ پانی کا آدمی ہمارے بادشاہ مقدر کے زمانہ میں نکل آیا تھا بعض حکما نے کہا ہے کہ دریائے شام میں یہ پانی کا انسان بعض اوقات اسی (ہمارے جیسے) انسان کی شکل و صورت میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کی سفید داڑھی بھی ہوتی ہے، لوگ اسے (شیخ البحر) کہتے تھے ۔۔۔چنانچہ جب لوگ اسے خواب میں دیکھتے تو اس کی تعبیر شادابی وغیرہ ہوتی ۔

بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ایک پانی کا انسان بعض بادشاہوں کے دربار میں لایا گیا ۔تو وہ بادشاہ اس آدمی سے اس کے حالات معلوم کرنا چاہتا تھا ۔ چنانچہ بادشاہ نے پانی کے انسان کی شادی ایک عورت سے کردی۔ اس عورت سے ایک لڑکا پیدا ہوا جو ماں باپ کی گفتگو کو سمجھ لیتا تھا۔ ایک مرتبہ بادشاہ نے لڑکے سے سوال کیا کہ تمہارے والدین کیا باتیں کر رہے ہیں۔۔۔؟ تو اس لڑکے نے جواب دیا کہ میرے والد یہ کہہ رہے ہیں کہ تمام جانوروں کی دُم ان کے پچھلے حصہ میں ہوتی ہے۔ لیکن میں ان لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ (ان کی دُم) ان کے چہرے میں ہے۔

حضرت لیث بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے دریائی انسان کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ دریائی انسان (کا گوشت) کسی بھی حالت میں نہیں کھایا جاسکتا ۔واللہ تعالی اعلم۔

بِنات المأءَ

(بنات المأِءَ یٰعنی پانی کی عورت) ابن ابی الاشعت نے کہا ہے کہ یہ بحر روم کی مچھلیاں ہیں جو عورتوں سے مشابہ ہوتی ہیں ۔ جن کے بال سیدھے اور رنگ گندمی ہوتا ہے۔ نیز ان کی شرمگاہ اور پستان بڑی بڑی ہوتی ہیں۔ یہ مچھلیاں گفتگو بھی کرتی ہیں لیکن ان کی گفتگو سمجھ سے بالاتر ہے۔ نیز یہ مچھلیاں ہنستی اور قہقہہ مارتی ہیں ۔ ملاح کبھی کبھی ان مچحلیوں کو پکڑ لیتے ہیں اور ان سے وطی کر کے پھر دریا میں چھوڑ دیتے ہیں۔ رویانی کہتے ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی شکاری عورتوں سے مشابہ مچھلی پکڑ کر لاتا تھا تو یہ ان سے وطی نہ کرنے کی قسم لیتے تھے۔ اما قزوینی رحمتہ اللہ علیہ نے عجائبُ الخلوقات میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے۔ کہ،، ایک آدمی ایک بادشاہ کے پاس اس قسم کی مچھلی شکار کر کے لے گیا۔۔۔ تو جب وہ مچھلی گفتگو کرتی تو اس کی گفتگو سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ پس اس آدمی نے اس مچھلی سے شادی کرلی۔ پس ان سے ایک بچہ پیدا ہوا۔ پس وہ بچہ بھی فطرت کے عین مُطابق اپنے باپ اور ماں دونوں کی گفتگو کو سمجحتا تھا۔


اِس کالم میں آپکو سمجھانے کیلئے میں نے جل پری کا لغوی معنی پیش کیا ہے۔۔۔ میں نے جل پریوں پر تحقیق کی خاطر بے شُمار کتب کا مُطالعہ کیا۔ لیکن وُہ تمام کتب اِس موضوع پر خاموش ہی رہیں۔ کہ آخر جل پریوں کا شُمار کس مخلوق میں کیا جائے گا۔ انسانوں میں۔۔۔؟ مچھلیوں میں۔۔۔یا جنات میں۔ مجھے لگتا ہے۔کہ اِن کا شُمار جنات کی قسم میں کرنا  اسلئے بھی آسان دِکھائی دیتا ہے۔کہ،، جناتوں کی ایک بڑی تعداد سانپوں کی شکل میں زمین پر  پائی جاتی ہے۔ تو عین ممکن ہے کہ،، یہ پانی کے جنات ہُوں۔۔۔ مگر یہ صرف رائے ہے۔ جو کہ غلط بھی ہُوسکتی ہے۔ اُور صحیح بھی۔۔۔ بہرحال۔ اُنکا شمار چاہے جس قسم کی بھی مخلوق میں کیا جائے۔ رہے گی تو  یہ مخلوق ہی۔۔۔ لیکن آثار اِسلاف سے یہ تو ثابت ہُوگیا ۔کہ،، جل پریوں کا وجود ہے۔ یہ کوئی افسانہ نہیں ہے۔ میں نے انیس سُو پچاسی کے دوران ایک اخبار ی تصویر میں کیلفورنیا کے ساحل سمندر کے کنارے ایک جل پری کو مُردہ حالت میں دیکھا تھا۔۔۔پھر انیس سُو اَٹھاسی کے قرب میں  پنجاب کے مشہور شہر لیاقت پُور میں میری مُلاقات ایک ایسے شخص سے ہُوئی۔ جِس نے مجھ سے حلفیہ بیان کیا تھا۔کہ ،، ایوب خان کے دُور میں ایک مُردہ مچھلی جو کہ عورت کی مشابہ تھی۔ سکھر بیراج کے قریب اُس نے اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔۔۔ واللہُ اعلمُ و رسولہ اعلمُ

Monday, 20 May 2013

بابا فرید گنج شکر کیوں کہلائے۔ عاصِمہ شوکت


بابا فرید رحمتہ اللہ  علیہ برصغیرکے اُولیائے کرام  کی فہرست میں ایک نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔آپکی ولادت مبارک ۵۸۹ھ میں ہُوئی اور وصال ۶۶۶ھ میں ہوا ۔آپکا خاندانی نام فرید الدین مسعود ہے اور والدہ کا نام قرسم خاتون ؒ اور والدمحترم قاضی جلال الدین ہیں ۔بابا فرید پانچ سال کی عمر میں یتیم ہو گئے تھے ۔


بابا فرید کو گنج شکر کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے انکا یہ لقب گنج شکر کیوں پڑا؟ اسکے بارے میں مختلف کتابوں میں مختلف روایات پائی جات ہیں ۔۔۔۔ روایت ہے کہ بابا فرید ؒ کو گنج شکر پہلی مرتبہ انکی والدہ صاحبہ نے کہا۔ قرسم خاتون بہت ہی عبادت گزار ،پرہیزگار ،نیک خاتون تھیں وہ اپنی بیوگی میں بھی اپنے بچوں کی بہت اچھی تربیت کرتی رہیں ۔  آپکی ایک کرامت کا تذکرہ اکثر معتبر تواریخ میں موجود ہے ۔ کہ ایک مرتبہ  آپکے شہر میں قحط پڑگیا۔ جب کئی برس تک بارش کے آثار نظر نہ آئے ۔ تو آپکے شہر کے لوگوں نے اپنی ازواج کو آپکے پاس دُعا کیلئے بھیجا۔ آپ کی والدہ نے خواتین کے اِصرار پر  اپنے صِحن کی جھاڑو نِکالی۔ اُور ۲ رکعت نفل  ادا فرمانے کے بعد یُوں دُعا فرمائی۔ ،،اے میرے پروردیگار جھاڑو لگا کر صفائی کرنا میرے اِختیار میں تھا ۔سُو میں نے تمام کچرے کو سمیٹ  دِیا۔ اب پانی کے چھڑکاوٗ کیلئے بارش کی ضرورت ہے۔جو کہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔،، کہتے ہیں کہ حضرت قُرسم خاتون کے ہاتھ ابھی بُلند تھے ۔کہ ایسی زُور دار بارش ہُوئی کہ تمام شہر جل تھل ہُوگیا۔

قُرسم خاتون  نے پہلی بار بابا فریدؒ کو نماز پڑھنے کی تلقین کی تو  اپنے جگر پارے کو کچھ اِسطرح سے سمجھایا۔ کہ،، جب چھوٹے بچے اللہ تعالیٰ کی نماز ادا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں شکر کا انعام دیتے ہیں اور جب بڑھے ہو جاتے ہیں تو دوسرے بڑے اور مزید انعامات دیئے جاتے ہیں ۔ بابا فرید ؒ جب نمازپڑھتے۔ تو قرسم خاتون چپکے سے انکے مصلے کے نیچے شکر کی پڑیاں رکھ دیتیں اور بابا فرید ؒ وہ شکر کی پڑیاں انعام میں پا کر بہت خوش ہوتے، یہ سلسلہ کافی عرصہ تک چلتا رہا۔ یہاں تک کہ ،، ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ قرسم خاتون شکرکی پڑیاں رکھنا بھول گئیں۔ تو اگلے دن اضطراب سے پوچھا کہ اے فرید الدین مسعود کیا آ پکو کل شکر کی پڑیاں کی پڑیاں مل گئی تھیں ؟ تو بابا فرید نے ہاں میں جواب دیا ! تو قرسم خاتون نے اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا کہ انکی لاج رہ گئی۔ اور اس بات پر خوشی بھی ہوئی کہ اللہ عزوجل کی طرف سے انعام دیا گیا تب انہوں نے بابا فریدؒ سے کہا کہ اے فرید الدین مسعود آپ تو واقع ہی گنج شکر ہیں۔

روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ بابا فرید ؒ کے مرشد کامل حضرت قطب الدین بختیار کاکی نے تین دن کے لیئے ’’ طے‘‘ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ، اس روزہ کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ تیسرے دن مغرب کے وقت افطار کیا جاتا ہے، اس روزہ کو چلہ بھی کہا جاتا ہے۔اس کے لیئے گوشہ نشینی اور تنہائی اختیار کی جاتی ہے ۔ اس مقصد کے لیئے غزنوی دروازے کے پاس برج مینار میں بابا فرید نے تنہائی اختیار کی اور اللہ عزوجل کی عبادت میں مصروف رہے اور جب روزہ مکمل ہوا اور افطاری کا وقت ہوا تو انتظار کرنے لگے کہ غائب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ کیونکہ مرشد کامل کا کہنا تھا کہ کھانا بھی غیب سے دیا جائے گا ۔ اسی دوران وہاں پر ایک شخص کو پتہ چلا کہ ایک نوجوان درویش یہاں برج میں چلہ کش ہے۔ تو اس شخص نے سوچا کہ اس درویش کی خدمت کر کے دعائیں سمیٹ لوں تو وہ پر لطف کھانا لے کر بابا فریدؒ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؒ نے اللہ عزوجل کی طرف سے انعام سمجھ کر یہ کھانا تناول فرما لیا ۔تو وہ شخص خوشی خوشی واپس چلا گیا۔اس کے تھوڑی ہی دیر بعد بابا فرید ؒ کے شکم میں درد اٹھا اور قے آ گئی اور کھانے کا ایک زرہ بھی پیٹ میں نہ بچا۔تو آپ ؒ نے پانی پی کر گزارہ کیا اور تو آپ ؒ نے پانی پی کر ساری رات عبادت میں مصروف ہو گئے صبح مرشد کامل کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور رات کا سارا واقع گوش گزار کر دیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ آدمی جو کھانا لایا تھا وہ آدمی شراب اور بدکاری کا عادی ہے۔ تو اس کا لایا ہوا کھانا بھی بابا فریدؒ کے لئے کھانا مناسب نہ تھا اس لیئے وہ ہضم نہ ہوا تھا ۔ اب اس کھانے کی وجہ سے روحانی طاقت کم ہو گئی تھی ۔اب مرشد کامل نے کہا کہ مولانا ! ’’تمہیں طے کا ایک اور روزہ رکھنا ہو گا‘‘ اور ا س بار انسان کے لائے ہوئے کھانے کا انتظار نا کرنا اور غائب سے جو میسر ہو اسی سے افطار کر لینا۔
  
بابا فرید ؒ اپنے مرشد کامل کا حکم بجا لائے اور دوبارہ سے طے کا روزہ رکھ لیا ۔اور جب روزہ مکمل ہوا اور افطار کا وقت ہوا تو انتظار کرنے لگے کے کب غائب سے کچھ ظہور ہوتا ہے؟ اسی انتظار میں عشاء کا وقت ہو گیا تو آپ ؒ نے جسم کی تمام تر نقاہت کو نظر انداز کر کے پوری عاجزی اور توجہ سے نماز ادا کی ۔ آپکو اللہ عزوجل پر بھی پورا بھرسہ تھا اور ساتھ ساتھ مرشد کامل کی بات پر بھی یقین تھا کہ غائب سے زرور کچھ ظہور ہو گا ۔ اسی طرح وقت گزرتا گیا اور جب بھی شکم کی آگ زور پکڑتی تو آپ آنکھ کھول کر دیکھ لیتے کہ کچھ حاضر ہوا یا نہیں تو وہاں پر سوائے اندھیرے اور ویرانی کے کچھ نہ ملتا ۔

آدھی رات کے وقت جب برداشت جواب دے گئی کہ چھ دن سے ،مسلسل بھوک کی وجہ سے بہت نقاہت تھی تو بے اختیار اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے تو ہاتھوں پر کچھ چپک گیا .دیکھا تو سنگریزے تھے آپؒ نے وہ سنگریزے اٹھا کر منہ میں ڈالے تو کچھ مٹھاس کا احساس ہوا تو آپؒ نے وہ تھوک دیئے کہ کہں یہ بھی شرابی کے کھانے کی طرح فریب نہ ہُو۔ دُوبارہ پھر زمین پر ہاتھ مارے تو سنگریزے چھپکے اور جب انہیں منہ میں ڈالا تو شکر کا احساس ہوا تو آپؒ نے وہ اس طرح تھوک دئیے جیسے لقمہ حرام منہ میں چلا گیا ہو۔

تیسری بار بھی سنگریزے کھانے پر یہی واقع پیش آیا کہ سنگریزے شکر محسوس ہونے لگے تو بابا فرید ؒ نے اسے تحفہء غائب سمجھا اور اسکے ساتھ ہی آپ ؒ کو مرشد کامل بختیار کاکیؒ کے یہ الفاظ یاد آ گئے کہ ’’ اے مولانا فرید جو کچھ بھی غائب سے ظاہر ہو.اسی سے افطار کر لینا۔ دُوسرے دن بابا فرید ؒ مرشد کامل کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ؒ کو دیکھتے ہی پیرومرشد نے فرمایا ’’ مولانا فرید! روزہ مکمل ہو گیا۔۔۔؟

جواب میں بابا فرید نے عجیب و غریب واقع سنایا اور سن کر انتظار کرنے لگے کہ حضرت بختیار کاکیؒ اس واقع کی کیا توجیح پیش کرتے ہیں پیرو مرشد نے محبت آمیز نظروں سے بابا فرید ؒ کی طرف دیکھا اور بولے کہ’’ فرزند! اللہ عزوجل اپنے نیک اور فرمابردار بَندوں کو ایسی نشانیاں دیکھاتا ہے۔ وہ سنگریزے حقیقت میں سنگریزے ہی تھے مگر تمہارے لبوں کو چھو کر اپنی فطرت بدل دیتے تھے ۔اور یہ سب اللہ عزوجل کے حکم سے ظہور پزیر ہوا تھا ۔جب روح کثافت کا لباس اتار کر لطافت کی قباء پہن لیتی ہے تو اور مسلسل ریاضت سے نفس کی سرکشی ختم ہو جاتی ہے تو انسان دائمی حلاوت (ابدی مٹھاس) حاصل کر لیتا ہے سنگریزوں کا شکر بن جانا اسی شرینی کی وجہ سے ہے ۔جسے اللہ عزوجل نے اپنی رحمت سے تنہاری روح میں شامل کر دیا ہے ۔فرید تمہیں قدرت کا یہ خاص انعام مبارک ہو کہ آج سے تم ’’ گنج شکر‘‘ بن گئے۔

ایک بار پیرومرشد کی زبان سے یہ الفاظ کیا ادا ہوئے ۔۔۔ بابا فرید قیامت تک کے لیے گنج شکر بن گئے۔بابا فرید گنج شکر بن گئے اور اسکے بعد انکی زندگی میں بہت سے ایسے وا قعات ملتے ہیں۔ جن سے انکے گنج شکر ہونے کے فیض و برکات ظاہر ہوتے ھیں۔ انکی تفصیل پھر کبھی پیش کروں گی ۔انشاء اللہ عزوجل۔

نوٹ: یہ تحریر لکھنے کے لئے مدد خان آصف کی کتاب ’’ اللہ کے سفیر ‘‘  اُور دیگر کتب سے لی گئی ہے۔


یارب دَر فرید کے منگتوں کی خیر ہُو
اِنکے دیار پاک کے رَستوں کی خیر ہُو

خواجہ معین الدین نے دیکھا تو یہ کہا
اے بختیار تیرے مُریدوں کی خیر ہُو

خواجہ نظام الدین اور صابر علاوٗالدیں
گنج شکر کے شیر ہیں شیروں کی خیر ہُو

یہ عشق یہ جنون کِسی کو بھی نہ مِلا
آبِ وَضو کو آنکھ دی چشموں کی خیر ہُو

دیوانگی نے اُنکی ہمیں  اچھا بنادیا
مستی میں جو رہیں تیرے مستوں کی خیر ہُو

مجھ سے ہزاروں سگ ہیں تیرے نام پہ فِدا
تیرے فریدی تیرے فقیروں کی خیر ہُو

مُنکر نکیر نے مجھے دیکھا تُو یہ کہا
منگتا ہے تُو فرید کا تجھ سُوں کی خیر ہُو

ہے اُولیا کی دِل میں محبت اگر تیرے
زِندوں کی خیر ہُو تیرے مُردوں کی خیر ہُو

تُو لکھ رَہا ہے وارثی عشرت جو منقبت
جاگا تیرا نصیب نصیبوں کی خیر ہُو۔

عشرت اقبال وارثی

Thursday, 16 May 2013

اِستعانت اِمداد، وسیلہ قسط ۳


گزشتہ مضمون سےہم نے  جب اس بات کو قرآن و  احادیث مبارکہ  سے جان لیا۔ کہ،، حضرات انبیاء کرام  و  اولیائے کاملین   کے وسیلہ کا انکار قرآن و حدیث میں نہیں ملتا۔۔۔  بلکہ قرآن حدیث سے وسیلے  کے جائز  ہو نے کا اثبات ہے ۔توا ب  اگر  دِل میں یہ وہم  پیدا ہو۔ کہ۔۔ ان آیا ت واحادیث سے ظاہری زندگی میں وسیلہ بنانے کا بیان  ہے۔۔۔۔ اگرچہ بعد از وفات وسیلہ کا انکار نہیں ہے ۔مگر کیا دنیا میں تشریف آوری سے قبل اور دنیا سے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد بھی وسیلہ بنانے پر کوئی واضح دلیل ہے۔۔۔ ؟  
تو آئیے اس وہم کا ازالہ فرمایئے 

بعثت سے قبل اور بعد از وفات ظاہری   وسیلہ بنانے کی دلیل 
بعثت سے قبل 
نبی پاک علیہ السلا م کی دنیا میں  تشریف آوری سے قبل پچھلی امتیں آپ ﷺ کے وسیلہ جلیلہ سے دعا کرتے تو رب  تعالی اپنے حبیب  صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے انکی خالی جھولیوں کو مراد سے بھر دیتا۔
دلیل نمبر9

وَلَمَّا جَآءَہُمْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنۡدِ اللہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ ۙ وَکَانُوۡا مِنۡ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوۡنَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۚ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ مَّا عَرَفُوۡا کَفَرُوۡا بِہٖ ۫ فَلَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الْکٰفِرِیۡنَ﴿۸۹

اور جب ان کے پاس اللّٰہ کی وہ کتاب (قرآن) آئی جو ان کے ساتھ والی کتاب (توریت) کی تصدیق فرماتی ہے  اور اس سے پہلے اسی نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے  تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس سے منکر ہو بیٹھے  تو اللّٰہ کی لعنت منکروں پر۔
(سورہ البقرۃ آیت 89)


دلیل نمبر10
 سیدنا آدم علیہ السلام نے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وسیلہ سے دعاء فرمائی تھی اس کا ذکر اشارۃً اور صراحۃً قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں موجود ہے چنانچہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر:37 میں ہے: 

فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ- 

ترجمہ:پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمے سیکھ لئے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کی ،بیشک اللہ وہی بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے-(سورۃ البقرہ،37)

مذکورہ آیت کریمہ میں جن کلمات کے سیکھنےکا ذکر ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی ان کلمات کے متعلق " مستدرک علی الصحیحین  ، معجم اوسط طبرانی،، دلائل النبوة للبيهقي، مجمع الزوائد،  كنز العمال، تفسير در منثور, تفسیر روح البیان، میں  روایت مذکور ہے : 

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :  لما اقترف آدم الخطيئة قال : يا رب أسألك بحق محمد لما غفرت لي ، فقال الله : يا آدم ، وكيف عرفت محمدا ولم أخلقه ؟ قال : يا رب ، لأنك لما خلقتني بيدك ونفخت في من روحك رفعت رأسي فرأيت على قوائم العرش مكتوبا لا إله إلا الله محمد رسول الله فعلمت أنك لم تضف إلى اسمك إلا أحب الخلق إليك ، فقال الله : صدقت يا آدم ، إنه لأحب الخلق إلي ادعني بحقه فقد غفرت لك ولولا محمد ما خلقتك  هذا حديث صحيح الإسناد- 

ترجمہ: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  جب حضرت آدم علیہ السلام سے لغزش ہوئی  تو انہوں نے اللہ کے حضور معروضہ کیا:ائے میرے پروردگار ! میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے دعا کرتا ہوں تو مجھے بخش دے،اللہ تعالی نے فرمایا:ائے آدم !تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے جانتے ہو ابھی تو وہ دنیا میں تشریف نہیں لائے ہیں؟ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا:ائے میرے رب!تو نے جب مجھے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور اپنی روح خاص مجھ میں پھونکی تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ قوائم عرش پر " لا إله إلا الله محمد رسول الله " لکھا ہوا پایا،تو میں جان گيا کہ تو نے اپنے نام مبارک کے ساتھ انہیں کا نام پاک  ملایا ہے جو ساری مخلوق میں سب سے زیادہ تجھے پسندیدہ ومحبوب ہیں۔اللہ تعالی نے فرمایا:اےآدم ! تم نے سچ کہا ،بیشک وہ ساری مخلوق میں میرے پاس سب سے زیادہ محبوب ترین ہیں،تم ان کے وسیلہ سے دعا کرو میں ضرور تم کو مغفرت عطا کرؤنگا،اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا نہ کرتا- اس  حدیث کی سندصحیح  ہے۔


 مستدرک علی الصحیحین، كتاب تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين، حدیث نمبر: 4194- معجم اوسط طبراني حديث نمبر:6690-
 دلائل النبوة للبيهقي، حدیث نمبر: 2243 –
 مجمع الزوائد، ج،8ص،198 ،حديث نمبر:13917 دار الفکر بیروت 
 كنز العمال، كتاب الفضائل حديث نمبر: 32138 -
تفسير در منثور, سورة البقرة:37مکتبۃ الرشد


 تشریح
 جب نبی کریم ﷺ کی بعثت(دنیا میں تشریف آوری) سے قبل آپ کے وسیلے سے دعا کرنا جائز تھا تو آپ علیہ السلام کی وفات ظاہری کے بعد ممانعت کیونکر بغیر کسی دلیل کے مانی جائے۔

سبحان اللہ ذرا غور فرمائیے کہ  انسان کوجب زمین پر بھیجا گیا تو رب تعالی نے انسان کی سب سے پہلی دعا جو قبول فرمائی وہ حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ تھی  اور وہ دعا بھی ہمارے نبی علیہ السلام کےوسیلہ سے قبول فرمائی گئی  ۔
اور کل بروز قیامت میدان حشر میں بھی  سب سے پہلی دعا جو قبول کی جائے گی وہ بھی نبی علیہ السلام کے وسیلے سے کی جائے گی تمام لوگ انبیاء کرام علیھم السلام کی  خدمت میں حاضر ہونگے مگر لوگوں کی مراد  پوری  ہمارے نبی علیہ السلام فر مائیں گے آپ ﷺ رب تعالی سے جلد حساب شروع فرمانے کی دعا فرمائیں گے اور رب تعالی  دعا قبول فرمائے گا  اور یہ نعمت بھی اپنے محبوب علیہ السلام کے وسیلہ سے عطا فرمائے گا ۔

درحقیقت بات یہ ہے کہ رب تعالی اپنے حبیب ﷺ  کو اس قدر پسند فرماتا ہے کہ  آپ علیہ السلام کو وجہ تخلیق کائنات بتلایا  اور جب انسان کو زمین پر اتارا تو نبی علیہ السلام کی شان دیکھائی جب انسان کوقبر میں  اتارا جاتا ہے تو وہاں بھی اپنے نبی کی شان دیکھاتا ہے اور جب حشر کا میدان ہوگا وہاں بھی اپنے نبی علیہ السلام کی دعا سےحسا ب شروع  فرماکر ان کی شان دیکھائے گا کوثر عطا  و مقام محمود عطافرماکر اپنے حبیب علیہ السلام کی شان دیکھائے گایہ نبی علیہ السلام کو رب نے ایسے اوصاف عطا فرمائے ہیں کہ ایسی شان کسی اور نبی علیہ السلام کو رب کائنات جل جلالہ نے  عطا نہ فرمائی ۔

بعد از وفات ظاہری   
دلیل نمبر11

امام طبرانی ایک طویل حدیث نقل فرماتے ہیں کہ،،
حضرت عثمان بن حنیف بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنے کسی کام سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جاتا تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور نہ اس کے کام کی طرف دھیان دیتے تھے ایک دن اس شخص کی حضرت عثمان بن حنیف سے ملاقات ہوئی اس نے ان سے اس بات کی شکایت کی حضرت عثمان بن حنیف نے اس سے کہا کہ تم وضو خانہ جاکر وضو کرو اور پھر مسجد میں جاو اوردو رکعت نماز اد اکرو پھر یہ کہو کہ اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور ہمارے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کے واسطے سے آپ کے رب عزوجل کی طرف متوجہ ہوا ہوں تاکہ وہ میری حاجت روائی کرے اور اپنی حاجت کا ذکر کرنا پھر میرے پاس آنا حتی کہ میں تمہارے ساتھ جاوں وہ شخص گیا اور اس نے اس پر عمل کیا پھر وہ حضرت عثمان بن عفان کے پاس گیا دربان نے ان کےلئے دروازہ کھولا اور انہیں حضرت عثمان بن عفان کے پاس لے گیا حضرت عثمان نے انہیں اپنے ساتھ مسند پر بٹھالیا اور پوچھا کہ تمہارا کیا کام ہے اس نے اپناکام ذکر کردیا حضرت عثمان نے اس کا کام کردیا اور فرمایا کہ تم نے اس سے پہلے اپنے کام کا ذکر نہیں کیا تھا اور فرمایا کہ جب بھی تمہیں کوئی کام ہو تو تم ہمارے پاس آجانا پھر وہ حضرت عثمان کے پاس سے چلاگیا اور جب اس کی حضرت عثمان بن حنیف سے ملاقات ہوئی تو کہا کہ اللہ تعالی آپ کو جزائے خير عطا فرمائے حضرت عمارن میری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور میرے معاملہ میں غور نہیں کرتے تھے حتی کہ آپ نے ان سے میری سفارش کی حضرت عثمان بن حنیف نے کہا بخدا میں نے ان سے کوئی سفارش نہیں کی لیکن ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور اس نےاپنی نابینائی کی شکایت کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اس پر صبر کرو گے اس نےکہا یا رسول اللہ مجھے راستہ دیکھا نے والا کوئی نہیں ہے اور مجھے بڑی مشکل ہوتی ہے تو رسول اللہ نے فرمایا کہ تم وضو خانے جاؤ اوروضو کرو پھر دورکعت نماز پڑھو پھر ان کلمات سے دعا کرو حضرت عثمان بن حنیف فرماتے ہیں کہ ہم الگ نہیں ہوئے تھے اور نہ ابھی زیادہ باتیں ہوئی تھیں کہ وہ نابینا شخص اس حال میں آیا کہ اس میں بالکل نابینائی نہیں تھی ۔

حوالہ۔۔
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث نمبر 8311
شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام     الباب الثامن فی التوسل صفحہ 371، دار الکتب العلمیۃ
احمد بن حسين البيهقي نے دلائل النبوۃ للبہیقی  میں اور
امام جلال الدین سیوطی نے  الخصائص الکبری میں اس حدیث کو نقل فرمایا ہے 
حافظ زکی الدین عبد العظیم نے الترغیب والترہیب میں او رحافظ الہیثیمی نے مجمع الزوائد میں
اس حدیث کو بیان کرکے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے 

بلکہ ابن تیمیہ نےکہ جو غیر مقلدین کے امام ہیں اس حدیث کی سند کوفتاوی ابن تیمیہ جلد ۱ صفحہ ۲۷۳ مطبوعہ با مر فہد بن عبد العزیز آل السعود میں صحيح فرمایا ہے

تشریح
اس سے معلو م ہوا کہ  صحابی رسول   حضرت عثمان بن حنیف نے  نبی کریم ﷺ  سے توسل  کو فقط  آپ ﷺ کی حیات طیبہ کے ساتھ خاص نہ کیا بلکہ صحابی  رسول  ﷺ نے اس توسل کے طریقہ کو نبی علیہ السلام کی وفات ظاہری کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی جاری رکھا تو  جب صحابی رسول  ﷺ کا خود کا عمل یہ واضح کررہا ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام  کا  وسیلہ بعد آپ ﷺ کی و فات ظاہری کے بعد بھی اسی طرح جائز ہے جس طرح آپ ﷺ کی حیاتی میں جائز امر تھااگر بعد وفات ناجائز ہوتا تو نبی پاک علیہ السلام کے صحابی ہرگز اس طرح کےعمل کی تعلیم  کسی دوسرے  کو نہ دیتے  اور و ہ صاحب قرون ثلاثہ  بھی اس عمل کو نہ اپناتے بلکہ ناجائز ہی بتلاتے لہذا صحابہ کا بعد وفات ظاہری بھی اس عمل کو جاری رکھنا اس کے جائز ہونے پرواضح  دلیل ہے۔

نیز اگر  بعد از وفات  یہ ناجائز ہوتا تونبی پاک علیہ السلام  بھی جب اپنے   صحابہ کو اپنے  وسیلہ  سے دعا کی تعلیم ارشاد فرمارہے تھے ضرور اس بات پر بھی متنبہ فرماتے  کہ اے میر ے صحابی میرے وسیلہ  سے دعا تم میری  حیاتی تک کرنا  اس کے بعد نہ کرنا کیو نکہ یہ ایک لازمی امر ہے جب نبی پاک ﷺ نے اپنے وسیلہ  سے دعا کی   مطلق تعلیم دی تو اس سے یہی سمجھا جائے گا کہ   آپ ﷺ کے وسیلہ  سے دعا کرنا  آپ ﷺ کی حیاتی  میں ا ورظاہری وفات کے بعد بھی جائز  ہے اسی لئے حضرت عثمان بن حنیف نے نبی پاک علیہ السلام کے پردہ فرماجانے کے بعد بھی اس عمل کو جاری رکھاکیونکہ کوئی ایسا  قرینہ تھا ہی نہیں  جس سے یہ واضح ہو کہ یہ حکم فقط نبی پاک علیہ السلام کی  حیات مبارکہ تک  ہے۔

دلیل نمبر12

امام بخاری علیہ رحمۃ الباری  کے استاد  امام ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ  اپنی کتا ب مصنف ابن ابی شیبہ میں صحیح اسناد کے ساتھ یہ روایت  بیان فرماتے ہیں
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ مَالِكِ الدَّارِ , قَالَ : وَكَانَ خَازِنَ عُمَرَ عَلَى الطَّعَامِ , قَالَ : أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِي زَمَنِ عُمَرَ , فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى قَبْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ , اسْتَسْقِ لأُمَّتِكَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا , فَأَتَى الرَّجُلَ فِي الْمَنَامِ فَقِيلَ لَهُ : ائْتِ عُمَرَ فَأَقْرِئْهُ السَّلامَ , وَأَخْبِرْهُ أَنَّكُمْ مُسْتَقِيمُونَ وَقُلْ لَهُ : عَلَيْك الْكَيْسُ , عَلَيْك الْكَيْسُ , فَأَتَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَبَكَى عُمَرُ , ثُمَّ قَالَ : يَا رَبِّ لاَ آلُو إلاَّ مَا عَجَزْت عَنْهُ. 

مالک بن دینار جو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وزیر خوراک تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک بار لوگوں پر قحط آگیا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ اپنی امت کے لئے بارش کی دعا کیجیے کیونکہ وہ ہلاک ہورہے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا کہ عمر کے پاس جاؤ ان کو سلام کہو اور یہ خبر دو کہ تم پر یقینا بارش ہوگی اور ان سے کہو کہ تم پر سوجھ بوجھ لازم ہے پھر وہ حضرت عمر کے پاس گئے اور ان کو خبر دی حضر ت عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور کہا کہ اے اللہ میں صرف اسی چیز کو ترک کرتا ہوں کہ جس سے میں عاجز ہوں۔

 مصنف بن ابی شیبہ حدیث نمبر 32665
اس روایت کو حافظ ابن کثیر نے بھی روایت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ روایت صحيح ہے
 البدایہ والنہایہ ج۷صفحہ۹۱ دار الفکر بیروت
اسی طرح اما م المحدثین حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی اس روایت کو صحیح فرمایا ہے اور فرمایا کہ وہ خواب دیکھنے والے صحابی  حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ تھے۔ 
فتح الباری جلد ۲ صفحہ۴۹۵نشر الکتب اسلامیہ 
سنن بیہقی، وفاء الوفاء ، انجاح الحاجہ ، ابن عبدالبر

تشریح
اللہ اکبر صحابی حضرت بلال بن حارث مزنی کا عقیدہ دیکھے  معلوم تھا کہ جس  بارگاہ  میں حاضر ہوا ہوں وہ حیات میں وہ میری فریاد کو سنیں  گے بھی اور اپنی امت کی مدد بھی فرمائیں گے  اور رب کے حضور رحمت کی بارش کی دعا کریں گے پھر رب تعالی اپنے  بندوں پر اپنی نبی علیہ السلام کے صدقے میں رحمت  بھری بارش نازل فرمائے گا۔

 چنانچہ ایسا ہی ہواحضور علیہ السلام نے اپنے غلام  صادق پر  کرم فرمایا اور خواب میں تشریف لا کر  یہ بتلادیا کہ  اے میرے غلاموں مایوس نہ ہو میں اپنے غلاموں کی رب تعالی کے عطا سے فریاد سنتا ہوں اور پھر رب ہی کے اذن و عطا سے ان کی مدد بھی کرتا ہوں۔

اگر اسطرح نبی علیہ السلام سے  بارش وغیرہ کے لئے مدد مانگنا شرک یا حرام ہوتا تو صحابہ یہ عمل ہرگز نہ اپناتے اور پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ سارا واقعہ بیان کیا اگر یہ ناجائز ہوتا  تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس آنے والے صحابی کو اس عمل کے ناجائز   ہو نے کا جواب ارشاد فرماتے بلکہ آپ  کا  اس کی تصدیق فرمانا اس  کے جائز ہونے پر دلیل ہے ۔

نیز  یہ بھی غور طلب امر ہے کہ  بڑے بڑے محدثین نے اس حدیث کے صحیح ہونے پر جزم فرمایا اگر یہ ناجائز یا شرک ہوتا معاذا للہ تو اس قدر بلند پایہ کے علماء و فقہاء و محدثین اس حدیث کے صحیح ہونے  کا حکم لگانا توکجا وہ اس کے موضوع ہونے کا حکم بیان فرماتے اور وسیلے کے ناجائز وشرک ہونے کو ضرور بیان فرماتے ۔
(جاری ہے)

Tuesday, 7 May 2013

کیا آپ کے پاس جواب ہے۔ اِس سُوال کا ۔۔۔؟


ایگزامنیشن  ھال میں حماد ، رضوان، اُور بابر نے   تقریباً ڈیڑھ گھنٹے سے ایک عجیب ھنگامہ کھڑا کئے ہُوا تھا۔ جسکی وجہ سے کمرہ امتحان میں ایگزامنر کیساتھ ساتھ تمام طلبہ میں بے چینی سے پھیلی ہُوئی تھی۔ کیونکہ اِن تینوں کی مسلسل چیخ و پُکار کی وجہ سے بقیہ تمام طالب علم بھی ڈسٹرب ہُورہے تھے۔ کیونکہ جب بھی طلبہ انہماک سے پرچہ حل کرنے کی کوشش کرتے۔ کبھی حماد اپنے مطالبات کا پرچار کرنے لگ جاتا۔ تو کبھی بابر  یہی راگ اَلاپنے لگتا۔۔۔اُور جب  یہ دُونوں خاموشی اِختیار کرلیتے۔ تو رِضوان  اُنہی ڈیمانڈ کا رُونا شروع کردیتا۔۔۔۔

  حماد ایک بہت بڑے زمیندار کا بیٹا تھا۔ اُور۔رِضوان ایک صنعتکار کا بیٹا تھا۔۔۔۔ جبکہ  بابر نہ کسی صنتکار کا بیٹا تھا۔۔۔ اُور نہ ہی کسی زمیندار گھرانے کا چشم چراغ تھا۔۔۔ لیکن رضوان اُور حماد کی وجہ سے پروٹوکول اُسے بھی  کالج میں  پُورا پُورا حاصل تھا۔۔۔۔ جب اِن تینوں کی ھنگامہ آرائی ناقابل برداشت ہُوگئی۔ تو  ایگزامنر نے اِنہیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہُوئے کہا،، دیکھو بچوں آپ تینوں کی وجہ سے دوسرے بچوں کی بھی سال بھر کی محنت دَاوٗ پر لگی ہُوئی ہے۔۔۔ یہاں اِس کمرے میں آپ لوگوں کو صرف چار گھنٹے کی مہلت حاصل  ہے۔ جِس میں سے نصف وقت آپ لُوگ شُور شرابے  اُور اِحتجاج میں صرف کرچکے ہیں۔۔۔۔ اگر آپ لوگوں نے یہ وقت پرچہ حل کرنے میں گُزارا ہُوتا۔۔۔ تو آپ لوگ بھی نصف کامیابی حاصل کرچکے ہُوتے۔

لیکن آپ لوگ ابھی تک اِسی مسئلے میں اُلجھے ہُوئے ہیں۔۔۔ کہ کرسیاں آپ لوگوں کے اِسٹیٹس کے مُطابق نہیں ہیں۔۔۔ کمرہ امتحان کا رنگ بوسیدہ ہُوچُکا ہے۔  اُور یہاں آپ لوگوں کو فین کے بجائے ائر کنڈیشنر کی سہولت چاہیئے۔۔۔ یہ تمام سہولتیں تو آپکو گھر میں حاصل ہُوسکتی ہیں۔ اُور امتحان میں کامیابی کے بعدآپ مسقبل میں حاصل کرسکتے ہیں۔۔ لیکن آپ لوگ صرف چار گھنٹے کی معمولی سی تکلیف برداشت کرنے کیلئے بھی رضامند نہیں ہیں۔۔۔۔ ایگزامنر کے خاموش ہُوتے ہی حماد نے دہاڑ کر ایگزمنر کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ ماسٹر صاحب اپنی نصیحتیں اپنے پاس رکھیں۔۔۔۔ ہمارے ایک اِشارے پر ہمارے گھر والے ہماری ہر ایک خواہش کو پُورا کرنے میں جُٹ جاتے ہیں۔۔۔۔ اسلئے ہمیں کمرہ امتحان میں بھی تمام آسائشیں درکار ہیں۔۔۔ جب تک ہماری تمام  ڈیمانڈز پوری نہیں کی جاتیں۔۔۔ ہم قلم و کاغذ کو ہاتھ بھی نہیں لگانے والے۔۔۔۔

ذرا ٹہریئے۔۔۔
۔
۔
۔
آپ یہی سُوچ رہے ہیں نا کہ،، یہ حماد، رضوان، اُور بابر کتنے بڑے بے وقوف ہیں۔۔۔ جنہیں کمرہ امتحان کی قدر ہے۔نہ۔۔۔اپنے پُورے سال کی محنت کی۔۔۔ اُور اِنکی فرمائش بھی  بے جا ہے۔ اُور  اِنکا جُرم بھی ناقابل تلافی ہے۔۔۔ خود اپنا بھی نقصان کرنے پر تُلے ہیں۔۔۔ اُور دوسروں پر بھی اثر انداز ہُونے کی جراٗت کررہے ہیں۔۔۔۔ اگر آپ بھی واقعی ایسا  ہی سُوچ رہے ہیں۔ تو کچھ غلط بھی نہیں سُوچ رہے۔
۔
۔
۔
لیکن
۔
۔
۔
کیا ہم لوگ بھی مجموعی طُور پر۔ حماد، رضوان،اُور بابر جیسی سُوچ کے حامل نہیں ہیں۔۔۔؟؟؟
۔
۔
۔ کیونکہ سُوچ تو ہم لوگوں کی بھی  اکثریت میں ،،حماد، بابر، اُور رِضوان سے مِلتی جلتی ہی ہے۔ وُہ لوگ بھی کمرہ اِمتحان میں تمام آسائش کے متمنی ہیں۔ اُور آسائش و پروٹوکول تو ہمیں بھی  کمرہ اِمتحان میں درکار ہے۔۔۔۔ حالانکہ ہم سبھی جانتے ہیں۔ کہ،، یہ دُنیا کمرہ امتحان ہے۔ جہاں ہمیں آزمائش و اِمتحان کیلئے بھیجا گیا ہے۔۔۔ جو یہاں اچھے نمبر حاصل کرے گا۔۔۔۔ اُسے انعامات و پروٹوکول۔۔۔۔ قبر و حشر تا جنت عطا کیا جائے گا۔ جس نے  جسقدر صعوبت اُور تکلیف ذیادہ برداشت کی ہُوگی، صبر کیا ہوگا،، کم نعمت پر شُکر کیا ہُوگا۔۔۔ وہی ذیادہ انعام کا حقدار ٹہرے گا۔ وہی کامیاب ہُوگا۔ ۔۔ جس کے عمل میں اخلاص ہُوگا۔ وہی فاتح ٹہرے گا۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔ ہم صبر نہیں کرسکتے۔۔۔ ہمیں آزمائش نہیں دینی۔۔۔ ہمیں دُکھ کا مُنہ نہیں دیکھنا۔ جو ہمیں اچھا لگے وُہ سب کچھ ہمیں چاہیئے۔۔۔۔ چاہے ہمارے عمل کی بیاض خالی سہی۔ لیکن ہمیں پروٹوکول چاہیئے۔۔۔۔


اگرچہ دُنیا دارالعمل ہے۔ دارالجزا نہیں۔۔۔۔ مگر ہمیں جزا یہاں چاہیئے۔ نہ ہم صبر کریں گے۔ نہ اپنے محبوب سے دُوری برداشت کریں گے۔۔۔۔ بس ہماری زُبان سے بات نِکلے اُور پوری ہُوجائے۔۔۔۔ ہمیں کوئی اِمتحان نہیں دینا۔۔۔ بغیر محنت اُور مشقت تمام سہولتیں درکار ہیں۔۔۔۔ اگر یہ دُنیا ایک کمرہ امتحان ہے۔ تو ٹھیک ہے۔ ہم امتحان دینے کیلئے تیار ہیں۔۔۔۔مگر۔۔۔۔۔ اِس امتحان گاہ کے وقت کا تعین ہم کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ امتحان کب دینا ہے۔ اُور کیسے دینا ہے۔ اِسکا اختیار بھی ہمیں مِلنا چاہیئے۔۔۔ ہمیں اِس کمرہ امتحان میں ہر ایک وُہ سہولت چاہیئے۔ جسکی خاہش دِل میں پیدا ہُو۔ یا جسکی طلب ہمارا نفس کرے۔۔۔۔۔
۔
۔
۔
دِل پر ہاتھ رکھ کر سچ کہیئے!!! کیا یہ ہمارے نفس کی آواز نہیں ہے۔۔۔؟ کیا ہمارا  بھی دِل اِس دُنیا کا طلبگار نہیں ہے۔
کیا ہم بھی امتحان کے چور نہیں ہیں۔۔۔؟؟؟
کیا ہم بھی وقت تباہ کرنے پر تُلے  ہُوئےنہیں ہیں۔۔۔؟
کیا ہم نے بھی شُور مچا مچا کر زمانے میں اُدھم برپا نہیں کیا ہُوا۔۔۔؟
کیا ہم کو بھی ہر ناصح پر غُصہ نہیں آتا۔۔۔؟ جو ہمیں صبر و شکر کی تلقین کرتا ہے۔
۔
۔
۔
اگر ایسا ہے۔۔۔۔ جو کہ یقیناً ہے۔۔۔ تو۔۔۔۔ کیا فرق ہے۔ اُن تینوں۔۔۔ اُور ہم میں۔۔۔۔
۔
جب کہ اللہ کریم کی مشیت تو یہی ہے۔ کہ،، ہر کام میں ترتیب ہُو۔ جو ذیادہ محنت کرے۔ وُہ ذیادہ انعام پائے۔ اُس کریم نے ہمیں  آزمانے کیلئے اِس کمرہ امتحان میں بھیجا ہے۔ تاکہ  خُوب محنت  کے ذریعےکامیابی ہم حاصل کریں۔۔۔۔  اُور وُہ  کریم عزوجل ،،حضرت انسان کی کامیابی کا تذکرہ  معصوم فرشتوں کے درمیان فرمائے۔۔۔ اُور کامیابی کا تاج حضرت انسان کے سر پہ سجا کر اُسے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے انعامات  سے سرفراز کردے۔کہ،، امتحان لینا اگر مقصود نہ ہُوتا تو وُہ ہمیں اِس دُنیا میں بھیجتا ہی کیوں۔۔۔؟؟؟ پیدا فرماتے ہی جنت میں داخِل نہ فرمادیتا۔؟