bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Sunday, 1 May 2016

بِیٹی





بِیٹی

کئی دِن سے میں اِس سوال کا جواب تلاش کررہا تھا ۔ کہ،، کیوں ہمیشہ باپ کو بیٹی ہی ذیادہ پیاری 
نظر آتی ہے۔۔۔؟

اِس سوال کا جواب گُذشتہ دِنوں مجھے اپنی سات برس کی بیٹی جائزہ علی کے ایثار نے سمجھا دیا۔۔۔ میں نے کئی مرتبہ محسوس کیا ہے کہ جب بیٹے کھیل رہے ہُوتے ہیں۔ جائزہ کی نِگاہیں چوری چُوری میرے چہرے کا طواف کررہی ہُوتی ہیں۔۔۔ اُور جب میں اُسکی چوری پکڑ لیتا ہُوں۔تو وُہ مسکرا کر اپنی نظریں جھکا لیتی تھی۔

اُس دِن بھی پانچ سالہ احمد رضا مجھ سے ضد کررہا تھا۔کہ آپ نے بھائی کو موبائیل گفٹ کیا ہے۔ تو مجھے بھی پلے اسٹیشن یا ٹیبلیٹ پی سی لا کر دیں۔ اچانک میرے دِل میں خیال آیا کہ،، ہر بچے نے اپنی پسند کی چیز لے لی ہے۔لیکن جائزہ نے کچھ نہیں مانگا۔ اَب صرف وہی باقی رِہ گئی ہے۔۔۔ سُو اُسے بھی کچھ نہ کچھ بڑا گفٹ چاہیئے ہُوگا۔

میں نے اُسکی جانب دیکھا، تو حسب سابق وُہ مجھے ہی دیکھ رَہی تھی۔
میں نے پوچھا۔گُڑیا سب ہی گفٹ مانگ رہے ہیں آپکو بھی کوئی مہنگا گفٹ چاہیئے۔۔۔۔؟

اُس نے مُسکرا کر میری جانب دیکھا اُورکہا۔ نہیں بابا موبائیل اُور ٹیبلیٹ تو بُہت مہنگے ہُوتے ہیں مجھے جب کھیلنا ہُوگا۔ تو آپکے ہی موبائیل پر کھیل لُونگی۔۔۔ میں نے حیرت سے استفسار کیا گُڑیا اگر کچھ چاہیئے تو کہہ دُو پیسے کی فکر مت کرو۔

اُس نے مُسکرا کر ایکبار پھر میری جانب دیکھا اُور بُولی بابا اگر آپ دینا ہی چاہتے ہیں تو ایک چھوٹی سی گُڑیا لا دیجئے گا۔۔۔ بس وہی کافی ہے۔
۔
مجھے میرے سوال کا جواب مِل چُکا تھا۔۔۔ کہ،، باپ کے دِل میں بیٹی کی مُحبت قرض کی طرح ہُوتی ہے۔ جِسے دھیرے دھیرے بیٹی باپ کے دِل پر چڑھاتی جاتی ہے۔۔ پھر باپ بیٹی کو کتنا ہی لُوٹادے۔ اُسے ہمیشہ یہی لگتا ہے ۔کہ ابھی قرض چُکانا باقی ہے۔

.
عشرت اقبال وارثی۔




0 comments:

Post a Comment