bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Friday, 19 April 2013

وسیلہ استغاثہ استمداد۔ شریعت میں۔ مفتی محمد بلال رضا قادری دامت برکاتہم عالیہ

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ ۔۔۔سورہ المائدہ ۳۵

وسیلہ کی حقیقت
سُوال : استعانت، استمداد ،استغاثہ اور وسیلہ کسے کہتے ہیں؟ان کے مابین کوئی فرق ہے یا نہیں ؟ اور استمداد وغیرہ کرنا جائز ہے یا شرک ہے ؟ اگر جائز ہے تو اس کا ثبوت قرآن  احادیث صحیحہ سے ہے یا نہیں ۔۔۔؟اورجب اللہ تعالی حقیقی مدد فرمانے والا ہے اور یہ اولیا ء انبیاء صرف ہمارے لئے دعا فرمانے والے ہیں۔۔ یا اللہ تعالی کی اجازت سے مدد فرماتے ہیں تو پھر ان کے وسیلے سے کیوں دعا مانگیں ۔یا ان کو مدد کے لئے کیوں پکاریں۔۔۔؟

انشاء اللہ عزوجل ان تمام سوالات کے جوابات اس مضمون میں شامل ہیں 

تمہیدی کلمات

وسیلہ  خواہ  تقرب کیلئے ہو یا  حاجت روائی کیلئے ہوخواہ  کسی نیک اعمال کا ہو یا کسی نیک بندے کا ہو ۔خواہ  وہ نیک ہستی حیات ہو۔ یا ظاہری وفات پاچُکی ہو۔۔۔خواہ وَسیلہ کلام حقیقی ذاتی کی صورت میں ہو ۔یا کلام مجازی کی صورت میں ہو۔ یہ قرآن واحادیث کی روشنی میں ایک ثابت شدہ امر ہے۔  اور جائز ہے۔۔۔اِسے  شرک  کہنا  عام مسلمانوں بلکہ بڑے بڑے محدثین تابعین اور صحابہ کرام  علیھم الرضوان  پر الزام کے مترادف  ہے۔ بلکہ اِن نفوسِ قُدسیہ کو  شرکیہ افعال میں مبتلا ہونے والا۔ کہنے کے مترادف ہے ۔۔۔

حالانکہ قرآن کی کسی  آیت اور کسی حدیث میں وسیلہ کا انکار نہیں ہے ۔اُور جو حضرات ہٹ دھرمی دِکھاتے ہوئے قرآن کی  وہ آیات پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں۔۔ کہ،، جس میں بتوں کو پوجنے اور ان سے مدد مانگنے سے منع کیا گیا ہے۔ جُو کہ ،،صریح گُستاخی تُو ہے ہی۔۔۔ لیکن علمی خیانت بھی ہے۔۔۔ کہ جانتے بُوجھتے آیات کا محل بدل دِیا جائے۔ یہ قُرانی آیات کی تفسیر  بالرائے کے مترادف ہے۔ جسکی اِسلام میں قطعی گنجائش نہیں ہے۔ بلکہ  اپنی جانب سے قران کی تفسیر کرنا بلااجماع علما و محدثین حرام عمل ہے۔
مثلاً
قُلْ اَنَدْعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ مَا لَا یَنۡفَعُنَا وَلَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤی اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ ہَدٰینَا اللہُ ﴿ۙ۷۱
تم فرماؤ  کیا ہم اللّٰہ کے سوا اس کو پوجیں جو ہمارا نہ بھلاکرے۔ نہ بُرا۔  اُور الٹے پاؤں پلٹا دیئے جائیں بعد اس کے کہ اللّٰہ نے ہمیں راہ دکھائی ۔

اور ان آیات میں لفظ’’ دعا‘‘ پکار  کے معنی میں نہیں بلکہ عبادت کے معنی میں ہے  مگر ہٹ دھرمی دیکھئے کہ قرآن  میں اپنی رائے سے تفسیر کر تے ہوئے کہتے  ہیں  کہ دعا سے مُراد’’ پکارنا‘‘ ہے لہذا کسی نبی ولی کو پکارنا جائز نہیں ہے یہ شرک ہے العیاذ باللہ تعالی حالانکہ تمام مفسرین نے  ان مقامات پر لفظ دعا کا معنی  عبادت کرنا بیان کیا ہے مگر جس کا کام ہی مسلمانوں پر شرک کا فتوی صادر کرنا ہو تو  اُسے اپنے ایمان کی بھی  کیا فِکر ہُوگی۔۔۔؟

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ مَنْ قَالَ فِی الْقُرْآنِ بِغَیْرِ عِلْمٍ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنْ النَّارِ‘‘ یعنی : جس نے قرآن میں بغیر علم کے کچھ کہا پس اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہے ۔
(سنن الترمذی باب تفسیر القران حدیث نمبر۲۱۰۱)

بالفرض محال آپ اس کا معنی ’’پکارنا‘‘ ہی لو تو جناب یہ بتایئے کہ  دنیا میں کون مسلمان  پھر شِرک سے باہررہا۔۔۔ ہر شخص کسی نہ کسی شخص کو دنیا میں اپنی مدد وغیرہ کے لئے ضرور پکارتا ہے۔۔۔ تو جن حضرات نے مطلق پکارنے کو ہی شرک کہا تو اس صورت میں دنیا میں سب کے سب ہی معاذ اللہ کافر و مشرک ہوگئے۔ کیونکہ قرآن پاک میں اﷲ تعالی نے اس آیت میں جس کو آپ نے دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ مطلقاً  بَندوں کو پکارنے سے منع کیا ہے۔ تو اب آپ کسی کو بھی نہیں پکار سکتے۔۔۔ اُور اگر آپ یہ کہیں کے زِندوں کو پکار سکتے ہیں۔ مگر مُردہ کو نہیں پکار سکتے۔

تو حضرت موسی علیہ السلام نے اُمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے وصال مبارک کے کئی سو سال بعد مدد فرمائی۔ پچاس نمازوں کو پانچ نمازوں میں تبدیل کرواکر۔۔۔۔ تو اعتراض کرنے والوں کو چاہیئے کہ،، وُہ  پُوری پچاس نماز ہی پڑھا کریں۔ کہ،، آپ تو مرنے کے بعد مدد کے قائل نہیں ہیں۔۔۔ نیز آپ نے یہ مُردہ اور زندہ کی تفسیرکہاں سے کی ہے ۔۔۔؟ ذرااس کا حوالہ دیجیے وگرنہ  آپکا یہ عمل تفسیر بالرائے کرنا ہے۔۔۔ جو کہ حرام ہے۔ اور اگر زندہ کو پکار سکتے ہیں تو کیا فرعون کے ساتھی جو اسے خدا سمجھ کر پکارتے تھے ۔۔تو کیا وہ جائز تھا۔۔۔؟ یا آج اگر کوئی کسی کو خدا سمجھ کر پکارے تو کیا یہ جائز ہوگا۔۔۔؟ تو معلوم یہ  ہُوا۔ کہ،،  زندہ یا مرد ہ کا فرق نہیں بلکہ خدا سمجھ کر پکارنا ممنوع ہے۔ اُور یہی شرک ہے ۔


الحمد للہ کوئی بھی ذی شعور مسلمان کسی نبی علیہ السلام یا  وَلیُ اللہ  کو خدا سمجھ کر ہر گز نہیں پکارتا۔ اور جو پکارے وہ یقیناًمشرک ٹھہرے گا۔ اب بھی اگر  کوئی ان آیات  کوجو کہ  کفار کے حق میں نازل ہوئیں انہیں مسلمانوں پر چسپاں کرتا دَکھائی دے ۔ تو درحقیقت وہ اسلام کے لِبادے میں اہل خوارج بے دین لوگوں میں سے ہیں ۔کیونکہ بخاری شریف میں یہ خوارجیوں کی نشانی بیان کی گئی ہے

 حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ خارجیوں کے بارے میں فرماتے ہیں ’’وقال إنہم انطلقوا إلی آیات نزلت فی الکفار فجعلوہا علی المؤمنین‘‘ یعنی : فرمایا کہ( خارجیوں کی نشانی یہ ہے کہ) وہ آیات جو کفار کے حق میں نازل  ہوئی ہیں مسلمانوں پر تھوپتے ہیں۔(صحیح بخاری باب قتل الخوارج قبل حدیث نمبر۶۵۳۱


ہم مسلمان الحمدللہ رب العلمین ہرطرح کے شرک سے محفوظ ہیں۔  کیونکہ اس بات کی ضمانت خود اللہ کے سچے رسول ﷺ نے دی ہے صحیح بخاری میں ہے’
وانی واللہ ما اخاف علیکم ان تشرکو بعدی ‘‘۔یعنی’’اور بے شک میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں مجھے اپنے بعد تمہارے شرک میں مبتلا ہونے کا کوئی خوف نہیں ‘‘۔
[صحیح بخاری ،باب الصلوٰۃ علی الشہید،کتاب الجنائز،ج:ا،جزء:
۲،ص۹۴،مکتبہ دارالفکر بیروت]

ان شاء اللہ  اس بیان سے یہ بات واضح ہوگئی کہ قرآن  وحدیث میں وسیلہ کی ممانعت نہیں ہے


استعانت، استمداد ،استغاثہ اور وسیلہ کسے کہتے ہیں؟

استعانت یہ عون سے بنا ہے جس کا معنی ہے مدد طلب کرنا۔
استمداد یہ مدد سے بنا ہے اس کا معنی ہے مدد طلب کرنا۔
استغاثہ یہ غوث سے نکلا ہے اس کا معنی ہے کسی کو مشکل میں مدد کے لئے پکارنا۔
توسل یا وسیلہ اس کا معنی ہے ذریعہ یعنی جس کے ذریعے بندہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرے اسے وسیلہ کہتے ہیں۔

کیا اِن کے مابین کوئی فرق ہے یا نہیں ؟ 
یہ چاروں حقیقت میں ایک ہی شئی ہیں ان میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ یو ں سمجھ لیجئے۔ کہ،، ایک ہی شئے کے چارنام ہیں مگر ان میں ایک باریک سا فرق ہے۔
وہ یہ کہ استمدا د،استعانت اورا ستغاثہ میں بندہ فاعل حقیقی یعنی اللہ تعالی کے بجائے سبب (وسیلہ) کی طرف اپنے کلام کی نسبت کرتا ہے مگر اس کی مراد فاعل حقیقی سے ہی ہوتی ہے ۔(یعنی اصل مدد اللہ تعالی ہی فرمائے گااس کے اذن کے بغیر مدد ممکن نہیں)اور یوں(مجاز عقلی والا )کلام لاتا ہے۔
استعانت ۔استمداد اور استغاثہ جیسے اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدد فرمایئے۔ 
اب اس جملے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد طلب کی گئی ہے ۔جو کہ وسیلہ ہیں۔ تو اس جملے میں بندے نے وسیلے کی طرف نسبت کی۔ مگر مدد مانگنے والے کی مراد یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی بارگاہ میں اِس کے لئے دعا فرمائیں گے ۔اور اللہ تعالی کے اذن سے اس کی مدد فرمائیں گے۔۔۔یہ گمان ہرگز نہیں ہوتا کہ اللہ کی مرضی اوراجازت کے بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی مدد کر سکتے  ہیں ۔ یا معاذ اللہ عزوجل یہ نیک ہستی مالک کائنات جل جلالہ کو دعا قبول کرنے پر مجبور کر دے گی اگر یہ عقیدہ رکھا جائے تو یہ کفروشرک ہے الامان والحفیظ۔

جبکہ وسیلہ میں بندہ حقیقی معنی   کی ہی طرف اپنے کلام کی نسبت کرتا ہے اور یوں دعا کرتا ہے اے اللہ عزوجل تو نبی علیہ السلام کے وسیلے(صدقے یا طفیل ) سے میری مدد فرما ۔
یا اس طرح اے اللہ کے نبی علیہ السلام آپ میرے حق میں دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی میری مدد فرمائے۔ 



اب اگرذہن میں یہ سوال ابھرے ۔کہ،، جب وسیلے کو کلام میں ذکر کر کے  نسبت مسبب الاسباب  فاعل حقیقی  جل جلالہ  کی طرف کی جائے ۔تو یہ کلام حقیقت ہوگا ۔اور جب استعانت یا استغاثہ کی صورت میں کلام لائے۔ اُور سبب(وسیلہ) کی طرف کلام کی نسبت کردی جائے ۔تو  یہ کلام مجاز عقلی ہوگا ۔ یہ قاعدہ اور اصول کس نے بنایا اور کہاں سے یہ اصول سمجھا گیا۔۔۔؟

تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید  میں رب تعالی نے اس اصول کو بیان فرمایا ہے۔ مگر اس کو سمجھاعقل والوں نے  ہے۔
قرآن مجید میں اس قسم کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ مگر میں  طوالت کے بجائے  تفہیم کی غرض سے فقط ۲ ہی مثالوں پر اکتفا ء کرتا ہوں۔

اللہ رب العالمین قرآن مجید میں ایک مقام پر موت دینے کی نسبت اپنی طرف فرماتا ہے۔ جبکہ دوسری آیت  میں موت دینے کی نسبت موت کے فرشتے(حضرت عزرائیل علیہ السلام) کی طرف فرما رہا ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں
 اَللہُ یَتَوَفَّی الْاَنۡفُسَ  ترجمہ کنز الایمان: اللّٰہ جانوں کو وفات دیتا ہے  ( سورۃ الزمر آیت ۴۲)۔
 
قُلْ یَتَوَفّٰىکُمۡ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیۡ وُکِّلَ بِکُمْ
ترجمہ  کنزالایمان :تم فرماؤ تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے۔(سورہ السجدہ آیت ۱۱)۔



اللہ رب العالمین قرآن مجید میں ایک مقام پر اولاد دینے کی نسبت اپنی طرف فرماتا ہے ۔جبکہ دوسری آیت  میں اولاددینے کی نسبت (حضرت جبرائیل علیہ السلام) اپنی  طرف فرما رہے ہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں

 لِلہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ ؕیَہَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنٰثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ ﴿ۙ
۴۹
ترجمہ  کنزالایمان :اللّٰہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے(سورہ الشوری آیت ۴۹)

لِاَہَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا ﴿۱۹            ترجمہ  کنزالایمان :میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں۔(سورہ المریم آیت ۱۹)

اب ان دونوں  مثالوں کو یہاں پر پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے قرآن مجید میں شرک  وحرام ہونے یا نہ ہونے  کا قاعدہ و اصول بیان فرمادیا  کہ حقیقی فاعل اللہ تعالی  ہی ہے ۔باقی حضرت عزرائیل علیہ السلام اللہ کے حکم اور اللہ کی دی ہوئی طاقت سے  موت دیتے ہیں۔ اور اس کے حکم اور اذن کے بغیر کسی کو موت نہیں دے سکتے۔ اسی طرح حضرت جبرائیل علیہ السلام کا معاملہ تھا کہ حقیقی خالق اور اولاد دینے والا اللہ ہی ہے۔ باقی حضرت جبرائیل علیہ السلام  نےاللہ کے اذن سے اولاد  دی۔

تو معلوم ہوا قرآن پاک میں جس مقام پر یہ فرمایا کہ اللہ ہی موت دیتا  ۔اولاد دیتا ہے وغیرہ (یعنی اللہ کی طرف نسبت ہو) تو یہ کلام حقیقت ہوگا  کیونکہ حقیقی فاعل اللہ ہی ہے ۔

اور جس مقام پر موحد(توحید کا اقرار کرنے والا) نے اس طرح کا کلام کیا کہ میں موت دیتا ہوں۔ یا اُولاد دیتا ہوں۔ یا مدد کرتا ہوں۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔تو  یہ کلام   مجاز  ی  ہوگا۔ کیونکہ اس میں بندے نے سبب کی طرف صرف  اپنےکلام  کی نسبت کی ہے۔  مگر اس کا اعتقاد یہی ہے۔ کہ،، حقیقی فاعل اللہ  ہی ہے۔اللہ ہی مد د فرمائے گا۔ اللہ ہی موت دیگا ۔اللہ ہی اولاد دیگا۔   اس کی مرضی اور اذن کے بغیر پتہ ہل بھی نہیں سکتا ہے۔ تو یہ جائز ہے اور شرک و حرام نہیں ہے۔  وگرنہ حضرت جبرائیل و عزرائیل علیہ السلام  کے بارے میں قرآن میں یوں ذکر نہ آتا۔

اسی قاعدے  واصول کوعلامہ سعد الدین تفتازانی علیہ رحمۃ الباری (سن وصال 791ہجری ) کتاب ’’المطول ‘‘ جو کہ درس نظامی عالم کورس میں پڑھائی جاتی ہے۔ میں  وضاحت فرماتے ہیں ’’ جب موحد (مسلمان) یہ کہے ’’ انبت الربیع البقل ‘‘ یعنی موسم بہار نے سبزہ اگایا ‘‘ تو یہ اسنادمجاز ی ہے۔ کیونکہ موحد کا یہ عقیدہ نہیں ہے ۔کہ،، اُگانا بہار کی صفت ہے۔(یعنی مسلمان کا عقیدہ یہ ہے کہ اُگانا اللہ تعالی کا کام ہے اور موسم بہار یہ سبزہ اگنے کا سبب ہے ) جبکہ یہی جملہ اللہ تعالی کے وجود کا منکر کہے گا ۔تو اسے حقیقت کہا جائے گا (کیونکہ وہ اللہ تعالی کے وجود کا ہی منکر ہے تو پھر تاثیر کا کیونکر قائل ہوگا)۔
(المطول صفحہ ۱۰۶)


علامہ عبد الحکیم شرف قادری  مزید اسی اصول کی وضاحت فرماتے ہیں۔
اگر دہریہ نے کہا کہ طبیب نے مریض کو شفاء دی تو یہ حقیقت ہے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالی کی تاثیر کا قائل ہی نہیں ہے ۔ مگریہی بات اگرمومن نے کہی تو اسے مجاز عقلی کہاجائے گا۔ اور اس کا ایماندار ہو نا اس بات کی علامت ہوگا کہ وہ شفاء کی نسبت طبیب کی طرف اس لئے کر رہا ہے۔ کہ،، وہ شفاء کا سبب ہے ۔اس لئے نسبت نہیں کررہا ہے۔ کہ،، فی الواقع طبیب نے شفاء دی ہے شفاء دینا اللہ تعالی کا کام ہے ۔

مزید فرماتے ہیں اس گفتگو پر غور کرنے سے مسئلہ استعانت( مدد طلب کرنا ) کی حیثیت بالکل واضح ہوجاتی ہے کیونکہ انبیاء علیھم السلام و اولیاء علیہم الرحمۃ سے مدد چاہنے والا اگر مومن ہے۔ تو اس کا ایماندار ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس کے نزدیک کاساز حقیقی مقاصد کو پورا کرنے والا اللہ تعا لی ہی ہے ۔ان امور کی نسبت اولیاء و انبیاء کی طرف مجاز عقلی کے طور پر کی گئی ہے ۔کہ،،  وہ مقاصدکوپورا کرنے کے لئے سبب اور وسیلہ ہیں۔
(عقائد ونظریات صفحہ ۱۸۴ مکتبہ قادریہ (

شاہ عبد العزیز علیہ رحمۃ اللہ القوی اسی اصول کواپنے انداز میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں ۔کہ،،یہاں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ غیر اللہ سے اس طرح مدد مانگنا ۔کہ،، اسی پراعتماد ہو۔ اور اس کو اللہ کی مدد کامظہر نہ جانا جائے حرام ہے۔ اور اگر توجہ حضرت حق ہی کی طرف ہے۔ اور اس کو اللہ کی مدد کا مظہر جانتا ہے۔ اور اللہ کی حکمت اور کارخانہ اسباب پر نظر کرتے ہوئے ظاہری طور پر غیر سے مدد چاہتاہے ۔تو یہ عرفان سے دورنہیں۔ اورشریعت میں بھی جائز اور روا ہے۔ اور انبیاء اور اولیاء نے ایسی استعانت کی ہے۔ اور درحقیقت یہ استعانت غیر سے نہیں ہے ۔بلکہ یہ حضرت حق سے ہی استعانت ہے۔
 (فتح العزیز ،تفسیر عزیزی،تفسیر سورہ فاتحہ      افغانی دارالکتب دہلی    ص۸
فقیہ محدث علامہ محقق عارف باللہ امام ابن حجر مکی قدس سرہ الملکی حدیثوں سے استعانت کا ثبوت دے کر فرماتے ہیں: ’’ولا فرق  بین ذکر التوسل و الاستغاثہ‘‘یعنی :توسل اور استغاثہ ذکر کرنےمیں کوئی فرق نہیں
مزید فرماتے ہیں
فالتوجہ والاستغاثہ بہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بغیرہ لیس لہما معنی فی قلوب المسلمین غیر ذٰلک ولایقصد بہما احد منہم سواہ فمن لم یشرح صدرہ لذٰلک فلیبک علی نفسہ نسأل اﷲ العافیۃ والمستغاث بہ فی الحقیقۃ ہو اﷲ و النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ واسطۃ بینہ وبین المستغیث۔

یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا حضور اقدس کے سوا اور انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلٰوۃ والثناء کی طرف توجہ اور ان سے استغاثہ (فریاد) کے یہی معنی مسلمانوں کے دل میں ہیں اس کے سوا کوئی مسلمان اور معنی نہیں سمجھتا ہے نہ قصد کرتا ہے تو جس کا دل اسے قبول نہ کرے وہ آپ اپنے حال پر روئے، ہم اللہ تبارک وتعالٰی سے عافیت مانگتے ہیں حقیقتا استغاثہ (فریاد) اللہ عزوجل کے حضور ہے اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس کے اور اس فریادی کے بیچ میں وسیلہ و واسطہ ہیں۔
 ( الجوہر المنظم     الفصل السابع     فیما ینبغی للزائر الخ  مکتبہ مدبولی قاہرہ صفحہ ۱۱۰)۔

اما م علامہ خاتمۃ المجتہدین تقی الملۃ والدین فقیہ محدث ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی رضی اللہ تعالٰی عنہ کتاب شفاء السقام میں استمداد واستعانت کو بہت احادیث صریحہ سے ثابت کرکے ارشاد فرماتے ہیں۔

والمستغاث بہ  فی الحقیقۃ ھو اللہ تعالی والنبی  ﷺ واسطۃ بینہ و بین المستغیث
یعنی :مستغاث بہ(جس سے مدد طلب کی جارہی ہے) حقیقت میں اللہ تعالی ہے اور نبی ﷺ   مستغیث (مدد طلب کرنے والا) اور مستغاث بہ (اللہ تعالی ) کے درمیان واسطہ (وسیلہ ) ہیں۔
( شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام     الباب الثامن فی التوسل الخ   دار الکتب العلمیۃ    ص۳۷۹)

ان تمام دلائل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ استعانت ،استمداد ،استغاثہ اور وسیلہ ایک ہی شئی ہیں  بس فرق یہ ہے کہ استعانت ،استمداد ،استغاثہ میں وسیلہ کے طرف نسبت کر کے کلام مجازی کو استعمال کیا جاتا ہے جبکہ وسیلہ میں  کلام حقیقی ذاتی  کو  لایا جاتا ہے اور اس کلام   میں فاعل حقیقی کی طرف نسبت کردی جاتی ہے
اور  اس طرح اللہ تعالی سے دعا کرنا ایک جائز امر ہے اسے ناجائز و شرک کہنا شریعت پر بہتان باندھناہے ۔ اُور سخت گناہ کا کام ہے۔

اب اگر یہ سوال ذہن میں آئے کہ  مذکورہ دلائل میں کبار علمائے کرام کے اقوال  ہیں اور قرآن پاک سے وسیلہ اور استغاثہ پر جو دلیل دی ہے وہ صراحت کے ساتھ اس مفہوم پر دلالت نہیں کرتی ہے تواس شبہ کا ازالہ قرآن واحادیث صحیحہ کی  روشنی میں اگلی سلسلہ میں بیان کیا جائے گا ان شاء اللہ
(جاری ہے)

0 comments:

Post a Comment