bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Monday, 10 March 2014

تذکرہ اِک پری کا۔۔26 جھلک یار پھر آئی نظر۔



تذکرہ اِک پری کا۔۔۲۶ جھلک یار پھر آئی نظر۔ 



عِمران احمد وقاص گُذشتہ پندرہ  بیس دِنوں سے بابا صابر صاحب کو دیوانوں کی طرح ڈُھونڈ رَہا تھا۔۔۔ وُہ جاننا چاہتا تھا کہ،، بابا صابر صاحب نے مُرشد کریم سے کوثر کے متعلق  مُلاقات کی اجازت حاصل کرلی ہے۔یا نہیں۔ لیکن بابا صابر صاحب علی پُور کے مجذوب کا قصہ سُنا کر ایسے غائب ہُوئے تھے ۔جیسے گُویا اُنکو زمین نِگل گئی ہُو۔ یا وُہ آسمان کی سیر کو چلے گئے ہُوں۔۔۔ جُوں جُوں دِن گُزرتے جارہے تھے۔ عمران احمد وقاص کی وحشتوں میں اِضافہ ہُوتا چلا جارہا تھا۔۔۔عمران کو کبھی کبھی  یہ بھی خیال ستاتا۔کہ،، بابا وقاص نے بھی ایک دِن کُوثر  سے مُلاقات کرانے کا پروگرام مرتب کیا تھا۔لیکن وُہ شہر سے اتنی عجلت میں  ایسے  نِکلے ۔کہ،، دُنیا ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ اُور اب بابا صابر صاحب اُسکے لئے اِجازت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ تو کہیں۔۔۔؟؟؟؟؟ بُہت سے اندیشے عمران کو سہماتے۔لیکن عمران کو یقین تھا۔کہ،، اس مرتبہ اُسکے ساتھ پہلے جیسا کوئی واقعہ نہیں ہُوگا۔اُور ایک  نہ ایک دِن  اُسے کُوثر مِل کر ہی رَہے گی۔۔۔

آج  عمران  حسب سابق  فجر پڑھ کر شہر کے بیرونی دروازے پرچلا آیا تھا۔ لیکن بابا صابر کا آج بھی کوئی سراغ نہیں مِل سکا تھا۔ واپسی میں عمران اُس ہُوٹل پر گیا۔ جہاں اکثر بابا صابر ناشتے کی غرض سے جایا کرتے تھے۔ لیکن ہُوٹل والوں کا کہنا تھا۔کہ،، اُنہوں نے بھی گُذشتہ کئی دِن سے بابا صاحب کو نہیں دیکھا ہے۔ جبکہ ایک ویٹر کا خیال تھا۔ کہ،،  شائد بابا صاحب کی  رُوحانی ڈیوٹی کسی دُوسرے شہر میں لگ گئی ہے۔۔۔ کیوں کہ پہلے بھی ایسا کئی مرتبہ ہُوچکا ہے ۔کہ کوئی ڈیوٹی والے بُزرگ اچانک غائب ہُوگئے۔ اُور دُوسرے ہی دِن ایک نئے بُزرگ رُوحانی ڈیوٹی نبھانے کیلئے نمودار ہُوگئے۔۔۔ ویٹر کی گفتگو سے عِمران کا دِل ڈوبنے لگا تھا۔۔۔۔ اچانک ایک خیال کے تحت عمران نے چُونکتے ہُوئے ویٹر سے استفسار کیا۔۔۔ سُنو!!! کیا تُم نے بابا صاحب کی غیر مُوجودگی میں کسی دُوسرے بُزرگ کو یہاں آتے ہُوئے دیکھا ہے۔۔۔؟؟؟۔۔۔

نہیں جناب ایسا پہلی مرتبہ ہُوا ہے۔ کہ،، ایک بُزرگ کے رُوپوش ہُونے کے باوجود کوئی دُوسرا درویش نمودار نہیں ہُوا۔۔۔ ویٹر نے حیرت سے اپنی لاعلمی کا اظہار کرتے ہُوئے جواب دیا۔۔۔۔۔ اِسکا مطلب ہے۔کہ ،،ابھی بابا صابر شہر میں ہی موجود ہیں۔ اُور اُنکی ڈیوٹی کسی دوسرے شہر میں نہیں لگی ۔ورنہ۔  ڈیوٹی کی تبدیلی پر کوئی نہ کوئی نیا درویش ضرور نمودار ہُوجاتا۔ عمران نے بڑبڑاتے  ہُوئے خُود کو تسلی دی۔۔۔۔۔ عمران ہُوٹل سے نکلنے لگا تو اُسکی نِگاہ قیصر دیوانے پر پڑی۔ عمران نے  اکثر قیصر دیوانے کو بابا صابر کے اِردگرد  گھومتےدیکھا تھا۔ البتہ وُہ کبھی عمران کی موجودگی میں بابا صابر کے اتنے نذدیک نہیں آتا تھا۔ کہ،، دُور سے دیکھنے پر بابا صاحب کے قریب  کھڑا دِکھائی دے جائے۔

عمران قیصر دیوانے کے نذدیک سے گُزرنے لگا۔ تو قیصر دیوانے نے صدا لگائی ،، سُونا کی نہاری کھالے بڑا مزہ آئے گا۔۔۔ عمران نے  پھیکی سی مسکراہٹ سجاتے ہُوئے قیصر دیوانے کی طرف دیکھا۔ اُور شہر کی جانب چلدیا۔۔۔  کئی دِن سے بابا صابر کی گمشدگی کی وجہ سے عمران کی بھوک پیاس اُڑ چکی تھی ۔لیکن آج شہر لُوٹتے ہُوئے حیرت انگیز طُور پر عمران کو بھوک کا احساس ستانے لگا تھا۔وُہ جلد از جلد گھر پُہنچنا چاہتا تھا۔ لیکن اُسکے ذہن میں قیصر دیوانے کا جملہ گونجنے لگا تھا۔ سُونا کی نہاری کھالے بڑا مزہ آئے گا۔۔۔ پھر اِنہی جملوں کی تکرار نے عمران کو  نہاری نان کے ناشتے کیلئے راضی کرلیا۔

عِمران نگاہیں جمائے واک کرتا ہُوا شہر کے واحد اسٹیڈیم کے قریب سے گُزرنے لگا۔ تو  خُوشبو کے ایک لطیف جُھونکے نے اُسکی سانسوں کو معطر کردیا۔ بھلا عمران اِس خُوشبو کو کیسے بُھول سکتا تھا۔ جو اُسکے محبوب کے پسینے میں رَچی بسی تھی۔ عمران کے بڑھتے قدم ٹھٹک کر رُک گئے۔ اُور وُہ بیخودی کے عالم میں  چہار جانب گُھوم گُھوم کر دیکھنے لگا۔۔۔ کبھی یہ خُوشبو سپیدے کے درختوں  کی طرف سے آتی محسوس ہُوتی اُور کبھی عمران کو یُوں محسوس ہُونے لگتا۔ جیسے کوئی سراپا اُسکے جسم سے لپٹ لپٹ کر  اَٹھکلیاں دِکھا رہا ہُو۔ عمران سرشاری کے عالم میں  دھمے لہجے میں  کوثر کوثر پُکارتا ہُوا۔ کبھی سپیدے کے پیڑوں کے پیچھے محبوب کی جَھلک دیکھنے کیلئے  پُہنچ جاتا۔ اُور جب وَہاں موجود نہ پاتا تو  درختوں کی شاخوں پر اُسے ڈھونڈنے لگتا۔ یہ آنکھ مچولی کا کھیل جاری  ہی تھا۔۔۔ کہ،، ڈاکٹر رضوان کی آواز نے عمران کی محویت میں دراڑ پیدا کردی۔۔۔

 ڈاکٹر رضوان صاحب کا کلینک عمران کے گھر سے کچھ ہی فاصلے  پر موجود تھا۔۔۔۔ وُہ شائد واک کرنے کیلئے نِکلے تھے۔ اُنہوں نے عمران کو دُور سے درختوں سے لپٹے دیکھا ۔تو ماجرہ معلوم کرنے کیلئے اُسکے قریب چلے آئے تھے۔۔۔ ڈاکٹر صاحب کے استفسار پر عمران نے بتایا کہ،، اُس نے  زندگی میں  پہلی مرتبہ درختوں پر ایک رنگین گِلہری کو دیکھا ہے۔ جُو اَب نظروں سے اُوجھل ہُوچکی ہے۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے عمران کو سمجھاتے ہُوئے کہا۔۔  عمران بیٹا یُوں تنہائی میں درختوں سے لپٹنا چِمٹنا مناسب بات نہیں ہے۔ دُنیا میں بیشمار مخلوقات ہیں۔ جو انسانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہتی ہیں۔۔۔ لیکن بعض اُوقات اِن کو دیکھنا مہنگا پڑجاتا ہے۔ اُور بعض مرتبہ انہیں دیکھنے کے بعد انسان اپنے ہُوش حواس بھی قائم نہیں رکھ پاتا۔ اُور دیوانوں کی دُنیا میں پُنچ  کر ہمیشہ کیلئے اپنوں سے دُور بھی ہُوجاتا ہے۔ عمران نے سعادت مندی سے اپنی گردن جُھکاتے  ہُوئے ڈاکٹر رضوان کو یقین دِلانے کی کوشش کی۔کہ،، وۃ آئندہ اِس معاملے میں اِحتیاط برتے گا۔۔۔ اُور ڈاکٹر رضوان کے ہمراہ شہر کی جانب بڑھ گیا۔


سُونا رِیسٹورنٹ پُہنچ کر عمران کو احساس ہُوا۔کہ،، آج معمول سے کئی گُنا ذیادہ خریدار نہاری خریدنے  اُور کھانے کیلئے رِیسٹورنٹ میں موجود ہیں۔۔ یُوں تو سُونا رِیسٹورنٹ کی نہاری ویسے بھی شہر بھر میں بُہت مشہور تھی۔ لیکن آج کچھ ذیادہ ہی خوشبو کی لپٹیں عمران کے مسام دِماغ کو معطر کررہی تھیں۔۔ جبکہ اتنی عمدہ خُوشبو کی وجہ سے  بُھوک  کا اِحساس بھی کئی گُنا بڑھ چکا تھا۔۔۔ تقریباً آدھے گھنٹہ بعد عمران ایک ٹیبل کی کرسی پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہُوچُکا تھا۔۔۔۔ نہاری کھاتے ہُوئے  ہر نوالے کیساتھ عمران کو حیرت کے شدید جھٹکے لگ رہے تھے۔۔۔ کیونکہ نہاری کی لذت اُور خُوشبو عام دِنوں کے مقابلے میں سُو گُنا ذیادہ تھی۔۔۔ عمران نے سُوچا۔کہ کھانے سے فارغ ہُونے کے بعد وُہ اَمی اَبو کیلئے بھی ضرور پارسل لیکر جائے گا۔۔۔ تبھی اُسکے کانوں میں ایک ویٹر کی آواز گُونجی۔جو گاہکوں کو مُخاطب کرتے ہُوئے اعلان کررہا تھا۔کہ،، نہاری ختم ہُوچکی ہے۔۔۔۔

عمران کو افسوس تو بُہت ہُوا لیکن اب کرا بھی کیا جاسکتا تھا۔۔۔ عمران  کھانے سے فارغ ہُوکر جب کاونٹر پر بِل اَدا کرنے کیلئے پُہنچا۔ تو اُس وقت رإیسٹورنٹ کا مالک باورچی پر  دھیمے لہجے میں برس رَہا تھا۔ کہ تُم نے اتنے ذیادہ مصالحہ جات نہاری میں کیوں ڈالے ہیں۔۔۔؟ اگر اِس قیمت پر نہاری میں اتنے مصالحے ڈالے جائیں گے۔ تو ایک دِن رِیسٹورنٹ کا دِیوالیہ نَکل جائے گا۔۔۔۔  جبکہ باورچی کا اِصرار تھا۔کہ،، اُس نے اُتنے ہی مصالحے نہاری کی دیگ میں ڈالے ہیں۔جتنے کے رُوزانہ ڈالے جاتے ہیں۔۔۔ مالک اُور باوررچی کی توتکار جاری تھی۔ اُور عمران سُوچ رَہا تھا۔کہ،، ریسٹورنٹ کا مالک کتنا خُود غرض ہے کہ ،، بجائے باورچی کی تعریف کرنے کے۔۔۔ذرا سے مصالحے کی مقدار بڑھ جانے پر باورچی سے جھگڑ رَہا ہے۔۔۔ حالانکہ جو نہاری پہلے ظہر کی نماز تک نہیں بکتی تھی۔ انہی مصالحوں کی بدولت آج صبح سویرے ہی ختم ہُوچکی ہے۔۔۔ کیا ہی اچھا ہُو کہ،، نہاری کی ذرا سی قیمت بڑھا کر معیار میں اضافہ کرلیا جائے۔۔۔ عمران کی سُوچوں کا تانا بانا جاری  ہی تھا۔۔۔ کہ علاقے کے چوکیدار نے  جو شائد کافی دیر سے مالک اُور باور چی کی تکرار ملاحظہ کررہا تھا مُداخلت کرتے ہُوئے  رِیسٹورنٹ کے مالک کو ایک نئی کہانی سُنانے لگا۔

چوکیدار کا دَعوی تھا۔کہ،، آج نہاری میں ذایقے کی وجہ مصالحہ جات نہیں ہیں۔۔۔ بلکہ یہ نہاری کی خُوشبو اُور لذت کسی اُور وجہ سے ہے۔۔۔۔  رِیسٹورنت کے مالک نے حیرت سے چوکیدار کی بات سُن کر کہا۔۔۔ خان صاحب اگر نہاری میں ذائقے کی وجہ مصالحے نہیں ہیں۔ تو پھر کس وجہ سے نہاری کی دیگ سے اتنی عمدہ خُوشبو برآمد ہُورہی تھی۔۔۔۔؟؟؟  خان صاحب فرمانے لگے۔۔ ہم کو کسی کا جھوٹا طرفداری نہیں کرنا ہے۔ کیونکہ کل ہم کو بھی خُدا کی بارگاہ میں حاضر ہُوکر جواب دینا ہے۔۔۔ اسلئے ہم جو بھی بات کریگا بالکل سچ کرے گا۔ بلکہ اگر تم ہم سے ہماری بات کا گواہ مانگے تو ہم وُہ گواہ بھی دینے کیلئے تیار ہے۔۔۔ دراصل کا رات جب تُم لُوگ دُکان بند کرکے چلا گیا تھا۔ ہم چکر لگانے کے واسطے دُوسری گلیوں میں چلا گیا تھا۔لیکن جب ہم واپس آیا تو ہم نے دیکھا۔ کہ،، بابا صابر نے دیگ کا ڈھکن کھول رکھا تھا۔ اُور ایک بُہت بڑا گُوشت کا ٹکڑا اُس کے ہاتھ میں تھا۔  جب ہم اُسکے قریب پُہنچا تو اُس نے اُس  نے گوشت کے ٹکڑے سے تھوڑا سا گوشت نُوچ کر کھایا اُور باقی گوشت واپس دیگ میں یہ کہتے ہُوئے ڈال دیا۔کہ،، کل ہمارا ایک بچہ یہاں کھانا کھانے آئے گا۔ بس اُسی کے واسطے انتظام کررہا ہُوں۔۔۔۔ 

اِس لئے خُدا کا قسم ہم کو پورا یقین ہے۔کہ،، نہاری میں لذت اُور خُوشبو اُس اللہ والے کے  گُوشت کو جھوٹا کرنے سے آئی ہے۔مصالحہ ڈالنے کی وجہ سے نہیں آئی۔۔۔ اُور ہم صرف یہی بات بتانے کیلئے آج صبح صبح آیا ہے۔ ورنہ یہ وقت ہمارے سُونے کا وقت ہے۔۔۔۔ خان صاحب کی نیک نامی اُور ایمانداری کی وجہ سے رِیسٹورنٹ کے مالک نے  نا صِرف خان صاحب کی بات کو صدقِ دِل سے قبول کرلیا۔بلکہ اُس نے باورچی سے بھی فوراً  اپنے رویئے پر معذرت کرلی۔۔۔ جبکہ عمران کیلئے یہ خبر ہی خُوشی بڑھانے کیلئے کم نہ تھی۔کہ،، بابا صابر شہر ہی میں موجود ہیں۔۔۔۔ بلکہ اُسکا دِل گواہی دے رِہا تھا۔کہ،، بابا صاحب نے اپنے کشف سے میری یہاں آمد کو جان لیا تھا۔ اُور وُہ صرف میرے ہی لئے دیگ کے کھانے کی رُونق بڑھانے آئے تھے۔

عمران اِسی کیف و مستی کی حالت میں  بابا صابر کی تلاش میں ایک مرتبہ پھر شہر کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔ اِسٹیڈیم کے باہر اُنہی درختوں کے قریب سے گُزرتے ہُوئے عمران کو پھر اُنہی معطر معطر جُھونکوں نے مسحور کردیا۔پھر اُسکے قدم  اُسی جگہ ٹہر گئے۔ کہ اچانک  عقب سے کوثر کی کھنکتی ہُوئی آواز عمران کے کانوں میں  نقرئی گھنٹیوں کی طرح  جلترنگ بکھیرنے لگی۔۔۔۔ بالم کیسی لگی نہاری  کی دعوت آپکو۔۔۔؟؟؟ عِمران نے پلٹ کر دیکھا ۔تو  کوثر کو دیکھتا ہی چلا گیا۔۔۔۔ کوثر اپنی تمام تر حشر سامانیوں کیساتھ  اپنے حُسن کے جَلوے بکھیرنے کیلئے ایکبار پھر  عمران کے سامنے  کھڑی مسکرا رہی تھی۔

جاری ہے۔۔۔

اُسکی الفت کا مزاہ سب سے الگ سب سے جُدا
جیسے سُورج کی تپش روکتی ہے کُوئی رِدا
جیسے ساقی نے پَلائی ہُو کسی تشنہ کو شراب
جیسے ٹل جائے کسی عاصی کے سر پہ سے عذاب .


کسی کا کہنا ہے۔کہ افسانہ نگاری اُور لوگوں سے میل جُول بڑھانا ہی میری روحانی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رُکاوٹ ہیں۔۔۔ لیکن مجھے صرف اتنا معلوم ہے۔ جو مخلوق خُدا سے محبت نہیں کرسکتا۔ وُہ  خالق سے محبت کے دعوے میں  بھی جُھوٹا ہے۔۔۔ اُور مجھے  انشا اللہ خالق ،،مخلوق کی خدمت سے ہی ملے گا۔ اِس بات پر میرا  کامِل یقین بھی ہے اُور بھروسہ بھی۔

Monday, 24 February 2014

عامل کامل ابو شامِل قسط 28. صیاد قید میں



گُذشتہ سے پیوستہ۔
کیوں میرے دُوست تم نے انسانوں کو مارکیٹنگ کرتے ہُوئے  تو ہزار مرتبہ دیکھا ہُوگا۔ لیکن کیا کسی انسان کو مجھ جِن زادے کی طرح مارکیٹنگ کرتے بھی دیکھا ہے۔۔۔ ابو شامل نے تفاخر سے سینہ پُھلاتے ہُوئے داد طلب نِگاہوں سے کامل علی کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔ یار تمہاری پرفارمنس تو واقعی زبردست تھی۔۔۔ لیکن یہ بتاوٗ کہ نفاست صدیقی کو اعتبار کیسے دِلاوٗ گے۔۔۔۔ اُور یہ آئل جسکا ابھی  تُم نفاست صدیقی سے تذکرہ کررہے تھے۔ وُہ کہاں سے پیدا کرو گے۔ ۔۔۔ کامل علی نے  تعجب سے ابو شامل سے دریافت کیا۔

دَوا ئی کیلئے میں ابھی کوہ قاف کے شاہی حکیم بطلیموس سے رابطہ کرونگا۔ مجھے معلوم ہے۔ وُہ ہر قسم کے امراض کا شافی علاج کرتے ہیں۔ اُور مجھ سے خصوصی محبت رکھتے ہیں۔۔۔ اِس لئے مجھے کبھی  کسی کام کیلئے منع نہیں کریں گے۔۔۔ اُور جہاں تک نفاست صدیقی کو مطمئین کرنے کی بات ہے تو میرے خیال میں ہمارے کانٹے میں ایسی مچھلی آگئی ہے۔ جس کے پیچھے پیچھے دوسری مچھلیاں خود بخود چلی آئیں گی۔ اُور ہمیں  پبلسٹی کیلئے ذیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔ اِس لئے نِفاست صدیقی کو ہم ایڈوانٹیج دیں گے۔ اُور تعلقات کو  مستحکم کرنے کیلئے پہلے کسٹمر کو فری دوائی دیں گے۔ جسکی وجہ سے نفیس صدیقی جیسی بڑی پارٹی ہمیشہ ہمارے اِحسان تلے دبی رہے گی۔۔۔۔ ابوشامل نے مکارانہ انداز میں قہقہ بلند کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔جبکہ کامل علی ہونقوں کی طرح ابو شامل کے آئیڈیئے پر  دِل ہی دِل میں اُسے داد  دے رَہا تھا۔
جاری ہے۔۔۔
اَب مزید پڑھیئے۔
دُوسرے دن  ابو شامل نے عصر کی نماز کے بعد جب کامِل علی کو لیجا کر  کُوٹھی کا نیا سیٹ اَپ دِکھایا تو کامل علی بھی حیرت زدہ رِہ گیا۔ ۔۔کو ٹھی پُر وقار ہُونے  کیساتھ ساتھ اب ایک جدید  اُور ماڈرن آستانے کا منظر بھی پیش کررہی تھی۔ کچھ قیمتی نوادرات کا اِضافہ بھی کیا گیا تھا۔ ایک خوبصورت حقہ نما اینٹیک میں  مسحور کُن بخورات سُلگ کر تمام ماحول کو  معطر کررہے تھے۔ جبکہ لائٹنگ کے  بہترین استعمال نے  ماحول کو پُراسرار بنا دیا تھا۔ ایک جانب چند خوش لباس لُوگوں کو دیکھ کر کامِل علی نے سرگوشی میں ابو شامل سے استفسار کیا۔۔۔۔ یہ کُون لُوگ ہیں۔۔۔؟؟؟

یہ سب میری برادری کے لُوگ ہیں۔۔ جو صرف کلاینٹ پر اچھا اثر ڈالنے کیلئے یہاں وقتاً فوقتاً پیش ہُونگے۔۔۔ اُور ہاں یاد آیا۔کہ،، جب بھی کوئی مریض تُمہارے پاس خلوت میں بھیجا جائے گا۔ میں بھی تُمہارے پاس حاضر رَہوں گا۔ جنہیں کیا جوابات دینے ہیں۔ اُور کیسے بات کرنی ہے۔ یہ میں تمہیں اُسی وقت بتاتا رَہوں گا۔۔۔۔۔ ابو شامل نے کامل علی کو سمجھاتے ہُوے کہا۔۔۔

یار اگر تمہارے سمجھانے پر اُنہیں  ہدایات دُونگا۔ تو کیا وُہ  آنے والےلوگ مجھ سے بدظن نہیں ہُونگے۔کہ ،، کیسا بابا ہے جو اپنے اسسٹنٹ سے  ہدایات لے رَہا ہے۔ کامل علی نے مُنہ بناتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔ کامل کے سوال پر ابو شامل نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔ اُو میرے بُھولے بادشاہ میں  تم لوگوں کیساتھ حاضر ضرور رَہوں گا۔۔۔لیکن نظر صرف تجھے آوٗنگا۔۔۔۔  وُہ لُوگ نہ مجھے دیکھ پائیں گے۔اُور نہ ہی میری آواز سُن پائیں گے۔ اُور ہاں  کل تمہیں نفاست صدیقی سے متعلق جو باتیں سمجھائی تھیں۔۔۔ وُہ تو یاد ہیں نا تُم کو۔؟؟؟۔۔۔۔۔ ہاں بھئی سب کچھ یاد ہے۔۔۔ میں نہ کوئی چھوٹا سا بچہ ہُوں۔اُور نہ ہی میری یاداشت اتنی کمزور ہے ۔کہ،، کل  ہی کی بات بھول جاوٗں۔ کامل علی نے جھنجلائے ہُوئے لہجے میں جواب دِیا۔۔۔۔  چلو  اب خفگی  چھوڑو۔ اُور اپنا مُوڈ ٹھیک کرلو۔۔۔ کیونکہ مجھے نفاست صدیقی کی آمد سے قبل تُمہارا  ہلکا پھلکا میک اَپ  بھی کرنا ہے۔ابو شامل نے گفتگو کا موضوع بدلتے ہُوئے کہا۔۔۔

تھوڑی دیر میں ابو شامل  نے میک اپ کے ذریعہ سے کامل علی کا حلیہ ہی بدل کر رکھ دیا۔۔۔  کامل علی میک اَپ کے بعد خُود کو آئینے میں دیکھ کر حیرت زدہ رِہ گیا۔۔۔ شانے کو چُھوتے ہوئے گھنگریالے گیسو، اُور چہرے پر سجی ہلکی ہلکی داڑھی کیساتھ خُوبصورت  گولڈن کام کے کُرتے اُور واسکٹ میں وُہ بالکل ایک شہزادے کی طرح  دِکھائی دے رَہا تھا۔۔۔۔ یار ابو شامل تُم مجھے عامل دِکھانا چاہتے ہُو۔یا کسی ریاست کا شہزادہ۔۔۔؟ کامل علی نے ابو شامل کو گھورتے ہُوئے استفسار کیا۔۔۔۔۔ یار تُمہارا کیا خیال ہے۔کہ،، میں اتنا بدذوق  بندہ ہُوں۔  جو تُمہیں کوئی گندے  سے بہروپ میں ایک صنعتکار کے سامنے پیش کروں گا۔
 
مغرب کی آذان کیساتھ ہی تمام سیٹ  اپ مکمل ہُوچکا تھا۔۔۔ کامِل علی کے کمرے کے باہر بیسیوں لُوگوں کو  ایسے مُہذب  انداز میں  سیٹوں پر بٹھا دِیا گیا تھا۔ جیسے وُہ تمام لُوگ  مُلاقاتی ہُوں۔ اُور اپنی باری کے منتظر ہُوں۔ سبھی لُوگ لباس اُور رکھ رکھاوٗ سے اُونچے عہدوں کے حامل یا کاروباری افراد دِکھائی دیتے تھے۔۔ اِن میں سے کچھ لُوگ انگریزی نیوز پیپر ز  یا میگزین کے مطالعہ میں مصروف تھے۔۔۔ ویٹننگ رُوم میں دُو افراد ایسے بھی تھے جو سگار سے شغل کررہے تھے۔۔ جبکہ کار پُورچ اُور  کُوٹھی کے لان  سے ملحق  راہداری میں کھڑی بیش قیمت  گاڑیاں بھی آنے والوں کی  پُوزیشن کی چغلی کھارہی تھیں۔

مغرب کی نماز کے فورا بعد کوٹھی کے گیٹ  پرنفاست صدیقی امپورٹیڈ لیموزین سے برآمد ہُوئے۔۔۔ کوٹھی کے اندر و باہر گاڑیوں کی قطاریں دیکھ کر دوسرے ہی لمحے اُنکی گردن میں پڑی راڈ نرم پڑچکی تھی۔۔۔  نفاست صدیقی کا خیال تھا۔کہ،، اُنکی  مالی حیثیت کی وجہ سے اُنکا  گیٹ پر استقبال  کیا جائے گا۔لیکن کھلے ہُوئے  خالی گیٹ نے اُنکے پھولے ہُوئے سینے کو ذرا سا پچکا دیا تھا۔۔۔ نفاست صدیقی کوٹھی کے گیٹ سے اندر کسی  ملازم کو تلاش کرتے ہُوئے ویٹنگ رُوم میں پُہنچ گئے۔۔۔ کوٹھی کی آرائش ونفاست   اُور ویٹننگ رُوم میں موجود لُوگوں کو دیکھنے کے بعد نفاست صدیقی اِس نتیجے پر پُہنچے تھے۔ کہ یہ کوئی رِوایتی آستانہ نہیں ہے۔ اُور جہاں پہلے سے ہی اسقدر بااثر افراد کو جھگمٹا موجود ہے۔وہاں اِنکی اِمارت سے  مرعوب ہُونے والا کُون ہُوگا۔۔۔۔ وُہ اپنے بیٹھنے کیلئے   کسی مناسب جگہ کی تلاش کے ساتھ ساتھ یہ بھی سُوچ کر پریشان ہُورہے تھے۔کہ اتنے  لوگوں کے بعد باری آتے آتے توشائد کئی گھنٹے گُزر جائیں گے۔۔۔؟؟؟ ابو شامِل ،نفاست صدیقی کی آمد سے بے خبر نہیں تھا۔بس وُہ تو نفاست صدیقی کے غبارے سے ہُوا نِکل جانے کے انتظار میں تھا ۔۔۔۔۔جُونہی ابو شامل کو اپنا مطلوبہ مقصد پُورا ہُوتا دِکھائی دِیا۔ ابو شامل نے  آگے بڑھ کر نفاست صدیقی کی جانب  ہاتھ بڑھاتے ہُوئے  اپنا تعارف پیش کیا۔۔بندے کو ابو شامِل کہتے ہیں۔ اُور آپ غالباً نفاست صدیقی ہیں۔۔۔؟۔۔۔۔۔ جی آپ نے بالکل ٹھیک پہچانا ہے۔ اُورکل شائد  میری آپ ہی سے بات ہُوئی تھی۔؟۔۔۔ نفاست صدیقی نے گرمجوشی سے ہاتھ مِلاتے ہُوئے استفسار کیا۔

ابو شامل ، نفاست صدیقی کا ہاتھ تھامے اُسے ایک کمرے میں لے آیا۔ یہ کمرہ بھی انتہائی پرتعیش اشیاٗ کی وجہ سے نفاست صدیقی کو اپنی جانب متوجہ کررہا تھا۔۔۔ اُور سُنایئے نفاست صاحب یہاں تک پُہنچنے میں کوئی دُشواری تو پیش نہیں آئی آپکو۔۔۔۔؟ ابو شامل نے نفاست صدیقی کی محویت سے لطف اندوز ہُوتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ جی نہیں  کوئی دِقت پیش نہیں آئی۔لیکن یہاں اتنا رَش دیکھ کر پریشانی ضرور ہُورہی ہے۔۔۔نفاست صدیقی نے اپنی پریشانی  کا برملا اظہار کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ نفاست صاحب آپ پریشان بالکل نہ ہُوں۔۔۔ جب  کل میں نے آپکووقت دیا تھا۔تو اب یہ میری ذمہ داری ہے کہ،، کسی بھی طرح آپکو انتظار کی زحمت نہ ہُونے دُوں۔۔۔ قبلہ کامل شاہ صاحب اگرچہ کسی کی حق تلفی کو پسند نہیں فرماتے۔۔۔ لیکن میں اگر کسی کی سفارش کردُوں تو قبلہ شاہ صاحب میری بات کی لاج رکھ ہی لیتے ہیں۔ اِسی لئے میں آپکو ویٹنگ رُوم کے بجائے اِس خاص کمرے میں لے آیا ہُوں۔تاکہ جلد از جلد آپکی مُلاقات کا بندوبست کراسَکوں۔ انشاٗ اللہ  آپکو پندرہ منٹ سے ذیادہ انتظار نہیں کرنا پرے گا۔۔۔  بس شاہ صاحب نوافل و اذکار سے فارغ ہُوجائیں تو پہلا نمبر اِس خادم کی وجہ آپکو ہی ملے گا۔۔۔ ابو شامِل نے خوشدلی سے جواب دیتے ہُوئے کہا۔۔۔

پندرہ منٹ بعد حسب وعدہ ابوشامل نے نفاست صدیقی کو  کامل علی کے آستانے نُما کمرے تک پُہنچا کر  آہستگی سے دروازہ باہر سے بند کردیا۔۔۔ سامنے فرشی نشست پر کامل علی آنکھیں بند کئے تسبیح پر انگلیاں گھما رہا تھا۔  نفاست صدیقی احترام سے قالین پر چلتے ہوئے کامل علی کے ہاتھوں کا بوسہ لینے کیلئے اِس بات سے بے خبرآگےبڑھ رَہا تھا۔کہ،،  اُسکے اُور کامل علی کے علاوہ ابو شامل بھی  غائبانہ طُور پر کامل علی کے ساتھ براجمان ہُو کر کامل علی کے کان میں سرگوشیاں کررہا ہے۔۔۔۔ نفاست صدیقی تم نے تو ہمیشہ دیسی علاج اُور خانقاہی سسٹم کی مخالفت کی ہے۔ اُور تم ہمیشہ یہی کہتے رہے ہُو نا کہ،، کالا سفید ، نوری  یا شیطانی  علم کچھ نہیں ہُوتا۔ یہ سب کم علم لوگوں کی فراغت کا  سرچشمہ ہے۔۔۔ مگر دیکھ لُو۔۔ آج تُم اُسی سسٹم کا حصہ بننے کیلئے یہاں موجود ہُو۔۔۔۔  نفاست صدیقی  کامل علی کی بارُعب آ  واز سُننے کے بعد ایک لمحے کیلئے ٹھٹک کر ٹہر گیا۔اُسے اپنی سماعت پر یقین نہیں آرہا تھا۔ بھلا کوئی کیسے اُسکے ماضی کو کھنگال کر اُس کے سامنے رکھ سکتا تھا۔۔۔ اُسے یقین آگیا۔کہ،، واقعی  دُنیا میں بُہت سے علوم ایسے بھی ہیں۔ جو انسان کے اندر بھی جھانکنے کی صلاحیت پیدا کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔  نفاست صدیقی نے کامل کے ہاتھوں پر بُوسہ دیکر لرزتی ہُوئی آواز میں کہا۔۔۔۔ شاہ صاحب میں اپنی  سابقہ فکر  اُور مادی فلسفے پر نادم ہُوں۔ آپ مجھے معاف فرماکر اپنی غلامی میں قبول فرمالیں۔۔۔
(جاری ہے)۔

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتی ہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ بُرا لگتا ہے۔

Saturday, 22 February 2014

میں بھی طالبان ہُوں مگر۔۔۔۔؟




کل میری بیٹی جُونہی اسکول سے واپس گھر آئی۔ بَستہ رکھتے ہی میرے پاس آبیٹھی۔ حالانکہ وہ شدید گرمی کی وجہ سے پسینے میں شرابُور تھی۔ لیکن اُسکی بے چینی دیکھ کر ہی میں سمجھ گیا کہ وہ اپنے ذہن میں کوئی اُلجھا ہُوا سوال لئے ہُوئے بُہت مضطرب ہے ۔ وَگرنہ اسکول سے وَاپسی پر وہ ہمیشہ اپنا ڈریس تبدیل کرنے کے بعد سب سے پہلے کھانے کی صدا ہی بُلند کرتی ہے۔


میں نے اُسکی بے چینی دیکھتے ہُوئے استفسار کیا۔۔۔ بیٹا خیریت تُو ہے آج آپ کھانا اسکول کینٹین سے تُو نہیں کھا آئیں۔۔۔۔۔؟


وہ کہنے لگی ۔۔۔نہیں بابا ایسی تُو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ بس باباجانی کُجھ جاننا چاہتی ہُوں۔۔۔ آپ مجھے جہاد سے متعلق کُچھ بتائیں ۔۔۔؟ اور یہ بھی کہ شہید کُون ہُوتے ہیں۔۔۔۔؟


میں نے اُسے کہا کہ بیٹا پہلے لباس تبدیل کرلو۔ پھر کھانا کھالو ۔اُسکے بعد میں تفصیل سے تُمہارے سوال کا جواب دے دیتا ہُوں۔۔۔!


لیکن وہ شائد اپنے سوالوں کے جواب کیلئے اتنی زیادہ متجسس تھی۔ کہ کہنے لگی نہیں بابا جانی پہلے آپ میرے سوالوں کا جواب دے دیں۔ اُسکے بعد میں کھانا کھالونگی۔ کیونکہ جب تک مجھے میرے سوالوں کا جواب نہیں مِلے گا میں بے چین ہی رَہوں گی۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہی ہر نئی بات پر متجسس ہوجاتی ہے۔ اور جب تک اُسے اپنے سوال کا جواب نہ مِل جائے وہ چین سے نہیں بیٹھتی ہے۔ لہذا میں نے ہمیشہ کی طرح ہَار مانتے ہُوئے اُسکے سوالوں کا جواب پہلے دینے کیلئے حامی بھر لی۔ اور اُسکے سوالوں کا جواب دیتے ہُوئے اُسے بتانے لگا۔


بیٹا جہاد کا حُکم قران مجید فرقانِ حمید میں کئی جگہوں پر آیا ہے۔ جہاد کے معنیٰ جدوجہد اور کوشش کے ہیں۔ جہاد فی سبیل اللہ کو آسان لفظوں میں اسطرح کہہ سکتے ہیں۔ کہ اللہ کریم کی راہ میں کوشش کرنا۔


میں نے ابھی گُفتگو شروع ہی کی تھی۔ کہ میری بچّی درمیان میں بُول پڑی۔۔ بابا کوشش کرنا۔۔ یا۔۔ اللہ کریم کی راہ میں گردن کَٹوانا،، کیونکہ ہماری ٹیچر نے ہمیں بتایا تھا کہ اللہ کریم کی راہ میں جان دینے کو جہاد کہتے ہیں۔۔۔؟


ہاں بیٹا اللہ کریم کی راہ میں لڑتے ہُوئے اپنی جان قربان کرنا جہاد ہے۔ لیکن تُم اگر میری بات کو تَسلی سے سُنو گی تو میں تُمہیں جِہاد سےمتعلق تفصیل سے بتا سکوں گا۔


جی بابا جان آپ بتایئے اب میں بِلا ضرورت نہیں بُولونگی۔ اُس نے اپنی کہنیوں کے پیالے میں اپنے چہرے کو سجاتے ہُوئے کہا۔۔۔


دیکھو بیٹا جہاد کی کئی اِقسام عُلماءِ کرام نے بیان کی ہیں اور اِن اقسام پر سبھی عُلماء کا اجماع بھی ہے۔ کیونکہ یہ سبھی اقسام قران وسنت کی روشنی کے عین مطابق ہیں۔ اور جِہاد کا مُنکر بلاتفاق،، کافر،، ہے۔ البتہ جہاد کے طریقہ کار پر ایک گروہ کا دوسرے گِروہ سے اُصولی اختلاف ممکن ہے۔


جہاد کی یہ پانچ اقسام بُہت مشہور ہیں نمبر1۔جہاد بالعِلم ۔ نمبر2۔جہاد بالمال۔نمبر3۔جہاد بالعمل۔ نمبر4۔جہادبالنفس۔ نمبر5۔جہاد بالقتال۔


بیٹا ، جہاد علم،،کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کریم اور اُسکے مدنی محبوب ﷺ کے احکامات کو سیکھ کر دُنیائے انسانیت تک اُسکی روشنی کو پہنچانا۔ تاکہ ظُلمت کو دین کی روشنی سے منور کیا جاسکے۔ تاکہ تِیرگی چھٹ جائے اور لوگوں کو صحیح اور غلط میں تمیز کرنے میں آسانی ہُوجائے۔ کوشش کرنا انسان کا کام ہے جبکہ ہدایت دینا اللہ کریم کا کام ہے۔ اور قران مجید میں بھی اِسکا واضح حُکم موجود ہے مفہوم،، تم میں ایک ایسی جماعت ہونی چاہیئے جو نیکی کا حُکم کرے اور بُرائی سے رُوکے۔


جبکہ مال سے جہاد کے معنیٰ ہیں کہ اپنی حلال ذرائع سے حَاصِل کی گئی دولت کو اللہ کریم کی راہ میں خرچ کیا جائے۔ اب چاہے وہ رقم مجاھدینِ اسلام کو دِی جائے یا کِسی نادار و بیوہ کو دی جائے ۔ چاہے مدارِس میں پُہنچادی جائے۔ یا کِسی فلاحی کام میں خرچ کردی جائے۔ کیونکہ مال محنت سے کمایا اور جمع کیا جاتا ہے اسلئے اسکا استعمال بھی انسان کے نفس پر گِراں گُزرتا ہے لِہذا جب اتنی کوشش کے بعد کمایا ہُوا مال انسان راہِ خدا میں خرچ کرتا ہے تب شیطان طرح طرح کے وسوسے انسان کے دِل میں پیدا کرتا ہے۔ اور شیطان و نفس سے لڑتے ہُوئے جب انسان خُوشدلی سے راہِ خُدا میں مال خرچ کردیتا ہے۔ تُو یہ بھی جہاد کے زِمرے میں آتا ہے۔ جیسا کہ اللہ کریم اپنے کلامِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔۔۔ سورہ اَلصّٰف آیت نمبر ۱۱۔


اور بِٹیا جہادِ عمل کے متعلق بھی سُنو: جب بحیثیت مسلمان ہم نے اپنی دینی اور دُنیاوی ضروریات کے مُطابق اسلام کی تعلیمات کو سیکھ اور سمجھ لیا تب ہم پر لازم ہے کہ صِرف گُفتار کے غازی نہ بنیں۔ بلکہ جو علم حاصِل کیا ہے اُس پر عمل بھی کریں۔ چاہے شیطن لاکھ حیلے سمجھائے ۔چاہے اُن پر عمل سے دُنیاوی فائدہ ہمارے ہاتھ آئے یا دُنیاوی نقصان ہمارا مُقدر بنے ۔ یا ہمیں اس پر عمل کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ لیکن رضائے رَبُّ الانام کی خاطر ہمیں اس پر عمل پیرا ہونا ہی چاہیئے اور یہی عملی جہاد ہے۔


جبکہ جہاد بالنفس اپنی خُواہشات کو اللہ کی مرضی پر قربان کردینے کا نام ہے۔ جیسے سردیوں کی صبح میں فجر کی نماز نفس پر بھاری ہُوتی ہے۔ مگر یہی عمل اللہ کو محبوب ہے۔ تب یہ نہ دیکھو کہ اِس عمل میں مشقت ہے بلکہ یہ دِیکھو کہ اللہ کریم کی چاہت کیا ہے۔ جسطرح جُھلسا دینے والی گرمی میں روزہ رکھنا نفس پر گِراں گُزرتا ہے مگر اللہ کریم اس عمل پر اپنی خوشی کا اِظہار فرشتوں کے سامنےفرماتا ہے۔ اور کبھی جب کوئی سائل اپنی ضرورت بیان کرتا ہے تو نفس سمجھاتا ہے کہ تجھے اسکی ذیادہ ضرورت ہے۔ لیکن اگر سائل کی ضرورت پوری کردی جائے تو خُدا خُوش ہوتاہے۔ اسی طرح ہر وہ عمل جو نفس پر شاق گُزرے لیکن وہی عمل خُدا کی خوشنودی کا باعث ہُو ۔ تب خُدا و رَسولﷺ کی رضا کو مقدم رکھنا جہادِ نفس ہے۔


اور بیٹا ایک جہادِ قتال ہُوتا ہے یعنی کافر سے اللہ کریم کی رضا کیلئے قتال یعنی لڑائی کرنا۔ اسکا بھی قران مجید میں کئی جگہوں پر حُکم موجود ہے اور اسکی بھی بڑی نرالی شان ہے چُنانچہ قران مجید میں ارشاد ہُوتا ہے کہ،، اور لڑو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ اللہ سنتا جانتا ہے، سورہ البقرۃ آیت ۲۴۴۔۔۔ جبکہ دوسری جگہ اِرشاد ہُوتا ہے کہ،،اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبرنہیں ۔سورہ البقرۃ ۱۵۴


یعنی جو جہاد میں، اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید کہلاتا ہے اور قران کریم کا فیصلہ ہے کہ ،،شہید مرتا نہیں بلکہ زندہ رِہتا ہے۔ لیکن یہ بات اور ہے کہ۔ ہم اُنکی زندگی کے اطوار کو نہیں جان پاتے۔ اور وہ کیسے کھاتے پیتے ہیں یہ نہیں سمجھ پاتے ۔مگر وہ زندہ ہیں۔ کیونکہ یہ اللہ کریم کا فرمان ہے۔ اور جہاد کے فضائل میں بے شُمار اَحادیثِ مبارکہ بھی کُتب اَحادیث میں موجود ہیں۔ جیسا کہ بُخاری شریف کی یہ حدیث ہے۔


ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا۔لوگوں میں سے افضل کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا آدمی جو اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کرتا ہے۔“ اس نے کہا:”پھر کون؟آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ آدمی جو لوگوں سے الگ ہو کر کسی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرے اور لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں۔“بخاری، کتاب الجہاد۔6782


لیکن میری بَچّی ۔۔اِس جہاد مقاتل کیلئے کُچھ قانون ہیں۔ کبھی یہ فرضِ کفایہ ہُوتا ہے ۔ تو کبھی یہ فرضِ عین ہُوتا ہے۔اور کبھی مُباح کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ اور اسکے بے شُمار آداب و احکامات اور اُصول خود اللہ عزوجل اور اُسکے مدنی محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بیان فرمائے ہیں جبکہ کُچھ آثارِ صحابہ (رِضوان اللہ علیہم اجمعین)سے ثابت ہیں ۔ جِنکا پاس رکھنا ہر مُجاھِدِ اسلام اور امیرِ مجاھِدین و لشکر پر لازم و فرض ہے۔اگر اِن قواعد اور احکامات کو پسِ پشت ڈال کر جہاد کیا جائے۔ تو ایسی لڑائی نہ صِرف جہاد کی رُوح کی عین منافی تصور کی جائے گی۔ بلکہ جہاد کے بجائے دھشت گردی کے زمرے میں شامل ہُوجائے گی۔


بابا ایک بات اور بتائیں کہ یہ طالِبان کون ہُوتے ہیں۔۔۔؟ میری ٹیچر مجھے بتارہی تھیں کہ طالِبان اللہ تعالی کے نیک ترین بندے ہُوتے ہیں۔ بلکہ یہ سب وِلایت کے درجے پر ہیں۔ پھر بابا جان آپ طالبان کیساتھ جِہاد میں شامِل کیوں نہیں ہُوتے۔۔۔۔؟



میری بَچّی طالبان ۔ طالِب کی جمع ہے۔ جِس کے معنی ہیں۔۔خواہشمند۔ آرزومند۔ مانگنے والا۔ طلب کرنے والا۔مشتاق ۔ ان تمام معنوں سے تم مجھے دیکھو گی۔ تُو ضرور مجھے طالبان کی صف میں دست بَدستہ پاوٗ گی۔ میں شہادت کیلئے مشتاق ہُوں ۔ اور ہر نماز میں اپنے رب عزوجل سے شہادت کی موت کی تمنا کا سوال کرتا ہُوں۔ میں روشنی کا خُواہشمند ہُوں۔ میں عِلم کے لئے حَریص ہُوں۔ میں مسلمانوں کی ترقی کا آرزومند ہُوں۔ میں عافیت کا طلبگار ہُوں۔ اور کُفار کے مقابل میں مسلمانوں کو تفرقہ پرستی سے بیزار شانہ بشانہ کھڑا دیکھنا چاہتا ہُوں۔


مگر بابا میں تو آپ سے اُن طالبان کی بابت گُفتگو کررہی ہُوں۔ جو موت سے نہیں گھبراتے، جو سینے پر بم باندھ کر شہادت کی موت کے متمنی رِہتے ہیں۔ میری بیٹی نے میری گُفتگو رُوکتے ہُوئے مجھے اپنی طرف ایک مرتبہ پھر متوجہ کرتے ہُوئے سوال کیا۔


میری بچی مجھے اُنکے ساتھ جہاد میں پیش پیش رہنے میں کوئی حرج نہیں ہُوتا۔ اگر میں نے احادیث مبارکہ اور آثارِ صحابہ (رِضوان اللہ تعالی اجمعین) کا بغور مطالعہ نہیں کیا ہُوتا ۔


مگر میں جتنا مُطالعہ کرتا چلا جاتا ہُوں مجھے طالبان کا طریق جہاد نہ صرِف صحابہ کرام (رِضوان اللہ تعالی اجمعین) کے طریقہ ءِجہاد سے مُختلف نظر آتا ہے بلکہ اُس جہاد سے متصادم نظر آتا ہے۔


جیسا کہ بُخاری شریف اور مسلم شریف کی کئی احادیث میں کافر بچوں، بُوڑھوں اور خواتین کو قصداً قتل کرنے کی ممانعت موجود ہے مگر یہ کافر بچوں اور خواتین تو کُجا۔ اسکولوں میں دَرس وتَدریس میں مشغول مسلمان بچوں، بچیوں اور خواتین کو قتل سے دریغ نہیں کرتے ۔جبکہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ جو شخص لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے اس سے ہاتھ اور زبان کو روکنا۔ کہ ہم نہ تو کسی گناہ کی وجہ سے اسے کافر قرار دیں اور نہ کسی عمل کی وجہ سے اسے اسلام سے خارج سمجھیں۔۔ (ابوداؤد)۔


صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجاہدین کو فرمان دیا کرتے تھے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو خیانت نہ کرو، بدعہدی سے بچو، ناک کان وغیرہ اعضاء نہ کاٹو، بچوں کو اور زاہد لوگوں کو جو عبادت خانوں میں پڑے رہتے ہیں قتل نہ کرو۔


مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ کا نام لے کر نکلو اللہ کی راہ میں جہاد کرو کفار سے لڑو ظلم وزیادتی نہ کرو دُھوکہ بازی نہ کرو۔ دشمن کے اعضاء بدن نہ کاٹو درویشوں کو قتل نہ کرو،


بخاری ومسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک غزوہ میں ایک عورت قتل کی ہوئی پائی گئی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بہت بُرا مانا اور عورتوں اور بچوں کے قتل کو منع فرما دیا،


اگرچہ ابتداءِ اسلام میں اسکی اِجازت باقی تھی لیکن جُوں جُوں وقت گُزرتا گیا یہ احکام بھی تبدیل ہُوتے رہے چُنانچہ حضرت علامہ کمال الدین ابن ہمام فتح القدیر کی جلد پنجم میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ابتداءِ اسلام میں مشرک عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کردیا جاتا تھا۔ اِس لئے عورتوں سے بھی جزیہ وصول کیا جاتا تھا۔ اور جب عورتوں کے قتل کا حُکم منسوخ ہوگیا تو جزیہ لینے کا حُکم بھی ساقط ہُوگیا۔


جبکہ موجودہ دُور کے طالبان نہ صرف کافروں کے بچوں اور عورتوں کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ وہ اپنے مقصد کے حصول کیلئےمسلمانوں کی مساجد اور مزارات پر حملوں کے ذریعہ بے گُناہ مسلمانوں کو بھی خُون سے نہلانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ حالانکہ مومن کی تُو پہچان ہی یہی ہے کہ اُس سے دیگر مسلمان محفوظ و مامون رہیں۔


کہاں تو آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وسلم) کافروں کا مثلہ یعنی کان ناک کاٹنے سے روکیں اور کہاں یہ نام نہاد مجاھدین جنہوں نے کافروں کو چھوڑ کر مسلمانوں کی لاشوں کو قبروں سے نِکال کر نہ صِرف مُثلہ کیا بلکہ اُنکی لاشوں کی بےحُرمتی کے بعد اُن لاشوں کو چوراہے پر لٹکادِیا۔ تاکہ مسلمانوں میں انکا خُوف اور دبدبہ قائم ہُوجائے۔ میرے ایک میجر دوست جنکی ڈیوٹی وزیرستان میں تھی۔ مجھے اکثر بتایا کرتے تھے۔ کہ افواجِ پاکستان کے سپاھی جب طالبان کے ہاتھ لگ جاتے تب کبھی کوئی ایسی لاش واپس نہیں ملتی۔ کہ جسکے اعضاء سلامت ہُوں۔


جبکہ ایسے اعمال میں ملوث افراد اور انکی امداد کرنے والے صاحبان کو بُخاری ، مسلم ، اور ابو داوٗد شریف میں موجود اس مشترکہ حدیث پاک کو دیکھنا چاہیئے جو لفظوں کے معمولی فرق کیساتھ تین مستند محدثین (رحم اللہِ اجمعین) نے بیان فرمائی ہے


حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے حضور سید عالمﷺ کی خدمت میں کچھ خام سونا مٹی میں لگا ہوا بھیجا تو آپﷺ نے وہ چار آدمیوں میں تقسیم فرمادیا (یعنی اقرع بن حابس حنظلی مجاشعی، عینیہ بن بدرالغزاری، زید الخیل طائی اور علقمہ بن علاثہ عامری کے درمیان) قریش اور انصار اس پر ناراض ہوئے اور کہاکہ نجد کے رئیسوں کو مال عطا فرمادیا اور ہمیں نظر انداز کردیا گیا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں ان کے دلوں میں اسلام کی محبت ڈالتا ہوں۔ پس ایک آدمی آگے بڑھا جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، گال پھولے ہوئے تھے، پیشانی ابھری ہوئی تھی اور داڑھی گھنی تھی اور سر مُنڈا ہُوا تھا۔ اس نے کہا اے محمدﷺ! اﷲ تعالیٰ سے ڈر و۔(معاذ اﷲ) آپﷺ نے فرمایا! اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کون کرے گا؟ اگر میں اس کی نافرمانی کرتا ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے تو مجھے زمین والوں پر امانت دار شمار فرمایا ہے، لیکن کیا تم مجھے امانتدار نہیں سمجھتے؟ پس ایک آدمی نے اسے قتل کرنے کا سوال کیا۔ میرے خیال میں وہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ تھے، آپﷺ نے منع فرمایا جب وہ لوٹ گیا تو آپﷺ نے فرمایا اس کی نسل یا پیٹھ سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن مجید پڑھیں گے لیکن (قرآن) ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے نکلتے ہوئے ہونگے جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیا کریں گے۔ اگر میں انہیں پائوں تو قوم عاد کی طرح مٹا کر رکھ دوں ۔


پھر جہاد کے اُصول و قواعد کو کوئی بھی حضرت ابوبکر صدیق و عُمرِ فاروق ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت خالد بن ولید (رِضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین)سے ذیادہ جاننے کا دعویدار نہیں ہُوسکتا اور بالفرض کوئی دعویٰ کرے تو اُس سے بڑا دُنیا میں کوئی جھوٹا نہ ہُوگا۔ اِن تمام جَیّد و کبائر صحابہ کرام نے فتوحُ الشام کے موقع پر اپنے متبعین کو یہی ہدایت جاری فرمائی کہ۔ کافروں کے بچوں، عورتوں، بُوڑھوں، درویشوں ، مذہبی رہنماوٗں کو قتل نہ کیا جائے اُنکی املاک کو جان بوجھ کر نشانہ نہ بنایا جائے، فصلوں میں آگ نہ لگائی جائے ،ہرے درختوں کو نہ کاٹا جائے۔ مگر ایک یہ طالبان ہیں جو مسلمان عورتوں کو سر بازار کوڑے مارتے نظر آتے ہیں۔ مسلمانوں کی جان اور املاک کی ہلاکت پر خُوش ہُوتے ہیں۔ اسلحہ کی خریداری کیلئے مسلمان تاجروں کو اغوا کرتے نظر آتے ہیں۔ اور بعض اوقات اپنی ناقص پلاننگ سے تمام اُمت مسلمہ کو ہلاکت میں ڈالنے سے بھی نہیں چُوکتے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کے قتل میں ملوث یہ نام نہاد مجاھدین ہندوستان گورنمنٹ سے امداد لینے کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔


بابا یہ کیسے ممکن ہے کہ طالبان جو اتنے منظم ہیں وہ پلاننگ نہ کرتے ہُوں۔ میری ٹیچر بتارہی تھیں کہ اُنکی پلاننگ اتنی زبردست تھی کہ امریکہ کی تمام خُفیہ ایجنسیاں طالبان کا مُنہ دیکھتی رِہ گئیں اور طالبان نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو مٹی کا ڈھیر بنا دِیا۔


بیٹا ہُوسکتا ہے کہ بعض لوگوں کو یہ بڑی ہمت اور بہادری کا کام لگتا ہُو۔ کہ تین سو مرد و عورت کو دو میناروں کیساتھ زمین بُوس کردِیا گیا ۔ اور امریکی دیکھتے رِہ گئے۔ لیکن اِس عمل کی مسلمان اُمہ نے جو قیمت ادا کی ہے وہ اُن ۲ ٹاوروں سے لاکھ گُنا زائد ہے۔ اسکے علاوہ امریکی اور یورپی مسلمان اس حادثے کی جو قیمت آج تک چُکارہے ہیں اسکے نقصان کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں ہے۔


بیٹا فتاوٰی عالمگیری جو کہ مسلمانوں کی متفقہ فقہی کتاب ہے ۔اِسکی دوسری جلد میں علامہ نظام الدین جہاد کے مُباح ہونے کی دُو شرائط بیان فرماتے ہُوئے لکھتے ہیں۔


نمبر ۱ ۔دین کے دُشمن اسلام قبول کرنے سے انکار کردیں۔ اور دُشمنانِ اسلام اور مسلمانوں میں جنگ بندی کا کوئی معاہدہ بھی موجود نہ ہُو تب جہاد مباح ہوگا۔یا

نمبر۲ ۔مسلمانوں کو یہ توقع اور مکمل یقین ہُو کہ جنگ میں مسلمانوں کو کُفار پر غلبہ حاصِل ہوجائے گا۔ اگر مسلمانوں کو نہ ہی ایسی کوئی توقع ہُو ۔ اور نہ ہی فتح کامل کا یقین ہُو۔ تب اُنکے لئے کُفار سے جہاد جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ جب تک مسلمانوں کو جنگی سامان اور قُوت میں برتری حاصِل نہ ہُوجائے تب تلک کُفار سے لڑنا جہاد نہیں بلکہ خُودکشی ہے۔

اب بِیٹا آپ خُود فیصلہ کرو کہ طالبان کا امریکہ پر حملہ جہاد تھا ۔ یا بے وقوفی اور خُود کشی تھی۔ میں نے بیٹی کی جانب مُڑ کر دیکھا۔ تو وہ اُداس چہرے سے میری جانب تَک رہی تھی۔ مجھے اپنی جانب متوجہ دیکھ کر پھر گُویا ہُوئی۔ تو بابا۔ اسکا مطب یہ ہُوا کہ اب جہاد نہیں ہُوگا۔ اور آپ بھی اسمیں حِصہ نہیں لیں گے۔۔۔؟

کِیوں نہیں میری بَچی۔۔۔ جہاد کبھی موقوف نہیں ہُوتا۔ جہاد کسی ایک واقعہ کا نام تُو نہیں ہے۔ یہ تُو ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ جب جب ہماری سرحدوں پر کفر حملہ کرے گا۔ ہم اُن سے جہاد بالقتل کریں گے۔ اور جب ہم اِس قابل ہُوجائیں گے کہ کفر کے مُقابل میں عسکری قوت جمع کرپائیں تب یکجا ہُوکر اُنکی سرحدوں پر جاکر بھی اُنہیں للکاریں گے۔


لیکن اِس وقت تمام مسلم اُمہ کے عُلماءَ اور حُکمرانوں کی دینی اور مِلی ذِمہ داری ہے کہ وہ سب آپس کے تمام اِختلافات کو دُور کرکے باہمی رضامندی سے جہاد سے متعلق تعلیمات مُصطفےٰ ﷺ پر از سرنو غور و فِکر کے بعد اُن تمام خرافات کو مجاھدین اسلام سے دُور کرنے کی کوشش کریں جُو جہاد کے نام پر رفتہ رفتہ مجاھدین کے اَذہان میں پیوستہ کردِی گئی ہیں۔ جسکی وجہ سے وہ مسلمانوں کے نمائندہ بننے کے بجائے صرف ایک گروہ کی نمائندہ تنظیم بنتی چلی جارہی ہے۔
جِسے بعض اوقات مسلکی فوائد وبرتری کیلئے مساجد پر خُودکش حملوں کیلئےبھی استعمال کیا جانے لگاہے۔یہ اسلئے بھی بُہت ضروری ہے تاکہ کوئی جہاد کے نام پر اسلام کو بدنام نہ کرسکے۔ اُور یہ اسلئے بھی ضروری ہے ۔تاکہ جہاد اور دہشگردی میں فرق واضح ہُوسکے۔ اور مجاھدین میں نظم قائم کیا جاسکے ۔تاکہ ایک محاذ پر بالفرض مجاھدین کمزور پڑیں تُو اُنکی امداد کیلئے دوسرے مجاھِدین کو بھیجا جاسکے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ جہاد کیلئے حاکم شہر یا حاکمِ صوبہ یا حاکمِ مُلک بُلائے۔ یہ نہ ہُو کہ جسکا دِل چاہے اپنا ایک گروپ بنا کر جِہاد کے نام پر اپنی جیب گرم کرتا رہے۔اُور وہ تُو کمانڈر بن کر خود ائر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر اپنے بچوں کو آکسفورڈ یونیورسٹی بھیج دے۔ اور غریبوں کے بچوں کو جہاد کی ترغیب دیتا رہے۔

جبکه پاکستان میں موجود طالبان کا طریقه خوارج کے جد امجد  چھٹی صدی کے عظیم فتنہ گر حسن بن صباح اور احمد بن غطاش کی تعلیمات کا عکس نظر آتا ھے. جنہوں نے سینکڑوں علمائے کرام کو قتل کیا ۔۔ اُور مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگائے۔ اور اقتدار کی خواہش میں اسلامی فوج سے برسرپیکار رہے.. وه لوگ بھی کفار کو چھوڑ کر مسلمانوں کو قتل کرتے ھوۓ نظر آتے تھے اور یه لوگ بھی کفار سے جہاد کرنے کے بجاۓ مسلمانوں کو قتل کرتے ھیں... جبکه اسلام میں ایک انسان کے ناجائز قتل کو بھی تمام انسانیت کے قتل عام سے تشبیه دی گئ ھے... اس قسم کی حرکات دراصل  بیرونی قوتوں کے ایما پر۔۔اسلامی جہاد  کو اقوام عالم میں بدنام کرنے کی کوشش ھیں. تاکه جہاد کو اسقدر بدنام کردیا جاۓ که " کبھی کوئی جہادکا نام بھی اپنی زباں پر نه لاسکے  


باتوں کا سلسلہ جاری تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسجد سے موذن کی صدا بُلند ہُونے لگی جو عصر کی نماز کا اعلان کررہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!لِہذا میں قُولی جہاد سے عملی جہاد کیلئے روانہ ہُونے لگا۔۔۔۔ اِس اُمید پر کہ اللہ کریم نے مزید توفیق عطا فرمائی تو مزید بھی اِس موضوع پر ناصِرف مطالعہ جاری رکھوں گا بلکہ جہاد بالعِلم بھی کرتا رَہونگا۔ انشاءَاللہ عزوجل

جہالت و ظُلم کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔۔۔۔۔۔۔۔ انشاءَاللہ عزوجل


پلکوں سے دَرِّ یار پہ دستک دینا

اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

تذکرہ اک پری کا قسط 25.علی پور کا مجذوب



تذکرہ اِک پری کا۔قسط ۔25۔ علی پُور کا مجذوب۔ 

گُذشتہ  سے پیوستہ۔   



اب عمران کو سمجھ آرہا تھا۔ کہ کیوں بابا صابر اُسے حضرت جمال ہانسوی کا عکس قرار فرمارہے تھے۔ عمران کی آنکھیں جہاں اِس غمناک واقعہ سے بھیگ رہی تھیں۔اُسکا  دِل  اپنے مُرشد کریم کی یاد میں مُرغ بسمل کی طرح  تڑپنے لگا تھا۔۔۔ عمران نے بھیگی پلکوں سے بابا صابر کی جانب جونہی دیکھا۔ تو بابا صابر نے بھرائی ہُوئی آواز میں عمران کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا۔ بیٹا دِل کی بات سُنو! اُور  ہمیشہ دِل کی ہی ماننی چاہیئے۔اَرےتُو ایک پری کیلئے جو قیمت دینے کو تیار ہُوگیا ہے۔۔۔۔ اگر اپنے  مُرشد کی عظمت کو جان لیتا۔ تو ایسی ہزار پریاں اُنکے قدموں پر نثار کردیتا۔

اَب  مَزید پڑھیئے۔ 
بابا  صابر صاحب صاف لفظوں  میں اُسے کوثر کی محبت سے دستبردار ہُونے کیلئے  کہہ رہے تھے۔۔۔ اگر یہ بات بابا صابر  کے عِلاوہ کسی اُور نےکہی ہُوتی تو شائد عَمران احمد وقاص اُس سے لڑ جاتا۔۔۔ لیکن یہاں آواز کی بُلندی تو کُجا ۔۔۔ دِل میں ادنیٰ سی بے ادبی کا تصور بھی محال تھا۔۔۔کہ،، اِس بات کا عمران کو کئی مرتبہ اِدارک ہُوچکا تھا۔کہ،، اللہ والوں سے دِل کی حالت بھی چھپی نہیں رِہتی۔۔۔ ایک طرف مُرشد کی ناراضگی کا خطرہ سمندر کی طغیانی  طرح  بڑھتا چلا جا رہا تھا۔۔۔ دوسری طرف کوثر سےجدائی کےتصور ہی سے عمران کی رُوح کانپ کانپ جاتی تھی۔ عِمران سے جب کوئی بات نہ بن سکی تو اُس نے دِل کے غِبار کو آنکھ سے نِکال دیا۔

چند منٹ یونہی خاموشی کی نذر ہُوگئے۔ بابا صابر اگرچہ بے پرواہی کا مُظاہرہ کررہے تھے۔۔۔ گُویا اُنہیں خبر ہی نہ ہُو۔کہ عِمران کی آنکھیں ساون بھادوں کی طرح برس رہی ہیں۔۔۔ لیکن ذیادہ دیر تک بابا صابر عمران سے لاتعلق نہ رِہ سکے۔۔۔ اُور خاموشی کو توڑتے ہُوئے  فرمانے لگے۔۔۔ میں جانتا ہُوں  تُمہارے دِل کی جو حالت ہے۔۔۔ ایسا نہیں ہے کہ،،  ہمیں عشق مجازی سے کوئی بیر ہے۔۔۔ بلکہ اکثر یہی عشق مجازی عشق حقیقی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔۔۔  مجنوں لیلی کو پُکارتے پکارتے واحد و یکتا کے دَر پر پُہنچ جاتا ہے۔۔۔لیکن یہ سفر اکیلے ہی طے کرنا پڑتا ہے۔ اِس  آتش  کے دریا میں تنہا ہی اُترنا پڑتا ہے۔۔ غم سہنے کا حوصلہ  اُور تکالیف پر صبر کرنے کا سلیقہ جنہیں نہیں آتا۔۔۔ وُہ راہِ عشق پر کبھی گامزن نہیں رِہ پاتے۔۔۔  اُور منزل پر پُہنچ کر ہُوش و خرد بچائے رکھنا بھی ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔۔۔۔ اِسی لئے تو سالک کا مرتبہ مجذوب سے بڑھ کر ہُوتا ہے۔ کہ،، وُہ وصال کے بعد بھی خُود کو کھونے نہیں دیتا۔۔۔بلکہ  وصال یار کے ساتھ خود کا پتہ بھی ڈھونڈ لیتا ہے۔۔۔ گفتگو کرتے ہوئے بابا صابر شفقت سے عمران کے سر  پر شفقت سے اپنا ہاتھ پھیرنے لگے۔

بابا صاحب جب آپ میرے دِل کی حالت جانتے ہیں۔تو یہ بھی آپ جانتے ہیں۔کہ،، میں کوثر کے بنا زِندہ لاش بن کر رِہ جاوٗں گا۔۔۔  ایک دِن وُہ مجھے تلاش کرتی ہُوئی آئی تھی۔۔۔ لیکن اب مجھے ایسا لگتا ہے۔ جیسے میں اُسکو صدیوں سے ڈھونڈ رَہا ہُوں۔۔۔ لیکن منزل کی ایک جھلک دیکھ کر راستہ بھول گیا ہُوں۔۔۔ میں اُسکے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔۔۔ کیا آپ میری خاطر مُرشد کو راضی نہیں کرسکتے۔۔۔؟ عِمران نے بابا صابر کے ہاتھوں کی ٹھنڈک کو محسوس کرتے ہُوئے التجا کی۔۔۔

بابا صابر صاحب  چند لمحے خاموش رہنے کے بعد عمران کے مغموم چہرے کو غور سے دیکھتے  ہُوئے گُویا ہُوئے۔۔۔  میں تمہاری خاطر ایک کوشش کرسکتا ہُوں۔ لیکن  تجھے یقین سے نہیں کہہ سکتا ہے۔ کہ کامیابی بھی یقینی ہُوگی۔۔۔ میں صرف مصالحت کی بھرپُور کوشش کروں گا۔۔۔ وُہ بھی صرف اِس لئے کہ،، میں نہیں چاہتا کہ،، کوئی  اُور جمالِ ہانسوی کی طرح  آزمائش کی بھٹی کی نذر ہُوجائے اُور سُلگتا رہے۔۔۔ لیکن تُم کو بھی مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہُوگا۔کہ،، اگر میں بابا صاحب کو اپنی بھرپُور کوشش کے باوجود بھی کوثر کے معاملے میں راضی نہیں کرپایا۔۔۔ تو تُم آئیندہ مجھ سے اِسکے لئے ضد نہیں کروگے۔۔۔

عِمران کیلئے یہ بات بھی کسی نعمت سے کم نہیں تھی۔کہ،، بابا صابر اُسکے لئے وکالت کریں گے۔۔۔  اُور عمران کا دِل گواہی دے رَہا تھا۔کہ،، بابا صابر  صاحبکی کوشش ضرور رنگ لائے گی۔ اُور  بابا صاحب کی کوشش کے نیتیجے میں کوئی نہ کوئی ضرور نرم راہ نِکل آئے گی۔۔۔ جسکی وجہ سے  کم از کم دَس برس کی سزا میں تخفیف ضرور حاصل ہُوجائے گی۔۔۔ اِس لئے عِمران نے خوشی خُوشی بابا صابر صاحب کی شرط کو قبول کرلیا۔۔۔

چند لمحے بعد بابا صابر صاحب نے درخت سے بندھی ایک پُوٹلی سے مچھلی کے چند فرائی ٹکڑے یہ کہتے ہُوئے  عمران کے سامنے رکھ دیئے کہ،،  چند دِن پہلے کوئی یہ مچھلی کھانے کیلئے دے گیا تھا۔ دِل چاہے تو کھالو۔ ورنہ واپس پُوٹلی میں رکھ دینا۔۔۔ عِمران نے  کچھ سُوچ کر احتیاط سے مچھلی  کے ایک ٹکڑے کے کونے سے ذرا سی مچھلی زُبان پر رکھ کر ٹیسٹ کی۔۔۔ تو عمران کو  ایسا لگا۔ جیسے مچھلی بالکل فریش ہُو۔ اُور یہ مچھلی تھی بھی نہایت لذیز۔۔۔ حالانکہ بابا صابر نے بتایا تھا۔کہ مچھلی کئی دِن پرانی تھی۔۔۔ عمران مزے لیکر مچھلی کھانے میں مشغول ہُوگیا۔۔۔ کیونکہ اب اُس نے حیران ہُونا چھوڑ دیا تھا۔۔۔ مچھلی کھاتے ہُوئے اچانک ایک بات یاد آگئی سُو  عمران نے بابا صابر کو مخاطب کرتے ہُوئے سوال کیا۔۔۔ بابا یہ مجذوب کسے کہتے ہیں۔ اُور کیا یہ بھی عام لوگوں کی طرح شعور رکھتے ہیں۔۔۔؟

بابا صابر نے مسکراتے ہُوئے عمران کی جانب دیکھا۔ اُور پھر فرمانے لگے۔۔۔ یہ بات ہر ایک کو بتانے والی نہیں ہے۔۔۔ لیکن تُم ہر ایک نہیں ہُو۔ اسلئے تمہیں بتائے دیتا ہُوں۔۔۔ دیکھو بیٹا سارے مجذوب  دِکھائی  دینے والے ہی مجذوب نہیں ہُوتے۔ کچھ تو اپنی جان چھڑانے کیلئے مجذوب کا بہروپ بھر لیتے ہیں۔ جیسے کہ،، بہلول دانا ۔ ایک زبردست فقیہ تھے۔ لیکن ہارون الرشید کی پیشکش سے بچنے کیلئے ساری زندگی  مجذوبیت کی چادر اُوڑھے رہے۔ دراصل عشق کی راہ میں جب کوئی وصال  کی  نعمت سے سرفراز کیا جاتا ہے۔۔۔ تب کچھ عشاق دیدار یار کے  حَسین جلوے برداشت نہیں کرپاتے۔ اُور مدہوش ہُوجاتے ہیں۔۔۔ جسے حالت سکر بھی کہا جاتا ہے۔ اِس حالت میں عاشق کو یار کے  جلووٗں کے سِوا کچھ سجھائی نہیں دیتا۔۔۔ سُو وُہ  جذب  و مستی کی کیفیت میں چلے جاتے ہیں۔ اُور مجذوب کہلاتے ہیں۔ البتہ کبھی کبھار اپنی اصل حالت میں بھی لُوٹ آتے ہیں۔ اُور جو   وِصال پاکر بھی ہُوش کی طرف لُوٹ آئے۔۔۔ وُہ حکم کو بجالانے میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ اسلئے سالک کہلاتے ہیں۔

لیکن مجذوب بھی بے شعور و بے عِلم نہیں ہُوتا۔۔۔ یہ بھی بحر علم کے شناور ہُوتے ہیں۔۔۔ جب بولتے ہیں۔ تو صاحبان علم بھی اپنی گردنیں اُنکے آگے خم کردیتے ہیں۔۔۔   چلو میں تمہیں ایک مجذوب کا قصہ سُناتا ہُوں۔ تاکہ تمہیں عِلم ہُوجائے کہ ،، مجذوب بھی کتنے سیانے ہُوتے ہیں۔۔۔۔ عمران مچھلی کے تمام پارچے چٹ کرچکا تھا۔۔۔ اسلئے ہمہ تن گوش ہُوکر بابا صابر کی طرف متوجہ ہُوکر اَدب سے بیٹھ گیا۔


یہ اُن دِنوں کی بات ہے۔۔۔ جب پاکستان بنے ہُوئے ذیادہ برس نہیں گُزرے تھے۔۔۔پنجاب کے شہر علی پُور میں گندم کی فصل پک کر کٹائی کیلئے تیار ہو چکی تھی... چوہدری صاحب فصل کا معائنه کرنے کیلئے  اپنی جیپ پر سوار ہُو کر نکلے تھے. .. ایک موڑ سے گزرتے ہُوےٗ  چوہدری کی نظر علی پور کے مشہور مجذوب پر پڑی. جسکی آمد کی وجہ سے لوگوں کے دِلوں سے چُوہدری کا دبدبہ اُور خُوف ختم ہُوگیا تھا۔۔۔ اِس مجذوب نے گاوٗں کے تمام سہمے ہُوئے لوگوں کے  ذہن میں یہ بات ڈالدِی تھی کہ،، ڈرناصرف موسٰی کے رَب سے چاہیئے جو ناراض ہُوجائے تو عذاب دیتا ہے۔ اُور راضی ہُوجائے تو عدن میں دائمی سکونت فراہم کردیتا ہے۔ ۔۔جبکہ فرعون کسی بھی رُوپ میں ہُو ایک نہ ایک دِن مظلوموں ہی کی طرح مٹی  کے نیچے جا پُہنچتا ہے۔۔۔ نہ جانے اِس مجذوب کی صدا میں کیسا سحر تھا۔کہ رفتہ رفتہ تمام  غلام ذہن جاگنے لگے۔اُور جاگتے ہی چلے گئے۔۔۔ اُور آج وہی مجذوب چوہدری کے کھیتوں میں کھڑا ،،گندم کے ایک خوشه کو ہاتھ میں لئے کچھ بُڑبڑا رہا تھا۔۔۔

چوھدری نے ڈرایئور کو جیپ روکنے کا اشاره کیا .... اور  جیپ سے اُتر گیا۔مجذوب کے قریب پُہنچ کر   چُوہدری نےحقارت بھرے لہجے  میں طنزا" کہا.. بابے! کنک نوں کیہڑی کہا نیاں سُنا رِیا اے.۔.؟؟؟ ہُن کی فصل نُوں وی باغی کرن دا سُوچ رہے اُو۔۔۔

مجذوب نے  بڑی بےپروَاہی سے چوہدری کی جانب دیکھے بغیر کہا. خالق کی رزاقی دیکھ حیران ہُو رہَا ہُوں که،، کسطرح ملتان کے سرخ ککڑ (مرغ) کیلئے علی پور میں  ایک ظالم کے سائے میں رِزق کاانتظام فرما رہا ہے۔۔۔
تینوں وڈی غیب دی خبراں مل ریاں نیں... لیکن اَج میں تینوں جھوٹا ثابت کردیاں گا..... یہ کہه کر چوھدری نے مجذوب کے ہاتھ سے گندم کا سُٹه چھین کر اپنی ہتھیلیوں پر مسَلا اور مُنہ میں  پھانک لیا۔۔۔

چوہدری نے قہقه لگا کر مجذوب کی جانب فاتحانہ نظروں سے دیکھا،، جیسے پوچھ رہا ھو۔ که،، بابے بتا اب ملتان کا سرخ مرغ کیسے ان دانوں کو کھاۓ گا جسے میں نگل چکا ہُوں۔۔۔

جوابا" مجذوب نے بھی قہقه لگاتے ھوۓ ترکی به ترکی جواب دیا،، مخلوق کی کیا مجال جو خالق کے کاموں میں دخل دے سکے. اتنا کہه کر وُہ مجذوب بھی  ایک طرف چل پڑا۔۔۔۔

چوہدری کا چہره مجذوب کا جواب سن کر غصے سے سرخ پڑگیا اہانت کے احساس نے اسکی گردن کی رگوں کو پھلا دیا... چُوہدری نے   مجذوب کو پکڑنے کیلئے  اپنے مزدروں پر چیخنا چلانا چاہا...لیکن کھانسی کے ٹھسکے نے اسے مہلت نہ دی... کھانسی کی شِدت کی وجہ سے چوہدری اپنا گلا پکڑ کر زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔۔۔ اِس سے پہلے کہ،، چوہدری کے پالتو غنڈے  مجذوب کو دبوچتے۔۔۔ چوہدری کی حالت بگڑنے لگی۔۔۔ اُور  چند سیکنڈ میں چوہدری پر بیہوشی طاری ہُوگئی۔۔۔

چُوہدری کے مُلازم چُوہدری کی حالت دیکھ کر گھبرا گئے۔۔۔۔ کسی نے ڈرتے ڈرتے مشورہ دِیا۔۔۔ شائد چُوہدری صاحب کو مِرگی کا دُورہ پڑا ہے ۔ انہیں جُوتی سُنگھانی چاہیئے۔۔۔ کافی دیر تک ایک ہاری اپنا  غلیظ جُوتا چُوہدری کی ناک سے مَسلتا رَہا۔ لیکن چوہدری ہُوش میں نہیں آیا۔۔۔ پھر کسی نے آواز لگائی۔ اُو بے وقوفوں۔۔۔ یہ مِرگی نہیں کوئی اُور ہی معاملہ ہے چُوہدری صاحب کو ڈاکٹر صاحب کے پاس لے چلو۔۔۔

علاقے کے ڈاکٹر نے چوہدری صاحب پر کافی طبع آزمائی کی۔لیکن کوئی فائدہ نہ دیکھ کر مظفر گرھ لیجانے کا مَشورہ دِیا۔۔۔۔ چوہدری صاحب کے بھاری بھرکم جسم کو جیسے تیسے دُوبارہ جیپ میں ٹھونس کر مظفر گڑھ کے اسپتال میں پُہنچادِیا گیا۔۔۔ دُوپہر سے شام تک۔۔۔اُور شام سے رات تک  مظفر گڑھ کے داکٹرز چوہدری صاحب کو ہُوش میں لانے کی  ناکام سعی کرتے رہے۔۔۔ لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے چار پات کی صورت رَہا۔ یہاں تک کہ مظفر گڑھ کے ڈاکٹرز نے بھی جواب دیتے ہُوئے۔ اپنے سر کی بلا ملتان والوں کے سر ڈالدی۔۔۔۔ غریب  ڈرائیور اُور  چُوہدری کے منیجر کی سمجھ میں  کچھ نہیں آرہا تھا۔کہ،، اَب چوہدری صاحب کو  ملتان کے کس ہاسپٹل میں  لیجایا جائے۔ پھر ایک مزارعے نے بتایا کہ ملتان کے سول ہسپتال میں ایک بڑے ذہین ڈاکٹر صاحب موجود ہُوتے ہیں۔کیوں نہ چوہدری صاحب کو اُنہیں دِکھایا جائے۔۔۔

رات  دَس بجے ملتان سِول ہسپتال پُہنچ کر پتہ چلا کہ،، ڈاکٹر صاحب کی ڈیوٹی صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک ہُوتی ہے۔۔۔ ناچار اُن لُوگوں نے چُوہدری صاحب کو سِول ہسپتال میں ایڈمِٹ کروادیا۔۔۔ لیکن گیارہ بجے تک چُوہدری صاحب کی حالت باوجود کوشش کے  مزیدبگڑنی شروع ہُوگئی۔۔۔ قریب کے ایک مریض نے ساتھ آنے والے سے جب ماجرا معلوم کیا۔۔۔ تو اُس نے مشورہ دیتے ہُوئے کہا،، لگتا ہے آپکے مریض کے حلق سے گندم کے دانے دِماغ کی جانب چَڑھ گئے ہیں۔۔۔ اگر میرا مشورہ مانو! تو صبح تک انتظار کرنے کے بجائے اپنے مریض کو حکیم سلمان صاحب کو دِکھادُو۔۔۔ اللہ کریم کے ہاتھ میں بڑی شِفا دِی ہے۔ایسے مسئلے وُہ مِنٹوں میں حل کردیتے ہیں۔۔۔

 بات چوہدری صاحب کےمنیجر کے دِل کو رَاس آگئی تھی۔۔۔ سُو اُس نے حکیم صاحب کا ایڈریس سمجھ کر اُسی وقت حکیم صاحب  کے گھرکی رَاہ لی۔ اُور رات ساڑھے گیارہ بجے حکیم صاحب کو کچی نیند سے اُٹھا کر تمام ماجرا سُنایا۔۔۔ حکیم صاحب بھی نہایت خُدا ترس بندے نِکلے۔ علاج کی حامی بھرتے ہُوئے کہنے لگے۔۔۔ میاں تُم مریض کو یہاں لے آوٗ۔ جب تک میں کچھ دوا تیار کئے لیتا ہُوں۔۔۔

پندرہ منٹ بعد چوہدری صاحب کو جیسے تیسے حکیم صاحب کے گھر سے ملحق مطب میں پُہنچادیا گیا۔۔۔ حکیم صاحب نے چُوہدری صاحب کا معائینہ کرنے کے بعد ایک دوائی کی بوتل اُور خالی تگاری منیجر صاحب کو تھماتے ہُوئے ہدایات دیں۔۔۔ کہ،، ہر آدھے گھنٹے بعد دُو چمچ دوائی  مریض کے حلق میں انڈیلتے رہیئے۔ چند گھنٹوں کے اندر مریض کو اُلٹی آئے گی۔۔  جِسے تگاری میں لیکر  مطب سے کچھ فاصلے پر کچرا کنڈی تک پھینک آیئے گا۔۔۔

فجر کی آذان سے کچھ لمحے قبل  مسلسل دوائی  چوہدری صاحب کے حلق میں انڈیلنے کا ثمر نظر آیا۔ اُور واقعی چُوہدری صاحب کو ایک لمبی قے آئی جسکی بدبو ناقابل برداشت تھی۔ منیجر کے حکم پر ایک مزدور نے وُہ قے تگاری میں سمیٹ لی۔ اُور کچرہ کنڈی کی نذر کردی۔۔۔ فجر کی آذان کے ساتھ  ہی چُوہدری صاحب کو ہُوش آگیا۔۔۔ لیکن اُنہیں کچھ بھی یاد نہیں تھا۔۔۔۔ جب اُنہیں تمام تفصیلات سے آگاہ کرتے ہُوئے بتایا گیا کہ،، کسطرح آپکو غشی کا دُورہ پڑا تھا۔۔۔ اور کسطرح علی پور سے مظفر گڑھ اُور مظفر گڑھ سے ملتان لایا گیا ہے۔۔۔ تو چوہدری نے اپنا سر دُونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔۔۔ تھوڑی دیر میں سپیدہ پھیلنے لگا جسکی روشنی میں تیرگی اپنے لئے جائے پناہ تلاش کرنے لگی۔۔۔

چوہدری  نے کچھ سُوچتے ہُوئے مغموم لہجے میں منیجر سے فرمائش کی۔۔۔ مجھے وُہ جگہ دیکھنی ہے،، جہاں  قے والی تگاری خالی کی گئی ہے۔۔۔ نقاہت کی وجہ سے چُوہدری سے اُٹھا نہیں جارَہا تھا۔لیکن چُوہدری اپنی فرمائش پر بَضد تھا۔۔۔ لِہذا دُو کارندوں نے بڑھ کر چُوہدری کا سہارا دِیا۔۔۔ بڑی مشکل سے چند قدموں کا تھکا دینے والا یہ سفر جب  اپنے  اِختتام کو پُہنچا۔ تو چُوہدری یہ دیکھ کر حیران رِہ گیا۔کہ،، کچرہ کُنڈی پر موجود ایک سُرخ مُرغ   اُلٹی میں لِتھڑے ہُوئے گندم کے دانے اپنی چُونچ سے صاف کر کر کے کھا رَہا تھا۔۔۔ اُور چُوہدری کے کانوں میں مجذوب کا یہ فقرہ گُونج رَہا تھا ۔کہ،، مخلوق کی کیا مجال جو خالق کے کاموں میں دخل دے سکے. ،،گندم کے یہ دانے تو سُرخ کُکڑ ہی کھائے گا!!!۔

بابا صابر خاموش ہُوئے تو عِمران بھی چونک کر اِس سحر آفرین داستان کے کرداروں سے واقف ہُوکر واپس اپنی دُنیا میں لُوٹ آیا۔ اُس پر آج بابا صابر کا اِک نیا  رُوپ ظاہر ہُوا تھا۔ کیونکہ کہانی سنتے ہُوئے عِمران کو یُوں محسوس ہورہا تھا۔ جیسے وُہ بابا صابر کے ساتھ باغ میں بیٹھنے کے بجائے اپنے کالج کی کلاس میں بیٹھا اُردو ادب کے لیکچرار سے شستہ اُردو میں کوئی ناول سُن رہا ہُو۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

اُسکی الفت کا مزاہ سب سے الگ سب سے جُدا
جیسے سُورج کی تپش روکتی ہے کُوئی رِدا
جیسے ساقی نے پَلائی ہُو کسی تشنہ کو شراب

جیسے ٹل جائے کسی عاصی کے سر پہ سے عذاب .