bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Friday, 22 March 2013

استخارہ کیا ہے۔۔۔؟۔ معلومات اُور اِحتیاط۔

اِستخارہ کیا ہے۔۔۔؟

اَحادیث مبارکہ کی رُوشنی میں استخارہ کا معنی ہیں۔ اللہ کریم سے کسی عمل کے متعلق مشورہ طلب کرنا۔۔۔۔ اُور بے شک اللہ کریم سے بہتر مشورہ کُون دے سکتا ہے۔ اُور اللہ کریم کے مدنی محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث مبارکہ میں اتنی کثرت کیساتھ استخارے کی تاکید فرمائی ہے۔کہ،، مشہور صحابی رسول صلی اللہ علیہ و۔آلہ وَاصحابہ وسلم حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہٴ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو تمام کاموں میں استخارہ اتنی اہمیت سے سکھاتے تھے جیسے قرآن مجید کی سورت کی تعلیم دیتے تھے ۔
(ترمذی شریف)۔
جبکہ استخارہ کی اہمیت و فضیلیت سمجھنے کیلئے یہ ایک حدیث بھی کافی ہے۔مجمع  الاسانید میں ایک حدیث پاک کامفہوم ہے کہ،، اِبن آدم کی بدبختی ہے یہ بات کہ،، وُہ اللہ کریم سے استخارہ کرنا چھوڑ دے۔

اُور اِسی طرح  مشکواۃ شریف کی ایک حَدیث میں  سعد بن وقاص  (رضی اللہ عنہُ) ایک روایت اِرشاد فرماتے ہیں۔ کہ،، اللہ کریم کے مدنی محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) اِرشاد فرماتے ہیں۔کہ،،  انسان کی سعادت اورنیک بختی یہ ہے کہ ،، وُہ اپنے کاموں میں استخارہ کرے اور بدنصیبی یہ ہے کہ استخارہ کو چھوڑ بیٹھے،اور انسان کی خوش نصیبی اس میں ہے کہ اس کے بارے میں کیے گئے اللہ کے ہر فیصلے پر راضی رہے اور بدبختی یہ ہے کہ وہ اللہ کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کرے۔

طبرانی شریف کی بھی ایک حدیث مُلاحظہ فرمائیں۔۔۔کہ،، جو آدمی اپنے معاملات میں استخارہ کرتا ہو۔ وہ کبھی ناکام نہیں ہوگا اور جو شخص اپنے کاموں میں مشورہ کرتا ہو۔ اس کو کبھی شرمندگی یا پچھتاوے کا سامنا نہ کرنا پڑے گا۔۔۔۔ یعنی جو اپنے معملات زندگی میں استخارے کو شامل کرلیتا ہے۔ اللہ کریم اُسکے فیصلوں  کے اثرات میں خیر و برکت رکھ دیتا ہے۔

استخارے کا مسنون طریقہ۔

جب بھی استخارہ کرنا مقصود ہو۔ اُس وقت ۲ رکعت نفل نماز پڑھیں۔ صرف مکروہ وقت یا جن اُوقات میں نِفل نماز نہیں پڑھی جاتی۔ اُس وقت سے پرہیز لازم ہے۔ نفل نماز سے فارغ ہُونے کے بعد دُعائے استخارہ پڑھیں۔ اور جب ھَذالامر۔ پر پُہنچیں تو جِس مقصد کے لئے استخارہ کررہے ہیں۔ وُہ بیان کریں ۔ یعنی ہذا الامر “کی جگہ اپنے کام کا نام لینا ہے۔، مثلا ”ہذا السفر “یا ”ہذا النکاح “ یا ”ہذہ التجارة “یا ”ہذا البیع “کہے ، اور اگر عربی نہیں جانتا تو ”ہذا الأمر “ کہہ کر دل میں اپنے اس کام کے بارے میں سوچے اور دھیان دے جس کے لیے استخارہ کررہا ہے۔


دُعائے اِستخارہ یہ ہے۔
اَللهُمَّ إِنِّيْ أَسْتَخِيْرُكَ بِعِلْمِكَ وَ أَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَ أَسْئَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيْمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَ لَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ ، اَللّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِّيْ فِيْ دِيْنِيْ وَ مَعَاشِيْ وَعَاقِبَةِ أَمْرِىْ فَاقْدُرْهُ لِيْ وَ يَسِّرْهُ لِيْ ، ثُمَّ بَارِكْ لِيْ فِيْهِ ۔ وَ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِّيْ فِيْ دِيْنِيْ وَ مَعَاشِيْ وَعَاقِبَةِ أَمْرِيْ فَاصْرِفْهُ عَنِّيْ وَاصْرِفْنِيْ عَنْهُ وَ اقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِيْ بِهِ ۔ 

ترجمہ: اے اللہ ميں تجھ سے بھلائى طلب كرتا ہوں تيرے علم كے ذريعے سے، اور تجھ سے طاقت مانگتا ہوں تيرى طاقت كے ذريعے سے، اور تجھ سے سوال كرتا ہوں تيرے فضل عظيم كا ، اس ليے كہ تو طاقت ركھتا ہے اور ميں طاقت نہیں ركھتا، اور تو جانتا ہے اور ميں نہیں جانتا ، اور تو جاننے والا ہے تمام غيبوں كا ۔اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ بےشك يہ كام بہتر ہے ميرے ليے ميرے دين ميں اور ميرے معاش ميں اور ميرے انجام كار ميں تو تو اس كو ميرے ليے مقدر كر دے۔ اور اسے ميرے ليے آسان فرما دے، پھر ميرے ليے اس ميں بركت ڈال دے۔ اور اگر تو جانتا ہے كہ بے شك يہ كام ميرے ليےبرا ہے ميرے دين ميں اور ميرے معاش ميں اور ميرے انجام كار ميں، تو تو اس كو پھیر دے مجھ سے اور مجھ كو پھیر دے اس سے ، اور مقدر كر دے ميرے ليے بھلائى ، جہاں بھی وہ ہو ، پھر مجھے اس پر راضى كر دے۔

استخارہ خُود کرنا بہتر ہے۔ استخارہ ایک مرتبہ سے لیکر ایک ماہ تک بھی کیا جاسکتا ہے۔ بعض لوگوں کا دل ایک مرتبہ کے بعد  ہی کسی ایک فیصلے پر جم جاتا ہے جبکہ بعض لوگوں کو ایک ماہ کے بعد بھی دلجمعی حاصل نہیں ہُوپاتی۔۔۔۔ کیونکہ استخارہ کرنے والے کا مقصد یہی ہُوتا ہے ۔ کہ وُہ اپنے کاموں میں اللہ کریم کی مشاورت و رضا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسلئے اگر وُہ خود استخارہ کرنے کے بجائے کسی اُور کو اپنے استخارے کیلئے وکیل قائم کرے تب بھی اُسکا مقصد یہی ہُوتا ہے۔ کہ،، وُہ اُس کام کیلئے اللہ کریم کی رضا کا طالب ہے۔ لہذا کسی اُور سے بھی استخارہ کروانا جائز اَمر ہے۔

یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے۔ کہ ،،چونکہ استخارہ کا مقصد اللہ کریم کی مشاورت و رضا حاصل کرنا ہُوتا ہے۔ اِس لئے استخارے کے معاملہ میں بے صبری اُور مذاق شامل نہیں ہُونا چاہیئے۔۔۔ اُور نہ ہی روز روز یہاں وہاں سے استخارہ کروا کر اُن کے نتائیج کو آپس میں  جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کریں ۔۔۔کہ یہ عمل اللہ کریم کے غضب کو دعوت دینے کے مُترادف ہے۔دوسری بات یہ بھی یاد رکھنی چاہیئے ۔کہ دُعا تقدیر بدل دیتی ہے۔ اِس لئے ممکن ہے۔ کہ جو بات آج استخارے میں ممنوع ہُو۔ کل اُسی بات کی اجازت استخارے میں مِل جائے۔ کیونکہ میرے مشاہدے میں ایسے بُہت سے معملات ہیں۔ کہ اسلامی بھائیوں یا بہنوں نے رشتہ کیلئے استخارہ کروایا۔ اُس وقت رشتہ کی اجازت نہیں مِلی۔ بعد میں اُنہوں نے صلواۃ الحاجات یا  صلواۃ الاسرار پڑھ کر دعا کی۔۔۔ اور چند دِن بعد جب  دُوبارہ استخارہ کروایا گیا۔ تو اُسی رشتے کی استخارے میں اجازت مِل گئی۔۔۔ بے شک دعائیں  حالات و واقعات کو تبدئل  کرنے کا اثر رکھتی ہیں۔۔۔اللہ کریم ہمیں اپنے 
تمام اعمال میں استخارے کو شامل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم۔

اِستخارہ میں کیا معلوم نہیں کرنا چاہیئے۔۔۔؟؟؟

جب ہمیں یہ عِلم ہُوگیا۔کہ،، اِستخارہ اللہ کریم سے مشورہ کرنے کا نام ہے۔ تو یہ مشورہ اِس اَمر کا متقاضی ہے۔ کہ اللہ کریم کی بارگاہِ بے نیاز میں مشورہ نہایت اَدب و اِحترام سے پیش کیا جانا چاہیئے۔۔۔ اِستخارے میں ایسے سَوالوں سے پرہیز کرنا چاہیئے۔ جِن میں بے حیائی کا عنصر موجود ہُو۔ یا بے ادبی کا شائبہ محسوس ہُو۔ دُوسری بات یہ بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ ،، مشورے میں ایسے سوال ہر گز شامِل نہ کئے جائیں۔ جس میں غیب کے معملات سے آگاہی کی خواہش ہُو۔۔۔ مَثلاً۔۔۔ میرا رِزلٹ کیا نِکلے گا۔ ،،میرا کام ہُوگا۔ یا نہیں ہُوگا۔ شادی ہُوگی یا نہیں ہُوگی۔۔۔ فُلاں شخص کے دِل میں کیا بات ہے۔۔۔؟ وُہ شادی کے بعد دھوکہ تُو نہیں دے گا۔۔۔؟ وَغیرہ وَغیرہ۔ جیسے تمام لغو سوالوں سے بچتے ہُوئے سوال مشورے کے انداز میں ہُوں۔۔۔ جیسے۔ کہ،، مجھے یہ کام کرنا چاہیئے یا نہیں۔۔۔؟ یا فلاں شخص کیساتھ رشتہ کرنا چاہیئے یا نہیں۔ یا فُلاں شخص کیساتھ شراکت مُناسب ہے یا نہیں۔ یا مجھ پر کوئی جادو یا جنات کے اثرات تو نہیں ہیں۔۔۔؟ وغیرہ وغیرہ









2 comments:

  1. assalam ale kum.bhai bhot khoob.....

    ReplyDelete
  2. Bohat informative hae, boht logon ka bhala hoga iss sy InshaALLAH

    ReplyDelete