bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Tuesday, 26 May 2015

جال در جال - قسط 4



جال در جال - قسط 4


گُذشتہ سے پیوستہ

دُعا سے فارغ ہُوکر فرقان نے حَسّان صاحب کے ہاتھوں کو بُوسہ دیتے ہُوئے اجازت طلب کی اور پھر اپنی گاڑی میں سوار ہُوکر گھر کی جانب چل دِیا گھر کے مین گیٹ پر پُہنچ کر فرقان نے جونہی کار کا ہارن بجایا۔ چند ہی لمحوں میں چُوکیدار نے مین گیٹ کھول دِیا۔ مگر جیسے ہی فرقان کار پُورچ میں دَاخِل ہُوا تُو اُسے نعمان کی کار پہلے سے وہاں کھڑی نظر آئی۔

فرقان جونہی کار سے نِکلا تُو چُوکیدار نے اُسے اطلاع دِی کہ نُعمان صاحب پِچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے ڈرائینگ رُوم میں بڑی بے چینی سے اُسکا انتظار کر رہے اور کافی مرتبہ آپکو کال بھی مِلا چُکے ہیں مگر آپکا فون تب سے بند مِل رہا ہے۔ تب فرقان کو یاد آیا کہ اُس نے نماز کے بعد سے اپنا موبائیل فُون ابھی تک آن نہیں کیا ہے۔

وہ ڈرائینگ رُوم کی جانب بڑھتے ہُوئے یہی سُوچ رہا تھا ۔ اللہ خیر کرے۔ کہیں وہ بالکل ہی تمام ناطے تُو ختم کرنے نہیں چلا آیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اَب مزید پَڑھیئے۔

فُرقان نے ڈرائینگ رُوم میں نُعمان کو دِیکھا۔ جُو آنکھیں بند کئے صوفے پر نیم دَراز تھا۔ فرقان نے قریب جاکر آہستہ سے سلام کیا۔ نُعمان نے فُرقان کی آواز سنتے ہی اپنی آنکھیں کُھول دِیں ۔ اور فرقان پر نِگاہ پڑتے ہی سلام کا جواب دیتے ہُوئے مُصافحے کیلئے اُٹھ کھڑا ہُوا۔

فرقان نے مُسکراتے ہُوئے نُعمان کی خیریت دریافت کی۔ جِسکے جواب میں نُعمان صرف اتنا ہی کہہ پایا ،، میری خیریت کیا دریافت کرتے ہُو ۔۔۔؟ میرے بھائی کیا میرا چہرہ اور میری آنکھیں تُم سے یہ نہیں کہہ رہیں کہ میں تُم سے بُہت شرمندہ اور نہایت پَشیمان ہُوں۔ اپنی اُن باتُوں کیلئے جو میں نے نجانے کِس حال میں تُجھ سے کہہ ڈالیں۔ فرقان میرا یقین کرو۔ میرا ہرگز ایسا کوئی اِرادہ نہیں تھا کہ میں تُم کو اِیذا پُہنچاؤں ۔ میں تُم سے جُدا ہُونے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ مگر نجانے اُس وقت کِس طرح میری زُبان سے وہ جُملہ نِکل گیا۔۔۔ جو کہ دَرحقیقت نہیں نِکلنا چاہیئے تھا۔۔۔ دراصل وہ کِسی اور کا اندیشہ تھا۔ وہ کِسی اور کے خیالات کی بازگشت تھی۔ جُو نجانے کِسطرح میری زُبان پر جاری ہُوگئی۔ پشیمانی و شرمندگی کا اِحساس نُعمان کے ہر ایک جُملے سے عَیاں تھا۔

بس کر میرے یار۔ مجھے معلوم تھا کہ میرا بھائیوں جیسا دُوست کوئی ایسا کام نہیں کرے گا ۔جِسکے سبب ہمارے درمیان کوئی نادیدہ فاصِلہ حائل ہُوجائے۔ فرقان نے نُعمان کو کھینچ کر اپنے سینے سے لگاتے ہُوئے کہا۔ اور ہاں۔ ایسے لوگوں سے ہمیشہ دُور ہی رِہنے میں عافیت ہے۔ جنکی باتوں سے اپنوں میں جدائی پیدا ہُوجائے۔ کیونکہ حَسَّان صاحب کہتے ہیں کہ دُنیا کے بدترین انسانوں میں سے ہے وہ اِنسان ،،جو دُوستوں اور میاں بیوی ،،میں جُدائی پیدا کرنے کی کُوشش کرتا ہے۔

چھوڑ۔نا۔ یار ۔۔ ایک تُو آجکل تُم ہر ایک بات میں اُس پروفیسر کو ضرور گھسیٹ کر لے آتے ہُو۔۔۔ کیا ہم اُس پَروفیسرکے ذکر کے بغیر اپنی گُفتگو مکمل نہیں کرسکتے۔۔۔! یہ جُملہ اگرچہ نعمان نے ہنسی میں اُڑاتے ہُوئے کہا تھا۔ لیکن فرقان نے لہجے میں چھپے نُعمان کے طنز کو بخوبی مِحسوس کرلیا تھا۔نُعمان چند لمحوں کیلئے خاموش ہُو کر سگریٹ سُلگانے لگا ۔ جبکہ فُرقان خاموشی سے سُوچنے لگا کہ کیوں بھلا نُعمان ۔۔حَسَّان صاحب کے ذکر سے اسقدر چڑنے لگاہے۔۔۔؟

حالانکہ یہ حَسَّان صاحب ہی تھے کہ جِنہوں نے فرقان کو تیرگی کے بحرِ بیکراں سے روشنیوں کی جانب کھینچ لیا تھا ۔ وہ نہ صرف شریعت کے پابند تھے بلکہ اُنکی زندگی کا مِحور ہی اتباعِ سُنت تھا۔وہ ہر ایک کام میں رضائے حق کے مُتلاشی تھے۔اُنکا کوئی عَمل مُحبت رسول ﷺ سے مستشنیٰ نہیں تھا۔ وہ تُو اُس مینار کی مانند تھے ۔ جُو تاریک اور سنسان راہوُں پر رنگ و نُور پھیلا کر ماحُول پر طاری وحشت کو ختم کرنے کی سعی میں مصروفِ با عمل رِہتا ہے ۔ وہ تُو اُمید ِ سحر ہیں۔ وہ تُو سراپا مُحبت ہیں۔ اور مُحبت اور علم لازِم و ملزُوم ہیں۔ اِسی لئے شائد مُحبت کا دوسرا نام روشنی بھی ہے۔ اور روشنی سے نفرت صِرف وہی کرسکتا ہے جِسے اندھیرے پسند ہُوں۔ اور اندھیرا جِہل ہی کا تُو دُوسرا نام ہے۔ اور جِہل شیطان سے ہے۔ یعنی تاریکی اور جہل کو پسند کرنے والا شیطان کا ساتھی ہوا ۔۔۔۔۔! تُو کیا نعمان بھی اُس شیطانِ لعین کے سحر میں اس حد تک گرفتار ہُو چُکا ہے کہ اُسے روشنی سے نفرت ہُونے لگی ہے۔۔۔؟ 

فُرقان اپنی سُوچوں میں گُم تھا۔کہ اچانک نعمان نے فرقان کے ایک ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہُوئے کہا،، یار فرقان اگر تُم ناراض نہ ہُو تُو تُم سے ایک بات پُوچھنا چاہتا ہُوں ۔کہ آخر تُم بنک لُون کے ذکرپر اتنے جذباتی اور متشدد کیوں ہُوجاتے ہُو۔۔۔؟ 

فُرقان نے چُونک کر نُعمان کی طرف دِیکھتے ہُوئے کہا۔ضرور نُعمان ! میں تُمہیں ضرور بتاؤں بتانا چاہُوں گا ۔کہ مجھے اِس مُروجہ بنک سسٹم سے آخر اتنی نفرت کیوں ہے ۔ نُعمان میرے بھائی مجھے بنک کے قرضوں سے اُس وقت بھی نفرت تھی جب مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اِس سسٹم اور اسکے طریقہ کار کی اللہ کریم نے واضح الفاظ میں قُرانِ مجید میں ُمُذمت بیان فرمائی ہے۔ میرے بھائی اِس سے پہلے کہ میں تُمہارے سَوال کا مزید جواب دُوں۔ میں تُم سے ایک اُور بات بھی کہنا چاہتا ہُوں۔ اور وہ بات شائد تُم بھی نہیں جانتے ۔کہ اِس بھری دُنیا میں تُم ہی میرے واحد دوست کیوں ہُو۔۔۔!تُو میرے دُوست میں تُمہیں آج بتانا چاہتا ہُوں ۔کہ تُم نے کبھی میرے ماضی کو نہیں ٹٹولا ۔اور نہ ہی کبھی تُم نے میری ذاتی زندگی میں خُود سے جھانکنے کی کوئی کوشش کی ہے۔ اُور تُمہاری یہی عادت مجھے تُمہارے قریب لانے کا باعث بنی ہے۔

نُعمان میرے بھائی تقریباً ہر انسان کی زندگی میں اُسکے ماضی کےکُچھ ایسے واقعات ضرور ہُوتے ہیں جو اُسکی رُوح پر زَخموں کے نِشانات چھوڑ دیتے ہیں۔ اور جب جب اُن واقعات کی یاد تازہ کی جاتی ہے وہ زُخم جو کہ مُندمِل ہُونے کے قریب ہُوتے ہیں پھر سے ہرے ہُوجاتے ہیں۔ ایسے ہی کُچھ تکلیف دَہ زَخموں کے نِشان میری قرطاس رُوح پر بھی ثبت ہیں ۔ جنہیں میں لاکھ بُھلانے کی کُوشش کرتا ہُوں۔ لیکن یہ زَخم ہیں کہ بھرنے کا نام ہی نہیں لیتےَ۔

میرے بھائی جِس وقت میرے والد نے میری والدہ اور ہم دُو بہن بھائیوں کیساتھ فیصل آباد سے سندھ کی طرف ہجرت کی تھی تب میں عُمر کے پندرہویں برس میں قدم رکھ رَہا تھا ۔اُور میری اکلوتی بِہن کی عُمر صرف دَس برس رہی ہُوگی۔ اور مجھے آج تک وہ دِن اچھی طرح سے یاد ہیں۔ کیونکہ اُن دِنِوں میرے والد کا بال بال قرض میں جکڑا ہُوا تھا۔ اور قرض خواہُوں کے دِن رات کے تقاضوں کے سبب ہی ہم پنجاب سے ہجرت کرنے پر مجبور ہُوئے تھے۔ اُن دِنوں کئی مہینوں تک ہمیں کبھی پیٹ بھر کر کھانا بھی نصیب نہیں ہُوپاتا تھا۔ کئی ماہ کی کوششوں کے بعد ابا جان کو ایک گارمینٹس فیکٹری میں سپروائزر کی جاب مِل سکی تھی۔ جِس سے بمشکل ہم سانسوں کا رِشتہ جِسم سے قائم رکھ پاتے ۔یا بُہت کھینچ تان کرگھر کا کرایہ ادا کرپاتے تھے۔ اسکے سِوا اور کوئی خُوشی کا موقع ہمیں نصیب نہ ہُوپاتا۔

میری تُم سے مُلاقات بھی اُنہی دِنوں میں ہُوئی تھی میں اپنے ہم عُمر بچَّوں سے گُریزاں رَہا کرتا تھا۔ لیکن تُمہاری خُوش اِخلاقی اور دوست پروری سے میں نہایت مسرور تھا۔لیکن مجھے ہمیشہ ایک دھڑکا سا لگا رہتا تھا۔ کہ تُم بھی دوسروں کی طرح کب میری زندگی کے اُن صفحات میں دلچسپی ظاہر کرتے ہُو ۔ جَن پر نِگاہ پڑتے ہی میں ہمیشہ وِحشت زدہ ہُوجاتا ہُوں۔ لیکن تُم نے کبھی میرے ماضی کو ٹٹولنے کی کوشش نہیں کی۔ یہاں تک کہ میں اُس آزار کے جنگل سے نِکل آیا۔

میرے دُوست تُم سُوچ رہے ہُونگے کہ میں تُمہارے سوال کے جواب میں یہ کونسی کہانی سُنانے بیٹھ گیا ہُوں۔ لیکن درحقیت اِس تمہید کے بغیر شائد تُم میری تکلیف کو سمجھ ہی نا پاتے اسلئے میں نے تُمہیں اپنی سابقہ زندگی کا ایک ورق پڑھ کر سُناناضروری سمجھا۔

نہیں فرقان ایسی کوئی بات نہیں میں دِلچسپی سے تُمہاری تمام باتیں سُن رہا ہُوں۔ اور میں جاننا چاہتا کہ وہ کونسی دلیل ہے جو تُمہیں زندگی میں آگے بڑھنے سے رُوک رہی ہے۔ نُعمان نے سگریٹ کا دُھواں فِضا میں بکھیرتے ہُوئے کہا۔

میرے خیال میں جِسے تُم زندگی میں آگے بڑھنا سمجھتے ہُو ۔ وہی بات میرے نزدیک پستی اور تنزلی کا باعث ہے ۔اور میری مُکمل گُفتگو سُننے کے بعد انشاءَاللہ تُم بھی میری بات سے متفق ہُوجاؤ گے فرقان نے دُوبارہ گُفتگوکے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہُوئے کہا۔

ہاں تُو میں تُمہیں بتا رہا تھا کہ کس کسمپرسی کی زندگی ہم پنجاب سے ہجرت کرنے کے بعد سندھ میں گُزار رہے تھے۔لیکن میرے دُوست ہمارے ہمیشہ سے ایسے حالات نہیں تھے ۔ اَمَّاں بتاتی تھیں کہ جس وقت میری عُمر پانچ یا چھ سال کی تھی۔ اُس وقت میرے والد صاحب کا شُمار پنجاب کے بڑے زمینداروں میں ہُوتا تھا۔ جھنگ کے نزدیک ہماری ایک سو ایکڑ سے زائد زمینیں تھی۔ گھر میں نوکر چاکروں کی اِک فوج ہماری خِدمت کیلئے ہمیشہ ہمہ تن گُوش رَہا کرتی تھی۔ لیکن میرے والد صاحب کو زمینداری پسند نہیں تھی۔ کیونکہ اِسمیں اکثر جھگڑے فساد کا احتمال رہتا تھا۔ ایک ایسے ہی جھگڑے میں میرے والد کے دُو سگے بھائی کام آچُکے تھے۔ اَمَّاں کو بھی ہمیشہ دھڑکا لگا رہتا تھا۔ پھر میرے ایک چچا نے اپنے دُو بھائیوں کا بدلہ لینے کیلئے دُشمنوں کے تین سگے بھائیوں کو سرعام رُوڈ پر گُولیاں مار کر ہلاک کرڈالا۔

جسکے بعد برادری میں فیصلہ ہُوا کہ ہمیں اپنی کُچھ زمین مقتولین کے ورثا کو دینی ہُونگی۔ حالانکہ جب اُنہوں نے میرے دُو چچا قتل کئے تھے تب برادری نے ہمیں کوئی تاوان نہیں دِلوایا تھا۔ اور اِس فیصلے کی شائد ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مقتولین بہرحال ہمارے خاندان والوں سے زیادہ طاقتور تھے۔ پھر نجانے کیا ہُوا کہ ایکدن میرے آخری چچا کا انتقال ایک رُوڈ ایکسیڈنٹ میں ہُوگیا۔ کہنے والے کہتے تھے کہ وہ ایکسیڈنٹ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا۔ بلکہ میرے چچا کو نِشانہ بنا کر ٹرک سے کُچل کر بڑی بیدردی سےقتل کیاگیا تھا۔ اِس واقعہ کے بعد میرے والد کی رہی سہی ہمت بھی ٹوٹ گئی اور میرے ابا جھنگ کا علاقہ چُھوڑ کر فیصل آباد چلے آئے۔

فیصل آباد میں شفٹ ہونے کے بعد ابا نے تمام زمینیں اُونے پُونے داموں میں فروخت کرڈالیں۔ اور زمینوں سے حاصِل ہُونے والی تمام رقم سے اپنے تین دوستوں کی شراکت سے ایک کپڑے کی مِل لگا ڈالی ۔ابتدائی دُو سال تُو بخیر و عافیت گُزر گئے لیکن تیسرے سال اُس فیکٹری میں آتشزدگی کے ایک واقعہ نے ہم سب کو دِہلا کر رکھ دِیا۔ فیکٹری کا انشورنس نہ ہُونے کی وجہ سے تمام خسارہ چاروں پارٹنرز کے حصے میں آیا۔ اور فیکٹری شدید مشکلات کا شِکار ہُوگئی۔ یہانتک کہ فیکٹری کو چلانے کیلئے جو خام مال درکار تھا اُسکی خریداری کے لئے بھی سرمایہ نہ بچا۔ دھیرے دھیرے فیکٹری مقروض ہُوتی چلی گئی۔

فیکٹری چلانے کیلئے بنک سے قرض حاصل کیا گیا ۔ تاکہ فیکٹری کو چلایا جاسکے۔لیکن بقول کِسے،، مرض بڑھتا گیا جُوں جُوں دوا کی ،، کے مِصداق قرض بڑھتا ہی چلا جارہا تھا ۔ خسارے کو پُورا کرنے کیلئے چاروں دوستوں نے مزید رقم فیکٹری میں شامل کرنے کا پروگرام بنایا جسکی وجہ سے میرے والد اور اُنکے ایک دوست نے اپنا مکان تک بیچ ڈالا جبکہ دُو دُوستوں نے اتنی ہی رقم دوسرے ذرائع سے کاروبار میں شامل کردی ۔لیکن کوئی فائدہ حاصل نہ ہُوسکا صرف چار برس میں بنک کا قرض دُو گُنا ہُوگیا۔ جُو کہ فیکٹری کی کُل مالیت سے بھی زائد تھا ۔جِسکو ادا کرنے کی کوئی سبیل بھی اب نظر نہیں آرہی تھی۔جبکہ بنک کا تقاضہ رُوز بروز بڑھتا ہی چلا جارہا تھا۔

تبھی والد صاحب اور اُنکے دوستوں نے مشورہ کیا کہ کیوں نہ پرایئویٹ سیکٹر سے قرض حاصِل کیا جائے لہذا کئی لوگوں کو بطور انویسٹر فیکٹری میں پارٹنر شپ دی گئی ۔لیکن یہ سرمایہ بھی فیکٹری کی ساکھ کو نہیں بچا پایا ۔اور بِلاآخر بنک اکاونٹ میں موجود تمام سرمائے کو اچانک ایکدِن بنک نے سُود کی مَد میں جمع کرلیا۔ اور بنک نے عدالت سے فیکٹری کی قُرقی کے احکامات بھی حاصِل کرلئے ۔ اس تمام معاملے کی بھنک جب انویسٹرز تک پُہنچی تُو اُنہوں نے میرے والد سمیت چاروں دوستوں کا جینا دُوبھر کردِیا۔ اُنہی لُوگوں میں ایک شخص نے اپنی زندگی کی تمام پُونجی بطور انویسٹر اس فیکٹری میں سہانے مستقبل کی خاطر لگائی تھی۔ جب اُسے فیکٹری کی قُرقی سے متعلق خبر مِلی تو اُسے ہارٹ اٹیک نے آلیا ۔جس کے بعد وہ جانبر نہ ہُوسکا۔

اور اسطرح میرے دُوست( سُود ۔در۔ سُود) کے اس نظام نے نہ صرف میرے والد اور اُنکے تین دُوستوں کی زندگی سے ہمیشہ کیلئے خُوشیاں چھین لیں۔ بلہن کئی اور لوگوں کو بھی اپنے ظُلم کا نِشانہ بناڈالا۔ جنکا قصور شائد صرف اتنا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں کُچھ آسانیاں تلاش کرنے کیلئے کوئی آسان راستہ ڈھونڈ رہے تھے ۔ جبکہ درحیقت اُن لوگوں کا بنک سے کوئی معاملہ ہی نہیں تھا۔ اور بنک کو بھی یہ بات معلوم تھی ۔اور اُنہوں نے انویسٹرز والے آئڈئیے کی منظوری دیتے ہُوئے میرے والد اور اُنکے دوستوں کو یقین دِہانی کرائی تھی ۔کہ اگر کبھی بنک کاروائی ہُوئی بھی تُو اِن انویسٹرز کا بہرحال خیال رکھا جائے گا۔فرقان کی آواز آخری جُملے ادا کرتے ہُوئے بَھرَّا سی گئی تھی۔

لیکن فرقان اس تمام مُعاملے میں مجھے بنک سے زیادہ تُمہارے والد اور اُنکے ساتھیوں کی غلط پلاننگ نظر آرہی ہے۔ کیا ضروری ہے کہ جُو غلطی تُمہارے والد نے کی تھی۔ ہم بھی اُسی غلطی کو دُھرائیں۔۔۔؟ نعمان نے تمام گُفتگو سننے کے بعد اپنی رائے دیتے ہُوئے کہا۔

نُعمان کی بات سُن کر فرقان کا مُنہ حیرت سے کُھلا کا کُھلا رِہ گیا۔۔۔۔ اُسے ہرگز توقع نہیں تھی۔ کہ نُعمان اُسکی داستان سننے کے بعد بھی بنک لُون کی حمایت میں کُچھ کہہ سکتا ہے۔

(
جاری ہے)

Monday, 25 May 2015

عامل کامل ابو شامل (جوگی گھنشام داس) قسط ۳۵



گُذشتہ سے پیوستہ۔

جب تمام میڈیکل رپورٹس سے  بھی بیماری کی تشخیص ممکن نہ ہُوسکی۔ تو عزیز رشتہ داروں  کو حسب سابق یہ  تمام معاملہ سفلی ،، جادو کا شاخسانہ دکھائی دینے لگا۔۔۔ فرح کی والدہ بھی  اِس رائے سے متفق تھیں۔ لہذا شام کو  فرح کے والدعلاقے کی مسجد کے قاری صاحب کو پکڑ لائے۔ اِن کے متعلق علاقے میں مشہور تھا۔کہ،، جنات اِنکا نام سُن کر تھرتھرانے لگتے ہیں۔ اُور جادو کی کاٹ کے تو وُہ ایسے ماہر ہیں ۔کہ،، جادو کرنے والوں پر جادو  اسطرح پلٹاتے ہیں۔کہ،، وُہ آئندہ جادو کرنے کے قابل ہی نہیں رہتے۔۔۔ جب قاری صاحب کمرے میں داخل ہُوئے تو اپنی طوطے جیسی ناک کمرے میں یُوں  بُلند کرنے لگے۔ جیسے جادو ، یا جنات کی بُو کا سراغ لگارہے ہُوں۔۔۔۔ سچی بات یہ ہے کہ جب میں نے کسی عامل کی آمد کا تذکرہ سُنا تھا۔ تو کچھ نہ کچھ تشویش  بہرحال مجھے بھی لاحق ہُوئی تھی۔۔۔۔ لیکن جونہی میں نے قاری عبدالمنان کو دیکھا تو میری ہنسی نکل گئی۔۔۔ وُہ ایک بے پیرا عامل تھا۔ جو سرے سے تکوینی معملات سے بے خبر تھا۔ اُور اپنی ذات  کی خُودی میں ایسا گُم تھا۔ کہ،، عملیات کی دنیا میں آنے سے قبل یہ جان ہی نہیں پایا کہ،، عملیات میں تاثیر اُنکے ہوتی ہے۔ جن پر کسی کامل اللہ والے کی نظر ہُو۔ وگرنہ ساری ریاضت لپیٹ کر بلعم بن باعورا کی طرح مُنہ پر مار دی جاتی ہے۔  قاری عبدالمنان  کو دیکھ کر میرے اندر کا شرارتی بچہ انگڑائی لیکر جاگ رہا تھا۔ میری حالت بھی بالکل اُس بچے کی مانند تھی۔۔۔۔ جوکسی دوسرے بچے  کے کھلونے کو دیکھ کر مسلنے اُور توڑنے کے پلان بنانے لگتا ہے۔

اب مزید پڑھیئے۔

تھوڑی دیر  تک قاری عبدالمنان کمرے  میں  ایسے مٹر گشت کرتا رہا  جیسے کسی غیر مرئی مخلوق کی موجودگی کو محسوس کررہا ہُو۔ اگلے مرحلے میں اُس نے فرح کے بیڈ کے سامنے کرسی  پڑی کرسی پر براجمان ہُو کر زیر لب  بدبدانا شروع کردیا۔ وُہ مسلسل آنکھیں بند ایسے جھوم رہا تھا۔ جیسے یہودی یروشلم میں مقدس دیوار کے سامنے لہراتے اُور بل کھاتے ہیں۔۔۔ مجھ سے اپنی ہنسی نہیں سنبھالی جارہی تھی۔ کہ اچانک قاری صاحب نے  دھماکہ دار اعلان فرمادیا۔۔۔۔ اِس بچی  کے جسم پر جنات کے ایک لوفر گروہ نے قبضہ جمالیا ہے۔ جنکی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ سبھی کے سبھی اُوباش ہیں۔ جو اِس بچی کو باری باری  اپنی ہوس کا نشانہ بنارہے ہیں۔۔۔ لیکن یہ نہیں جانتے ۔کہ،،  یہ انجانے میں قاری عبدالمنان کے علاقے میں دراندازی کے مرتکب ہوگئے ہیں۔ اُور اب یہ  تمام کمینے اپنے انجام کو پُہنچنے والے ہیں۔۔۔۔ میری تمام ہنسی قاری کے اِس اعلان کے بعد غصے میں بدل چُکی تھی۔ وُہ اپنی ریٹنگ بڑھانے کیلئے اُول فول بک رہا تھا۔ میں چاہتا تو اُسے اِسی وقت تماشہ بناسکتا تھا۔ لیکن میں نے فیصلہ کیا۔کہ،، لوگوں کو اِسکی اصلیت بتانا ہی اسکی بہترین سَزا ہُوگی۔

وُہ عامل جس وقت فرح پر جھک کر اُسے پھونکیں مار رہا تھا۔ میں نے اُسکی رانوں کے درمیان شدید قسم کی کھجلی پیدا کردی۔۔۔ جسکی وجہ سے کمرے میں ڈرامے کی  سی صورتحال پیدا ہُوگئی۔۔ کبھی وُہ  فرح کے بیڈ پر ہاتھ رکھ لیتا۔ اُور کبھی اتنی شدت سے اپنی  رانوں کو کھجانے لگتا۔ جیسے کوئی خارش زدہ انسان تنہائی میں بیباکی سے کھجا سکتا ہے۔۔۔ شرمندگی کے مارے قاری کا بُرا حال تھا۔ مگر وُہ ڈھٹائی سے تب تک فرح پر پھونکیں مارتا رہا۔ جب تک کہ اُسکی برداشت جواب نہ دے گئی۔ بلاآخر اُس نے فرار کی راہ ڈھونڈتے ہُوئے اعلان کیا۔کہ،، وُہ اپنا خاص چراغ گھر بھول آیا ہے۔ اِس لئے باقی علاج مغرب کی نماز کے بعد کرے گا۔ وُہ عامل جیسے ہی کمرے سے نکلنے لگا۔ میں نے شرارت سے اُسکی شلوار کا ایک پائینچہ تھام لیا۔ جسکے نتیجے میں قاری صاحب  دھڑام سے زمین بُوس ہُوگئے۔ قاری صاحب کی بدحواسی اُور مسلسل کھجلی کی وجہ سے تمام لوگوں کا عجیب حال تھا۔ وُہ نہ تو کھل کر ہنس سکتے تھے۔ اُور نہ ہی اُنکی بدحواسی کا سبب معلوم کرپارہے تھے۔

مغرب کے بعد جب قاری صاحب کی حالت  قدرے سنبھل گئی ۔ تو موصوف اِس مرتبہ سچ مچ ایک پیتل کا چراغ فرح کی فیملی پر دھاک جمانے کی خاطر اُٹھالائے۔۔۔ قاری صاحب نے اس مرتبہ دعویٰ کیا کہ،، جونہی چراغ میں بخورات  سُلگنے لگے گا۔۔  فرح پر قابض تمام جنات میری قید میں چلے آئیں گے۔۔۔۔ میں  قاری صاحب کے بالکل برابر میں دھونی جما کر بیٹھ گیا۔۔۔ اُور جونہی قاری صاحب نے بخورات سلگائے میں نے ایک ہی کش کی مانند اُسکا تمام دُھواں سمیٹ کر قاری صاحب کی ناک میں منتقل کردیا۔۔۔ پھر کیا تھا۔ قاری صاحب پُورے کمرے میں  بپھرے سانڈ کی مانند چھینکیں مارتے ہُوئے اُچھل کُود کرنے لگے۔۔۔ جب انکی طبیعت کچھ سنبھلنے لگی تو وُہ ایک مرتبہ پھر چراغ کے سامنے آکر بیٹھ گئے۔ البتہ بخوارت کو اُنہوں نے یہ کہہ کر بُجھادیا ۔کہ،، پنساری بھی آج کل ملاوٹ کرنے لگے ہیں۔  اِس مرتبہ جونہی قاری صاحب نے  آنکھیں مُوند کرڈھونگ جماتے ہُوئے بِدبدانا شروع کیا میں نے ایک چھپکلی قاری صاحب کے سر پر ٹپکادی۔۔۔ قاری صاحب بڑے انہماک سے عمل میں مصروف تھے۔ جبکہ چھپکلی  گھبرا کر سَرسراتے  ہُوئے ٹوپی سے پھسل کر قمیص میں داخل ہُوگئی۔

قاری صاحب نے چھپکلی کی  حرکت سے بےچین ہُوکر آنکھیں کھول دی۔ لیکن جونہی اُن کو قمیص کے اندر چھپکلی کی موجودگی کا احساس ہُوا۔ تو وُہ ایسے بدحواس ہُوئے کہ،، کمرے میں  اچھلتے کودتے ہُوئے اپنی قمیص اُتار کر صحن میں اُچھال دی۔ فرح  نےبیماری کے باوجود بھی مسکراتے ہُوئے شرم سے اپنا چہرہ دوسری جانب پھیرلیا۔۔۔۔ ۳ دن تک یہ کھیل تماشہ چلتا رہا۔ وُہ ڈھونگی عامل فرح کے علاج کیلئے جونہی کمرے میں داخل ہُوتا۔ میں اُسے ہی سب کے سامنے تماشہ بنادیتا۔ آخر تیسرے دِن فرح کے والد سمجھ گئے ۔کہ،، قاری عبدالمنان کوئی عامل نہیں بلکہ ایک ڈھونگی ہیں۔ جو خود کو نہیں سنبھال پارہے تو اِنکی بیٹی کا علاج کیا خاک کریں گے۔ اِس لئے اُنہوں نے قاری صاحب  سے معذرت کرتے ہُوئے صاف صاف کہہ دیا۔کہ،،  وُہ آئندہ آنے کی زحمت نہ کریں۔ ہماری بچی کے نصیب میں اگر یہ تکلیف لکھی ہے۔ تو اللہ کریم ہی اسمیں آسانی کا راستہ نکال دے گا۔

میں نے قاری صاحب کو اُنکے ڈھونگ اُور جھوٹے دعوے کا اچھا خاصہ مزاہ چکھادیا تھا۔ محلے والوں کو بھی فرح کے گھر میں پیش آنے والے کھیل تماشوں کی خبر ہُوچُکی تھی۔۔۔ ایک دو مرتبہ میں نے قاری صاحب کے گھر میں بھی  خُوب دہشت پھیلائی ۔تو ایکدن قاری صاحب خود چِلا چلا کر اپنے کمرے میں کہنے لگے۔ خُدا کے واسطے تُم جو کوئی بھی ہُو۔ میرے گھر والوں کا پیچھا چھوڑ دُو۔ میرے باپ کی بھی توبہ جو آئندہ کسی کو روحانی علاج کا جھانسہ دینے کی کوشش کروں۔ قاری صاحب کی واضح شکست کے اعلان کے بعد میں نے بھی  اُس بے پیرے  ڈھونگی قاری کا پیچھا چھوڑ دیا۔

 میں فرح کو مسلسل وُہ سفوف دیئے جارہا تھا۔ کیونکہ مجھے معلوم تھا۔ اِس سے سوائے بدنی کمزوری کے فرح کو کوئی نقصان نہیں ہُونا تھا۔ وُہ کافی حد تک کمزور و لاغر دکھائی دینے لگی تھی۔ اُسکا تمام حُسن   بدن سے  پت جھڑ کی مانند پانی کی طرح بہہ کر  ریت میں جذب ہُوچُکا تھا۔۔۔ پھر ایکدن میری مُراد بَر آئی ۔ کسی طرح ڈاکٹر دلشاد کی والدہ کو فرح کی بیماری کی خبر ہُوگئی ۔ اطلاع ملتے ہی وُہ دوڑی چلی آئی۔ لیکن جونہی اُس نے فرح کی حالت دیکھی۔ اُسکے چہرے کا رنگ پھک سے اُڑ گیا۔۔۔۔ فرح کی والدہ،، دلشاد کی امی کو تمام تفصیلات سے آگاہ کررہی تھیں۔ کہ،، کسطرح پہلے تمام ڈاکٹروں کے کلینک کے چکر کاٹے گئے۔ ۔۔۔ مزید استفسار پر اُنہوں نے   قاری عبدالمنان سے روحانی علاج کی رُوداد بھی  سُنا ڈالی۔۔۔۔۔ فرح کے گھر سے واپس جاتے ہُوئے دلشاد کی امی نے کہا تو کچھ بھی نہیں۔۔۔ لیکن اُن کے چہرے کو دیکھ کر  میرا اندازہ یہی تھا۔ کہ،، وُہ چند دِن میں ضرور کوئی اہم اعلان کردیں گی۔ جو سراسر میرے حق میں ہُوگا۔

سات دِن بھی نہیں گُزرے ہُوں گے۔کہ،، ایکدن فرح کی امی فرح کو بتارہی تھیں۔ کہ،، آج دلشاد کی امی کسی خاص کام سے ہمارے گھر آرہی ہیں۔ البتہ اُنہوں نے یہ نہیں بتایا۔کہ،، وُہ خاص کام آخر ہے کیا؟؟؟؟ فرح  اپنی امی کو تشویش بھری نگاہوں سے دیکھتے ہُوئے استفسار کرنے لگی۔ امی آپکو کیا لگتا ہے۔؟؟؟ کہیں وُہ دِلشاد سے میرا رشتہ تو ختم کرنے کا نہیں سُوچ  رہیں؟؟؟؟ نہیں بٹیا ایسا نہیں سُوچتے!!!! حالات چاہے کتنے ہی انسان کے خلاف ہُوجائیں ۔ لیکن اِنسان کو ہمیشہ خیر کی ہی طلب کرنی چاہیئے ۔ اُور ہمیشہ اچھا اُور مثبت پہلو ہی تلاش کرنا چاہیئے۔ فرح کی امی نے فرح کو دِلاسہ دیتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔ لیکن میں فرح کی سُوچ سے سُو فی صد متفق تھا۔ اُور میرے دِل میں خُوشی کے لڈو بلکہ شہنائیاں بھی گونجنے لگی تھیں۔۔۔ شام کو دِلشاد کی والدہ گھر میں داخل ہُوئیں۔ تو اُنکے ساتھ ایک جُوگی نما شخص بھی برآمد ہُوا۔۔۔ اُور یہ جُوگی نما شخص کوئی اُور نہیں بلکہ گھنشام داس تھا۔ جو بعد میں  تمہارے ہاتھوں جہنم رسید ہُوا تھا۔۔۔۔۔گھنشام داس کا تذکرہ سُن کر کامل علی کے بدن میں سرسری دوڑ گئی۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

جال ۔ در۔ جال قسط ٣



جال ۔ در۔ جال قسط ٣


گُذشتہ سے پیوستہ

یار تُمہاری عقل کیا گھاس چَرنے گئی ہے۔۔۔؟ البتہ تو کوئی انویسٹر اتنی بڑی رقم ایک نئی فیکٹری میں لگائے گا ہی نہیں ۔اور اگر فرض کرلیں کوئی ایسا اِنویسٹر مِل بھی جاتا ہے تُو وہ کم از کم پچاس ساٹھ پرسنٹ منافع سے کم میں راضی نہیں ہُوگا۔ پھر ہم کیوں بیس یا پچیس پرسنٹ منافع کیلئے اِتنا جھمیلہ پالیں جب بنک خُود ہمیں تمام مطلوبہ رقم دینے کو تیار ہے۔ اور میرے خیال میں بنک کا انٹریسٹ زیادہ سے زیادہ مُنافع کا دس سے پندرہ پرسنٹ ہُوگا۔ نعمان نے غُصیلے لہجے میں جھنجلاتے ہوئے فرقان کو تُرکی بہ تُرکی جواب دِیا۔

پھر تُم اُس وقت کا انتظار کیوں نہیں کرتے جب تک کہ مطلوبہ رقم مُنافع کے ذریعہ سے ہماری دسترس میں نہیں آجاتی۔ فُرقان کے لہجے میں بھی نہ چاہتے ہُوئے تلخی کی کڑواہٹ دَر آئی تھی۔

اِسکا مطلب ہے واقعی ہمارے راستے جُدا ہُونے کا وقت بُہت نذدیک ہے۔ نجانے کسطرح یہ جُملہ نعمان کی زُبان سے بے اِختیار پِھسل گیا۔ نعمان خُود بھی اپنے اِس جُملہ پر حیران تھا۔ لیکن اب دِیر ہُوچُکی تھی تِیر میان سے نِکل چُکا تھا ۔ اور نشانہ بھی قائم کرچُکا تھا ۔لیکن یہ نِشانہ نعمان کے نا چاہتے ہُوئے بھی فرقان کا سینہ ہی تھا۔

اب مزید پڑھیئے

فرقان نے حیرت سے چند لمحے نعمان کے چہرے کو دِیکھا۔ اُسے گُمان بھی نہیں تھا کہ کبھی نعمان اِس طرح کی کوئی بات ایسے تلخ لہجے میں اُس سے کہے گا۔اور اب وہ مُنتظر تھا کہ نعمان خُود اپنے جُملے کی تشریح کردے۔ اے کاش وہ کہہ دِے کہ،، یار مُجھے مُعاف کرنا،، میں کہنا تُو کُچھ اور چاہتا تھا لیکن میری زُبان سے ،، نِکل نجانے کیا گیا۔۔ لیکن نُعمان کی زُباں سے نِکلے جُملے نے نُعمان کو اِس قابِل ہی کہاں چھوڑا تھا کہ وہ مزید کوئی اور بات کرپاتا۔

نُعمان سُوچ ہی رہا تھا کہ بِگڑی بات کو کِس طرح سنبھالے لیکن اُسُے کُچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ ایساکُونسا عُذر پیش کرے کہ جسکی وجہ سے کمرے کے ماحول کی حِدت بھی رفع ہُوجائے۔ اور اُسکے یار کا دِل بھی اُسکی طرف سے خراب نہ ہُو۔ کرامت کے جُملوں کی بازگشت نے اُسکے ذہن کو ایسا پراگندہ کردِیا تھا کہ جِن اندیشوں سے نِکلنے کیلئے اُس نے فرقان کو بُلایا تھا۔ وہی جُملے اُسکی زُباں سے نادانستگی میں نِکل گئے تھے۔

فُرقان کو اِنتظار ِ یار میں خَاموشی کی چند گھڑیاں بھی یُوں مِحسوس ہو رہی تھیں جیسے گُویا صَدیاں بیت گئی ہُوں۔ اور نُعمان کی مُسلسل خاموشی اُسے یہ سمجھانے کیلئے کافی تھی کہ جو کُچھ نعمان نے فرقان سے کہا ہے۔ وہ کوئی حادثاتی گُفتگو نہیں تھی۔ بلکہ وہ اِس مُعاملے میں کافی غُور و فِکر کر چُکا ہے۔ اور سب کُچھ سُوچ سمجھ کر ہی اِس نتیجے پر پُہنچا ہے کہ اب ہمیں اپنے راستے جُدا کرلینے چاہئیں۔ فرقان کیلئے یہ خیال ہی بڑا رُوح فرسا تھا کہ اب وہ دونوں مزید ساتھ نہیں چل سکتے۔ اور اب فرقان میں اتنی سکت بھی باقی نہ تھی کہ مزید وہاں بیٹھ سکتا۔ اُسے لگا کہ اگر وہ چند لمحے بھی وہاں مزید بیٹھا تُو وہ رُو دِیگا۔ کیونکہ اُسے مِحسوس ہُو رہا تھا کہ اُسکے آبگینے نَم ہُوچُکے ہیں اور کِسی بھی وقت چھلک جانے کو ہیں۔ وہ خُود کو اپنی ہی فیکٹری میں لوگوں کے سامنے تماشہ نہیں بنانا چاہتا تھا۔ اسلئے خاموشی سے اُٹھا اور سِٹنگ روم سے نِکل کر اپنی گاڑی میں روانہ ہُوگیا۔ آج زِندگی میں پہلی مرتبہ ایسا ہُوا تھا کہ اُس نے فیکٹری سے نِکلتے ہُوئے گیٹ کیپر سے کوئی جُملہ بازی کی اور نہ ہی گاڑی سے باہر اپنا ہاتھ نِکالا۔

رات کو عِشاء کی نماز کے بعد وہ حسب سابق پروفیسر حسان صاحب کی مِحفل میں بیٹھا تُو اُسے بار بار نعمان کا جُملہ یاد آتا رہا۔ اُسکی بے چینی کو حسان صاحب بھی دیکھ رہے تھے۔ لِہذا جب مِحفل برخاست ہوئی تب حسان صاحب نے فرقان کے ہاتھوں کو نرمی سے اپنے ہاتھوں میں دَباتے ہُوئے سوال کیا،، فرقان میاں خیریت تُو ہے آج آپکی طبیعت کُچھ ناساز نظر آرہی ہے۔۔۔؟

تب حسان سے نہ رہا گیا اور اُسکی آنکھیں مزید نَم ہُوگئیں۔ حسان صاحب نے اُسکی حالت مُلاحِظہ کرتے ہُوئے فرقان کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے دوبارہ نِشست گاہ میں بیٹھنے کی دعوت دِی اور تمام لوگوں سے فارغ ہُوکر فرقان کے نزدیک آبیٹھے۔

تنہائی دِیکھ کر فرقان نے اپنے دِل کے تمام غُبار کا ماجرا ،، اول تا آخر،، حسان صاحب کو سُنا ڈالا۔ اور ساتھ ہی نعمان کی اپنی زندگی میں اہمیت بھی بیان کردی۔ جب فُرقان اپنی تمام کہانی سُنا چکا تب حسّان صاحب یُوں گُویا ہوئے۔ دِیکھو فرقان میاں پہلے تُو زندگی میں چند چیزوں کی اہمیت کو مجھ سے اچھی طرح سے سمجھ لُو۔ اور ساتھ ہی اُن چیزوں کی قیمت بھی ہمیشہ کیلئے اپنے ذِہن کے کِسی گُوشے میں محفوظ کرلینا۔

چند چیزیں انسان کی زندگی میں نہایت اِہم ہُوتی ہیں۔ اور اُنکی قیمت بھی انمول ہوتی ہے جِس کے پاس یہ چیزیں یا یُوں کہہ لُو کہ یہ نعمتیں ہُوں اور وہ اُنکی قدر و قیمت نہ جانے وہ دُنیا کا اِحمق ترین انسان ہُوتا ہے کیونکہ جب تک کِسی شئے کی قیمت ہی انسان کو معلوم نہ ہُو۔ وہ اُسکی اہمیت بھی کبھی نہیں جان پائے گا اور جب اہمیت اور قیمت نہیں جان پائے گا تُو قوی خدشات ہیں کہ انسان اُن نعمتوں کی قدر نہ کرنے کے باعث اُن سے کبھی بھی محروم ہُوسکتا ہے۔

دِیکھو مِثال کے طُور پر ہَرانسان کو اللہ کریم نے کَم و زیادہ وقت کی مُہلت عطا فرماکر اِس دُنیا میں بھیجا ہے۔ تاکہ وہ اپنے مقررہ وقت میں زیادہ سے زیادہ دائمی زندگی میں کامیابی حاصِل کرنے کیلئے کوشش کرے۔ لیکن تُم نے مُشاہدہ کیا ہُوگا کہ بے شُمار لُوگ ایسے بھی ہیں جُو اپنی زندگی کے قیمتی لمحات بلکہ وقت کےانمول گوُھَروں کو یونہی بے دریغ ۔ لغویات و فضولیات میں ضائع کررہے ہوتے ہیں۔ اُنکی مِثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی اِنسان کِسی اِہم کام کیلئے اپنے گھر سے بازار کیلئے نِکلے۔ اور جب وہ بازار میں پُہنچے تب وہ اُس اہم کام کو بُھول جائے کہ جس کیلئے وہ اپنے گھر سے نِکلا تھا۔ اور تمام دِن بازار کی زینت میں گُم رہے۔ یہاں تک کہ رات کا اندھیرا دِن کی روشنی کو نِگل جائے اور بازار سِمٹ جائے۔ تب اُسے افسوس کے سِوا کُچھ ہاتھ نہیں آتا اور وہ خالی ہاتھ ہی بازار سے گھرکی جانب ناکام و نامُراد لُوٹ آتا ہے۔

بالکل اِسی طرح سے اچھا دُوست۔ نیک بیوی اور کُشادہ گھر بھی اللہ کی نعمتوں میں سے ہیں اور انکا کوئی مُتبادِل نہیں ہے۔ اور جُو اِن نعمتوں میں سے کسی نعمت کو پانے کے بعد ضائع کردے میری نِگاہ میں وہ بھی بُہت بڑابےوقوف ہے۔ حَسّان صاحب نے اپنی گُفتگو چند لمحوں کیلئے رُوک کر پانی کے چند گُھونٹ اپنے حلق سے اُتارنے کے بعد اپنی گُفتگو کو دوبارہ وہیں سے جُوڑتے ہُوئے کہا۔ دِیکھو بیٹا فرقان تُم نے جو اپنی اور نعمان کی دوستی کی رُوداد ابھی کُچھ لمحے پہلے مُجھے سُنائی تھی۔ میں نے اُس سے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے۔ کہ فطرتاً نعمان ایک شریف النفس انسان ہے ۔ جو تُمہاری عدم موجودگی کے باوجود بھی تُمہیں تُمہارے حق سے محروم نہیں رکھتا۔ اور اپنا کام دیانت داری اور خُوش اسلوبی سے انجام دے رہا ہے۔ بس عِلم سے دُوری کے سبب وہ صحیح اور غلط میں تمیز نہیں کرپارہا۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ تُم سے چُھٹکارہ حاصِل کرنا چاہتا ہُوگا۔ بلکہ میرا ذاتی تجربہ اور مُشاہدہ کہتا ہے کہ ضرور تُم دونوں میں کُچھ غلط فہمی پیدا ہُوگئی ہے۔

دِیکھو بیٹا جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اچھا دوست اللہ کی نعمت ہُوتا ہے اور اللہ کی نعمت سے مُنہ موڑنا کُفران نعمت ہُوتا ہے۔ دوست اگر ٹھوکر کھاکر غِلاظت میں جاگِرے تب اُسکی غِلاظت سے مُنہ پھیر کر نِکل جانا دانائی نہیں بلکہ کمال تُو تب ہے کہ ایسے وقت میں دوست کو سہارا دیکر گندگی سے نِکال لیا جائے چاہے اُسکے لئے چند لمحوں کیلئے غِلاظت میں اُترنا ہی کیوں نہ پڑجائے۔ اسلئے میں تُمہیں تاکید کرتا ہُوں کہ اُسے اِحسن طریقے سے سمجھانے کی کوشش جاری رکھنا۔ اُسکے ساتھ سختی کے بجائے نرمی اور حکمت سے کام لینا۔ اُسکی بے رُخی کا جواب ہرگز بے رُخی سے دینے کی غلطی نہ کرنا۔ اور ہر ممکن وہ راہ اِختیار نہ کرنا کہ جسکی وجہ سے خلش میں اضافہ ہُو اگر تُمہیں سمجھانے میں دُشواری پیش آئے تو اُسے میرے پاس لے آنا میں اُسے سمجھانے کی کوشش کرونگا۔

حضرت صاحب ! اگر وہ آپ کے پاس آنے سے اِنکار کردے اور میں بھی اُسے سمجھانے میں ناکام ہُوجاؤں تب کیا کروں۔۔۔؟ فرقان نے حسان صاحب کی جانب دیکھتے ہُوئے عرض کیا۔ وہ حَسّان صاحب کے متعلق نعمان کی کیا رائے ہے بتانے میں ہچکچا رہا تھا۔

تب بھی کوئی بات نہیں۔ کبھی ایسا بھی ہُوتا ہے کہ انسان اپنی خُواہشات کے آگے اتنا بے بس ہُوجاتا ہے کہ اپنے خالق و مالک کو بھی بھول جاتا ہے لیکن ایسا تب ہُوتا ہے جب اُسے اپنے فیصلوں اور اپنی سمجھ سے زیادہ کِسی کی بات قابلِ توجہ نہیں لگتی۔ اور یہ بھی انسان کے علم سے دوری کی وجہ سے ہی ممکن ہوتا ہے کیونکہ حقیقی عِلم عاجزی پیدا کرتا ہے ۔ اور سینے میں ایسی روشنی پیدا کردیتا ہے کہ وہاں خالق و مالک کے فضل سے کبھی اندھیروں کا گُزر ممکن نہیں ہوتا۔ اور جہالت کا مُقابلہ عِلم ہی سے ممکن ہے جہالت سے نہیں۔ اور عِلم کا کمال یہ ہے کہ علم رکھنے والا خود کو کبھی عالِم نہیں سمجھتا بلکہ طالبِ علم سمجھتا ہے ۔

اس طرح اُسکی رُوح کبھی عِلم سے سیراب نہیں ہُوتی۔اور جام تُو وہیں بھرے جاتے ہیں جہاں تشنگی کا اظہار ہُو۔عاجزی کا انداز ہُو۔ نِگاہ ہی خَم نہ ہُو بلکہ گردن بھی جذبہ ءِ اطاعت کے بُوجھ سے جُھکی جاتی ہُو۔ اور جبتک یہ کمالات مخلوق میں پیدا نہ ہُوں تو سمجھ لو۔ کہ اندھیرے پال کر کوئی روشنی نہیں پھیلا سکتا۔ اور پہلے سے بھرے جام میں اگر کوئی ڈالنا بھی چاہے تو جام چھلک جاتا ہے۔ جسطرح شیطان کے ساتھ معاملہ ہُوا کہ ۔ رَب کے عطا کئے ہُوئے عِلم کو اپنی میراث اور اپنا ذاتی کمال سمجھ بیٹھا اور اپنے اعمال و اَصنام کو جِسمِ آدم سے بِہتر اور اپنے مِحدود عِلم کو کُل سمجھتے ہُوتے حُکم خُداوندی اور اطاعت کو نہ سمجھ پایا۔ اور پھر خودی کے نشے سے ایسا سرشار ہُوا کہ اپنا وجود اُسے ،، سب سے بِہتر،، نظر آنے لگا۔ یہانتک کہ اُسکے جہل نے اُسے
بارگاہَ خُداوندی میں مردود قرار دِلوایا۔

اِس لئے میرے بچّے علم کی تشنگی کو اپنے سینے میں مزید فِزوں کرو۔ اور دانائی اور حِکمت کے موتیوں سے اپنی جھولی بھرلو۔ اور اگر پھر بھی تُم اُسے نا سمجھا پاؤ تو اُسے رضائے رَب سمجھ کر جُدا ہُوجانا کہ ہمارا کام صرف سمجھانا ہے دِلوں میں تاثیر پیدا کرنا اُسی کا خاصہ ہے جِس نے تمام عالم بنائے اور سجائے ہیں۔ مگر میری اتنی بات ضرور یاد رکھنا کہ اُسکی واپسی کیلئے کوئی ایک دروازہ ضرور کُھلا چھوڑ دینا۔ تاکہ اگر وہ کبھی نادِم ہُوکر لُوٹنا چاہے تُو واپس آجائے۔ کیونکہ واپسی کا راستہ تُو خُدا بھی کِسی پر بند نہیں کرتا۔ تُو ہم غُلاموں کو یہ کہاں زیب دیتا ہے کہ تمام راستے اور تمام دروازے، کھڑکیاں ہمیشہ کیلئے بند کرلیں۔ چُونکہ وہ ابھی نہیں جانتا کہ وہ کِس کیساتھ لڑنے جارہا ہے اسلئے وہ بے خبر ہے اِس لڑائی کے انجام سے جِسکی ابتداء وہ کرنے جارہا ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ اگر چلا بھی گیا تُو ایک دِن ہار کر واپس لوٹ آئے گا۔

حَسّان صاحب نے بات ختم کرنے کے بعد گھڑی پر نِگاہ جمائی تو وال کلاک میں رات کے ساڑھے گیارہ بجنے کو تھے پروفیسر صاحب نے اِسکے بعد دُعا کیلئے ہاتھ اُٹھاتے ہُوئے فرقان کو گھرجانے کا عِندیہ دے دِیا۔

دُعا سے فارغ ہُوکر فرقان نے حَسّان صاحب کے ہاتھوں کو بُوسہ دیتے ہُوئے اجازت طلب کی اور پھر اپنی گاڑی میں سوار ہُوکر گھر کی جانب چل دِیا گھر کے گیٹ پر پُہنچ کر فرقان نے جونہی کار کا ہارن بجایا۔ چند ہی لمحوں میں چُوکیدار نے مین گیٹ کھول دِیا۔ مگر جیسے ہی فرقان کار پُورچ میں دَاخِل ہُوا تُو اُسے نعمان کی کار پہلے سے وہاں کھڑی نظر آئی۔

فرقان جونہی کار سے نِکلا تُو چُوکیدار نے اُسے اطلاع دِی کہ نُعمان صاحب پِچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے ڈرائنگ رُوم میں بڑی بے چینی سے اُسکا انتظار کر رہے اور کافی مرتبہ آپکو کال بھی مِلا چُکے ہیں مگر آپکا فون تب سے بند مِل رہا ہے۔ تب فرقان کو یاد آیا کہ اُس نے نماز کے بعد سے اپنا موبائیل فُون ابھی تک آن نہیں کیا ہے۔

وہ ڈرائینگ رُوم کی جانب بڑھتے ہُوئے یہی سُوچ رہا تھا ۔ اللہ خیر کرے۔ کہیں وہ بالکل ہی تمام ناطے تُو ختم کرنے نہیں چلا آیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(جاری ہے)

Sunday, 24 May 2015

عامل کامل ابو شامل (عامل در عامل) قسط 34



گُذشتہ سے پیوستہ۔

ایک دِن دلشاد کی نگرانی کرتے ہُوئے مجھے یہ بات معلوم ہُوئی۔کہ،، موصوف ویک اینڈ منانے کیلئے  اپنے  ایک جگری دوست کو مانسہرہ سے لیکر وادی کاغان  میں گُزارنے کا اِرادہ رکھتے ہیں۔ یہ سفر دلشاد سے ذیادہ میرے لئے اہمیت کا باعث تھا۔۔۔ اُور اِس سفر میں سب سے بڑی بات یہ تھی۔کہ،،  سفر کے دوران دلشاد نے اکثر  سفرپہاڑوں پر بنی تنگ گُزرگاہوں پر کرنا تھا۔جہاں لینڈ سلائیڈنگ معمول کی بات تھی۔ اُور اکثر گاڑیاں دریائے کُنہار کے عشق میں ڈوب جایا کرتی تھیں۔پھر وُہ وقت بھی  جلد آگیا،، جب دلشاد خُوب تیار ہُوکر عازم سفر ہُوا۔۔۔ میرا ارادہ تھا کہ وادی کاغان کو ہی ہمیشہ کیلئے دلشاد کا دائمی ٹھکانہ بنادوں۔ لیکن مانسہرہ آنے سے قبل ہی دلشاد نے جونہی فرح کے نمبر کی پیڈ پر پنچ کرنے شروع کئے ۔تو میرا دماغ اُلٹ گیا۔ اُور ساتھ ہی دلشاد کی گاڑی بھی سینکڑوں فٹ گہری کھائی کی نذر ہُوگئی۔ میں نے جب نیچے جا کر دیکھا تو وُہ  باقی ماندہ گاڑی میں خُون میں لت پت زندگی کی آخری سانسیں گِن رہا تھا۔ میرے جگر سے اُور میری زندگی سے کانٹا نکل رَہا تھا۔ اُور میں خُوشی سے یاھو ،،کا نعرہ بُلند کررہا تھا۔ وادیوں میں میرے نعرے کی گُونج سے ایکو پیدا ہُورہا تھا۔ جیسے تمام وادی بھی میرے ساتھ جشن مناتے ہُوئے یا ھو، یاھو ۔۔۔۔کے نعرے بُلند کررہی ہُو۔

اب مزید پڑھ لیجئے۔

مجھ میں اتنی اِخلاقی ہمت نہیں تھی۔کہ،، میں اپنی محبوبہ کو اُس رقیب دلشاد کیلئے رُوتا تڑپتا دیکھ سکوں۔ اسلئے میں نے  دلشاد کو ٹھکانے لگانے کے بعد بہتر یہی سمجھا۔کہ،، کیوں نہ کچھ دن دِل پر پتھر رکھ کر یہاں سے دُور چلا جاوٗں۔ اُور یہ وقت اپنی والدہ کیساتھ گُزاروں!!! میں تقریباً پندرہ دِن بعد اِس اُمید کیساتھ واپس لُوٹا تھا۔کہ،،  دلشاد کا غم کافی حد تک فرح کے دِل سے رفو ہُوچُکا ہُوگا۔ اُور اب مجھے فرح کو اپنے قریب لانے میں ذیادہ دُشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔۔۔۔ لیکن جب میں سیالکوٹ پُہنچا تو مجھے یہ رُوح فرسا خبر سُننے کیلئے مِلی۔کہ،، دلشاد نہایت ڈھیٹ  قسم کا انسان واقع ہُوا تھا۔ وُہ اُس حادثے سے نہ صرف جانبر ہُوچُکا تھا بلکہ  اُسے علاج کیلئے کراچی لیجایا گیا ہے۔ جہاں وُہ بُہت تیزی سے رُو بہ صحت بھی تھا۔۔۔۔ جب مجھے معلوم ہُوا کہ،،  کراچی میں دلشاد کی ٹوٹی ہُوئی ہڈیوں کو ڈاکٹر محمدعلی شاہ جوڑنے میں کامیاب ہُوچکے ہیں۔ تو اُسی وقت میرے دِل میں یہ تدبیر آئی۔کہ،، اِس مرتبہ میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا۔ ۔۔۔ یہی سُوچ کر جب میں کراچی  ہاسپٹل میں داخل ہُونے لگا۔ تبھی   میاں صاحب نے میرا راستہ رُوک کر مجھے خبردار کرتے ہُوئے کہا۔کہ،،  اگرمیں سلامت رہنا چاہتا ہُوں۔ تو اپنے ارادے سے باز آجاوٗںُ ۔قُدرت کے کاموں میں مداخلت نہ کروں اُور واپس لُوٹ جاوٗں۔ وگرنہ ہمیشہ کیلئے قید کرلیا جاوٗں گا۔ ۔۔ ۔۔ یہ میاں صاحب کون تھے۔اُور کیا تُم اُنہیں پہلے سے جانتے تھے؟؟؟ کامل علی، میاں صاحب کا نام سُن کر چُونک اُٹھا۔ اُس نے بےصبری سے دریافت کیا۔


مجھے معلوم تھا۔ تُم میاں صاحب کا تذکرہ سُن کر رہ نہیں پاوٗ گے۔ ابو شامل نے مسکراتے ہُوئے اپنی گفتگو جاری رکھی۔ ہاں میں اُنہی میاں صاحب کا تذکرہ کررہا ہُوں۔ جو عبدالرشید عرف شیدے کے پیر صاحب ہیں ۔ اُور فی زمانہ مُقام غوثیت پر فائز ہیں۔اُورمجھے یہ بھی معلوم ہے تم میاں صاحب کے پاس پہلی مرتبہ  ایک سرد رات میں گئے تھے اجازت  طلب کرنے کسی موکل کو قابو کرنے کیلئے!!! میاں صاحب کے ہماری قوم اُور میرے گھرانے پر بے شُمار احسانات ہیں۔ ہمارے خاندان  کے اکثر جنات نے قران مجید کی تعلیم اِنہی کے مدرسے سے حاصل کی ہے۔ اُور مسلمان جنات جوق در جوق اُنکے واعظ میں نہایت اہتمام سے شامل ہُوتے ہیں۔۔۔ اسلئے میری ہی   کیا مجال  ،،کسی بھی گروہِ  جِنات میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ کہ،، وُہ میاں صاحب  کی  روحانی قُوت کا سامنا کرسکیں۔۔۔۔ اِس لئے میں بھی  اُس دن بااَدب طریقے سے واپس لُوٹ گیا۔۔۔۔ ویسے بھی مجھے اتنا تو یقین تھا۔کہ،، سینکڑوں فٹ کی بلندی سے گرنے کے بعد ڈاکٹر دلشاد اب عام لُوگوں کی طرح صحتمند زندگی نہیں گُزار پائے گا۔ اُور دُنیا کے کوئی بھی والدین اپنی ہونہار  صحت مند بچی کو ایک معذور کے حوالے نہیں کریں گے۔۔۔۔۔ لیکن میرے تمام خیالات  صرف مفروضے ہی ثابت ہُوئے۔ ڈاکٹر دلشاد ۲ ماہ بعد واپس سیالکوٹ لُوٹ آیا۔ اگر چہ اُسکی چال میں نقص پیدا ہُوچُکا تھا۔ اُور جسم بھی کافی لاغر ہُوچکا تھا۔۔ لیکن آج بھی فرح اُسی کیساتھ زندگی گُزارنے پر بضدتھی۔

مجھے ایک بات اچھی طرح سمجھ آچکی تھی۔کہ،، دلشاد  کو میں کسی بھی طرح سے فرح کے دِل و دماغ سے محو نہیں کرپاوٗں گا۔ اُور یہ بات میرے لئے  بُہت ذیادہ اذیت کا باعث تھی۔ مجھے زندگی میں آج تک کوئی ہرا نہیں پایا تھا۔ لیکن فرح کی دلشاد کیلئے جو چاہت تھی۔ یہ مجھے دھیرے دھیرے ناسور کی طرح اندر ہی اندر چاٹ رہی تھی۔ پھر مجھے ایک عجیب تدبیر سُوجھی۔ کہ،، کیوں نہ فرح کے حُسن کو عارضی طور پر اتنا گہنا دیا جائے۔ کہ ،، اگرچہ فرح کے والدین نے خُواہ اپنی بیٹی کی  ضد کی خاطر دلشاد کی معذوری قبول کرلی تھی۔ لیکن جب فرح کا حُسن ماند پڑنے لگے گا۔ اُور وُہ ناقابل علاج مریضہ دکھائی دینے لگے گی۔ تو یقیناً دِلشاد کی والدہ سوچنے پر  مجبور ہُوجائے گی۔ کہ،، اِس رشتہ کو باقی بھی رکھا جائے یا کہ ،، ختم کردیا جائے۔۔۔ میں فرح کو ایذا دینے کے متعلق سُوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ لیکن میری محبت نے مجھے اُس وقت خُود غرض بناڈالا تھا۔۔۔

میں فرح کیلئے کچھ بھی کرنے کیلئے تیار تھا۔ چاہے اُسکے لئے مجھے کوئی بھی قدم اُٹھانا پڑے۔ پھر میں کونسا ہمیشہ کیلئے فرح کو بدصورت بنانے جارہا تھا۔ بس چند ماہ کی بات تھی۔ یہ رشتہ ختم ہُوجاتا۔ تو مجھے معلوم تھا۔کہ حکیم بطلیموس میری فرح کو واپس پہلے سے بھی ذیادہ حسین و جمیل بنانے کا گُر جانتے تھے۔ اِس لئے میں نےبُہت آہستگی سے فرح کے کھانے پینے میں ایک ایسی بُوٹی کا سفوف مِلانا شروع کردیا۔ جسکا استعمال  میں نے ایک جوگی کو اپنے جسم  کو فربہی سے بچانے کیلئے کرتے دیکھا تھا ۔۔۔  اِس سفوف کے استعمال کی وجہ سے کھانا مکمل طور پر ہضم نہیں ہُوپاتا۔ اُور جسم کا پانی سُوکھنے لگتا ہے۔  چند دِن کے بعد ہی فرح کے جسم پر اِس سفوف کا اثر ظاہر ہُونے لگا۔۔۔۔کبھی اُلٹی اُور کبھی دست کی ذیادتی نے  فرح کے جسم کو گھلانا شروع کردیا۔ فرح کیلئے والدین فرح کی گرتی صحت کے سبب شہر بھر کے قابل ڈاکٹروں سے رجوع کرنے لگے۔۔۔لیکن تمام رپورٹس دیکھنے کے بعد ہر ایک ڈاکٹر یہی کہہ رہا تھا۔ کہ،، جسم میں تمام اعضا کی کارکردگی  پرفیکیٹ ہے۔ کوئی جسمانی مرض  بھی سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔ یا شائد  کوئی ایسا وائرس  فرح کے جسم میں جگہہ بناچُکاہے ۔ جسے ابھی تک پہچانا نہیں گیا۔۔۔

جب تمام میڈیکل رپورٹس سے  بھی بیماری کی تشخیص ممکن نہ ہُوسکی۔ تو عزیز رشتہ داروں  کو حسب سابق یہ  تمام معاملہ سفلی ،، جادو کا شاخسانہ دکھائی دینے لگا۔۔۔ فرح کی والدہ بھی  اِس رائے سے متفق تھیں۔ لہذا شام کو  فرح کے والدعلاقے کی مسجد کے قاری صاحب کو پکڑ لائے۔ اِن کے متعلق علاقے میں مشہور تھا۔کہ،، جنات اِنکا نام سُن کر تھرتھرانے لگتے ہیں۔ اُور جادو کی کاٹ کے تو وُہ ایسے ماہر ہیں ۔کہ،، جادو کرنے والوں پر جادو  اسطرح پلٹاتے ہیں۔کہ،، وُہ آئندہ جادو کرنے کے قابل ہی نہیں رہتا۔۔۔ جب قاری صاحب کمرے میں داخل ہُوئے تو اپنی طوطے جیسی ناک کمرے میں یُوں  بُلند کرنے لگے۔ جیسے جادو ، یا جنات کی بُو کا سراغ لگارہے ہُوں۔۔۔۔ سچی بات یہ ہے کہ جب میں نے کسی عامل کی آمد کا تذکرہ سُنا تھا۔ تو کچھ نہ کچھ تشویش  بہرحال مجھے بھی لاحق ہُوئی تھی۔۔۔۔ لیکن جونہی میں نے قاری عبدالمنان کو دیکھا تو میری ہنسی نکل گئی۔۔۔ وُہ ایک بے پیرا عامل تھا۔ جو سرے سے تکوینی معملات سے بے خبر تھا۔ اُور اپنی ذات  کی خُودی میں ایسا گُم تھا۔ کہ،، عملیات کی دنیا میں آنے سے قبل یہ جان ہی نہیں پایا کہ،، عملیات میں تاثیر اُنکے ہوتی ہے۔ جن پر کسی کامل اللہ والے کی نظر ہُو۔ وگرنہ ساری ریاضت لپیٹ کر بلعم بن باعورا کی طرح مُنہ پر مار دی جاتی ہے۔  قاری عبدالمنان  کو دیکھ کر میرے اندر کا شرارتی بچہ انگڑائی لیکر جاگ رہا تھا۔ میری حالت بھی بالکل اُس بچے کی مانند تھی۔۔۔۔ جوکسی دوسرے بچے  کے کھلونے کو دیکھ کر مسلنے اُور توڑنے کے پلان بنانے لگتا ہے۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

جال ۔ در۔ جال قسط 2



جال ۔ در۔ جال قسط 2


گُذشتہ سے پیوستہ

نعمان کی زندگی میں اُسکے خوابوں کی بڑی اہمیت تھی لیکن وہ اُن خوابوں کے لئے اپنے جگری یار کو قربان نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن آج کرامت صاحب کی گُفتگو نے بیشُمار اندیشے اور خُوف کے بادل نعمان کے سر پر ایستادہ کردئیے تھے۔ وہ جتنا اِن خیالات سے اپنی سوچ کو باز رکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ اُسی قدر زیادہ خیالات کے ناگ اُسکے دِماغ پر اپنے مہیب پھَنّوں سے حملہ کر رہے تھے۔چند جُملے بار بار نعمان کے دِماغ میں گُونج رَہے تھے ۔۔ کیا فرقان کبھی میرا ساتھ چھوڑ سکتا ہے۔۔۔؟کیا میں فرقان کو اپنے خُوابوں کی بھینٹ چڑھا سکتا ہُوں۔۔۔؟ کیا ہماری دوستی کِسی نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔۔۔؟ اور ایسے ہی بیشُمار سوالات نعمان کی سُوچوں کو منتشر کررہے تھے۔ نعمان کو ایسا محسوس ہُورَہا تھا جیسے یہ سوالات اُسکی دماغی شریانوں کو پھاڑ ڈالیں گے۔ پھر کُچھ سُوچ کر نعمان نے فُون کا رِیسیور اُٹھایا اور فرقان کے نمبر پنچ کرنے لگا۔ دوسری جانب سے فرقان نے جونہی السلامُ علیکم کہا۔ نعمان نے فرقان سے جلد فیکٹری میں آجانے کی استدعا کرتے ہُوئے فون کا ریسیور پٹختے ہُوئے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔

اب مزید پڑھیئے۔

نعمان کو اِنتظار کرتے ہُوئے تقریباً ۴۰ منٹ ہُوچُکے تھے۔ وہ بڑی بیقراری سے فرقان کی آمد کا منتظر تھا۔ اُسنے اِن چالیس مِنٹوں میں بیسیُوں مرتبہ وال کلاک کی جانب نِگاہ اُٹھا کر دیکھا تھا۔ اور اب تُونعمان میں مزید انتظار کی تاب بھی نہ رہی تھی۔ وہ سُوچنے لگا ۔۔۔ کیا یہ وہی فُرقان ہے جو میری ایک کال پر دوسرے شہر سے بھی اِہم سے اِہم کام چھوڑ چھاڑ کر بھاگتا چَلا آتا تھا۔ مگر اب کتنا بدل گیا ہے میرا فُرقان۔ کہ شہر میں ہُونے کے باوجود بھی اِتنا دُور ہے۔ جیسے راستہ میں دریا یا پہاڑ حائل ہُوگئے ہُوں۔ کہاں تُو سارا دِن ساتھ گُزارنے کے باوجود بھی گُھر پُہنچتے ہی کال کیا کرتا کہ اب کیا پروگرام ہے۔ اور کہاں ساتھ چلنا ہے۔ اور کہاں یہ حالِ تغافُل جیسے میری کوئی اہمیت ہی نہ ہُو اُسکی زندگی میں۔

نعمان جُوں جُوں ماضی و حال کو میزان کے پلڑوں میں تُولتا چلا جارھَا تھا ۔ اُسے کرامت صاحب کے الفاظ کِسی ہتھوڑے کی مانند اپنے سر پر برستے مِحسوس ہُو رہے تھے۔ حالانکہ سِٹنگ رُوم میں دُو عدد اِسپلٹ ائر کنڈیشنر کمرے کو 18 سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر رکھے ہُوئے تھے۔ لیکن نُعمان کی پیشانی پر ننھے ننھے پسینے کے قطرے چمکنے لگے تھے۔ شائد نعمان کے دِماغ کا ٹمپریچر کمرے کے درجہ حرارت سے کئی گُنَّا بڑھ چُکا تھا۔

نُعمان نے اپنی پیشانی پر آئے پسینے کے قطروں کو ٹِشو پیپر سے صاف کرتے ہُوئے فرقان کو دُوبارہ کال مِلانے کیلئے ٹیلیفون کا ریسیور اُٹھایا ہی تھا کہ اُس کہ کانوں میں فُرقان کی گاڑی کے ہارن کی آواز سُنائی دِی۔ نعمان نے سِٹنگ رُوم کی جہازی سائز وِنڈو سے باہر دِیکھا۔ تو اُسے فرقان کی کار کی جھلک دِکھائی دِی۔ نعمان کو فرقان کی آمد سے کُچھ اِطمینان حاصل ہُوا۔ نُعمان نے رِیسیور واپس رکھتے ہُوئے صوفہ کی پُشت سے اپنی کَمر لگالی۔

فُرقان السلامُ علیکم کہتا ہُوا دَروازے سے داخِل ہُوا ۔ نعمان نے جواب دیتے ہُوئے فرقان کے سراپا پر نِگاہ دُوڑائی تُو فُرقان کی ظاہری حالت دیکھ کر چُونک اُٹھا۔ ابھی چار دِن پہلے جب فرقان سے مُلاقات ہُوئی تھی تب سِوائے کُچھ خیالات کی تبدیلی کے کوئی واضح فرق نہیں تھا۔ لیکن آج فرقان نے ٹُو۔ پیس کیساتھ سر پر ایک سادہ سی ٹوپی بھی رکھی ہُوئی تھی جسکی وجہ سے اُسکے بالوں کا خُوبصورت اِسٹائل ٹوپی میں چُھپ کر رِہ گیا تھا۔ حالانکہ یہ وہی فرقان تھا جِسے اپنے بالوں کی اتنی پرواہ تھی کہ وہ کبھی لوکل برانڈ کا شیمپو بھی استعمال نہیں کیاکرتا تھا۔ کہ مُبادا کہیں بَالوں کی خُوبصورتی مانند نہ پڑجائے۔ سَر پہ ٹوپی کیساتھ فرقان کے چہرے پر تین ، چار دِن کی بڑھی ہُوئی شِیو بھی نعمان کو بُہت عجیب سی محسوس ہورہی تھی۔

نُعمان نے کھڑے ہُوکر فرقان سے نہ صرف مصافحہ کیا بلکہ مُعانقہ کرتے ہُوئے کہا۔ یار فرقان میں تُو سُوچ رَھا تھا کہ جب تُو آئے گا ۔تب میں تُجھے اپنی پریشانی اور اپنا حَالِ دِل سُناؤں گا۔ لیکن یار تُجھے دیکھ کر تُو لگتا ہے کہ تُو شائد مجھ سے بھی زیادہ ڈسٹرب ہے! یہ کہتے ہُوئے نعمان نے فُرقان کو اپنے ساتھ ڈبل صوفے پر بِٹھالیا۔ 

نہیں یار الحَمدُ للہ میں بالکل ٹھیک ہُوں۔ مجھے اب نہ کوئی اُلجھن ہے اور نہ ہی کوئی ذِہنی و جِسمانی پریشانی ہے۔ بلکہ میں تُو آجکل خُود کو بُہت ہلکا اور فریش محسوس کررہا ہُوں۔ البتہ تُم سُناؤ ۔ تُمہارے دِل کو کیا رُوگ لگ گیا ہے۔۔۔؟ فُون پر بھی تُمہاری آواز سے یہی مِحسوس ہُورھا تھا۔ جیسے تُم کِسی ذہنی خلقشار میں مُبتلا ہُو۔۔۔! ویسے یار مُجھے مُعاف کردینا مجھے آنے میں کُچھ تاخیر ہُوگئی۔ دراصل پروفیسر اَبُّو العمران حسان صاحب کا لیکچر اِتنا مسحور کُن اور پُر مغز تھا کہ میں باوجود کوشش کے بھی محفل سے نہیں اُٹھ پارہا تھا۔ بس جیسے ہی حسّان صاحب کا لیکچر ختم ہُوا میں فُوراً تیری جانب دوڑا چلا آیا۔ فُرقان نے مُعذرت کیساتھ ساتھ نعمان کو تاخیر کی وجوھات بتاتے ہُوئے اُسکی خیریت دریافت کی۔

یار فرقان میں اپنی پریشانی تُو تُمہیں بتا ہی دونگا، مگر میرے یار یہ تُم نے اپنا حُلیہ کیا بنا رکھا ہے۔۔۔؟ اور یہ تُم کِن چکروں میں پڑ گئے ہُو۔۔۔؟

میرے دوست یہ جوانی پلٹ کر واپس نہیں آئے گی۔ کیوں چار دِن کی زِندگی کو اِیسے مولوی ٹائپ لوگوں کے چکر میں ضائع کرنے پر تُلے ہُو۔۔؟ اگر ابھی زندگی کو انجوائے نہ کیا ۔ تُو کیا بُڑھاپے میں اِنجوائے کرو گے ۔۔۔؟ جب نہ قدم تُمہار اساتھ دیں گے ۔اور نہ ہی سانس قابو میں رہے گی۔ نعمان نے فرقان کی حالت کی طرف اِشارہ کرتے ہُوئے مُحبت سے سمجھایا۔

نعمان میرے بھائی میں بھی اپنے حُلیہ، جوانی، ڈھلتی عمر، اور بڑھاپے کو لیکر ہی متفکر ہُوں۔ لیکن بس تُمہارے اور میرے سُوچنے کا انداز جُدا ہُوگیاہے۔

میں ابھی شائد اپنے احساسات کو الفاظ کے سانچے میں ٹھیک طرح سے نہ ڈھال سَکوں ۔اور ہُوسکتا ہے کہ اپنی کم مایئگی کے اِحساس کی وجہ سے تُمہیں مطمئین بھی نہ کرپاؤں ۔اسلئے میرے خیال میں ہمیں اِس بِحث میں پڑنے کے بجائے وہ بات کرلینی چاہیئے جسکی خاطر تُم نے مجھے بُلایا ہے۔ میں تجھے بھی حَسّان صاحب سے ایک بار ضرور مِلانا چاہُوں گا۔ اور مجھے یقین ہے کہ تُم پہلی ہی مُلاقات میں اپنے تمام سوالوں کا اطمینان بخش جواب پاکر میری ہی طرح سُوچنے لگو گے۔ فُرقان کی اِس خُواہش کا نعمان نے تڑخ کا جواب دیتے ہُوئے کہا۔ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے ایسے پیٹ کے پُجاریُوں سے زندگی کا فلسفہ سمجھنے کی۔ جُو چندے کے نام پر ساری زِندگی اپنی تجوریوں کا وزن بڑھانے میں لگے رِہتے ہیں۔ اور میرا یہ وعدہ ہے تُجھ سے۔۔۔۔۔۔ کہ میں ایک دِن تجھے بھی اُس پروفیسر کے جھانسے سے ضرور نِکال لاؤں گا۔

پُروفیسر حَسّان صاحب کی شان میں ایسے نازیبا الفاظ سُن کر ایک لمحے کیلئے فُرقان کے گندمی چہرے کا رنگ سُرخ ہُوگیا۔ فرقان کا جی چاہا کہ وہ اِس گُستاخی کا بھرپور جواب نعمان کو دے یا فوراً احتجاجاً اپنی نِشست سے اُٹھ جائے۔ لیکن اُسے فوراً حسّان صاحب کا جمُلہ یاد آگیا جُو اُنہوں نے آج ہی بُہت زُور دیکر سامعین کوسمجھایا تھا۔ کہ انسان کا اصل اِمتحان حالت غُصہ میں ہُوتا ہے۔ اگر اِنسان بھڑک جائے تو شیطٰان غالب رہتا ہے اور یُوں بندہ ہَار جاتا ہے۔ لیکن اگر انسان اُس وقت حِلم و بردباری کا مظاہرہ کرے۔دلیل و حِکمت کا ساتھ نہ چُھوڑے۔ تب انسان غالب اور شیطان مغلوب ہُوجاتا ہے اب یہ بندے پر منحصر ہیکہ چاہے تو شیطان کو غالب کرے چاہے تُو خُود غالب رِہ کر اُس لعین کو مغلوب کردے۔

فُرقان نے بَمشکل اپنے جذبات پر قابو پاتے ہُوئے ایک مرتبہ پھر نعمان سے مُخاطب ہُوتے ہُوئے دھیمے لہجے میں کہا،، میرے خیال میں ہمیں اصل موضوع کی طرف لُوٹ آنا چاہیے،، ایسا نہ ہُوکہ نماز کا وقت ہُوجائے اور ہماری مُلاقات کا مقصد ہی فُوت ہوجائے۔ اور جہاں تک رہا ہماری لائف اِسٹائل کے انداز کی بات کا تعلق ۔ تو میرے خیال میں ہمیں اِسمیں ایک دوسرے پر جبر نہیں کرنا چاہیئے۔ ہاں کبھی وقت مِلا تو میں ضرور اس موضوع پر تُم سے تفصیلی گُفتگو کروں گا۔ کیونکہ میں سمجھتا ہُوں کہ ایک دوسرے کا نظریہ جاننے سے عِلم میں اضافہ ہُوتا ہے۔ فرقان نے گُفتگو کا موضوع بدلنے کی ایک آخری کوشش کرتے ہُوئے سپاٹ لہجے میں کہا۔

نعمان نے بھی فرقان کے لہجے کے کرب کو مِحسوس کرتے ہُوئے موضوع بدلنے میں ہی عافیت جانی ۔ اِس لئے نعمان نے اَصل موضوع کی جانب آتے ہُوئے۔ اُٹھ کر دیوار پر نصب کیبنٹ کا لاک کھول کر ایک فائل نِکالی اورمسکراتے ہُوئے فُرقان کی جانب بڑھادی۔

یہ کیا ہے۔۔۔؟ فرقان نے فائل ہاتھ میں لیتے ہُوئے نعمان سے کہا۔

یہ اُسی پیپر مِل کی فائل ہے جسکا تذکرہ میں نے تُم سے تُمہارے گھر پر کیا تھا۔ نعمان نے بدستور مُسکراتے ہُوئے اُسے یاد دِہانی کرائی۔

لیکن تُم نے خُود ہی تُو بتایا تھا کہ اس پروجیکٹ کیلئے ہمارے اکاؤنٹ میں خاطر خُواہ رقم موجود نہیں ہے۔ پھر یہ فائل دِکھانے کا مطلب۔ فُرقان نے استفہامیہ انداز میں نعمان کو دیکھا۔

لیکن میں نے تُم سے کہا تھا نا ! کہ ہمیں اِس پروجیکٹ کے لئے قرض مِل رہا ہے۔ اور یار تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ یہ صرف میرا ہی نہیں بلکہ ہمارا مشترکہ خواب ہے۔ اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم اِس خُواب کو حقیت کے رُوپ میں اپنے سامنے دِیکھیں۔ زمیں کا کوئی پرابلم ہی نہیں فیکٹری کیساتھ اضافی چھ ایکڑ زمین ہمارے پاس موجود ہے ہم اِس تمام زمیں کو فیکٹری میں شامل کرلیں تو ۔ ون یُونٹ میں دو پروجیکٹ کی دیکھ بھال بھی نہایت آسانی سے ہُو جائیگی اور اضافی بجلی بھی ہم آسانی سے اِس پروجیکٹ میں استعمال کرسکیں گے۔ کُچھ تعمیرات ہم اپنی رقم سے کرلیں گے باقی تعمیراتی کام اور مشینری کیلئے رقم بنک سے مِل جائے گی۔ جبکہ خام مال ہمیں بازار سے کریڈٹ پر مِل ہی جائے گا۔جس سے ہمارا مُنافع سہ گُنا ہوجائے گا۔ پھر تُم دیکھنا ہم کتنی جلد اِس شہر کے سب سے بڑے رئیس کہلائیں گے۔ نعمان نے تفصیل سے پروجیکٹ کے متعلق فرقان کوجُوشیلے لہجے میں بتاتے ہوئے کہا۔

لیکن نعمان تُم مجھے یہ تمام باتیں دوبارہ کیوں بتارہے ہُو۔۔۔؟ جبکہ ہم چار دِن قبل بھی اِس موضوع پر بات کرچُکے ہیں اور تُمہیں میرا جواب بھی معلوم ہے کہ میں بنک سے رقم اُدھار لینے کے قطعی حق میں نہیں ہُوں البتہ میں اب بھی اپنی بات پر قائم ہُوں کہ اگر کوئی انویسٹر مِل جاتا ہے تُو تُم بِلا شُبّہ اُسے بھی اپنی پارٹنر شِپ میں شامِل کرسکتے ہُو۔ مجھے بالکل اعتراض نہیں ہُوگا۔ فرقان نے اپنا جواب سُناتے ہُوئے کہا۔

یار تُمہاری عقل کیا گھاس چَرنے گئی ہے۔۔۔؟ البتہ تو کوئی بھی انویسٹر اتنی بڑی رقم ایک نئی فیکٹری میں لگائے گا ہی نہیں ۔اور اگر فرض کرلیں کوئی ایسا اِنویسٹر مِل بھی جاتا ہے تُو وہ کم از کم پچاس ساٹھ پرسنٹ منافع سے کم میں راضی نہیں ہُوگا۔ پھر ہم کیوں بیس یا پچیس پرسنٹ منافع کیلئے اِتنا جھمیلہ پالیں جب بنک خُود ہمیں تمام مطلوبہ رقم دینے کو تیار ہے۔ اور میرے خیال میں بنک کا انٹریسٹ زیادہ سے زیادہ مُنافع کا دس سے پندرہ پرسنٹ ہُوگا۔ نعمان نے غُصیلے لہجے میں جھنجلاتے ہوئے فرقان کو تُرکی بہ تُرکی جواب دِیا۔

پھر تُم اُس وقت کا انتظار کیوں نہیں کرتے جب تک کہ مطلوبہ رقم مُنافع کے ذریعہ سے ہماری دسترس میں نہیں آجاتی۔ فُرقان کے لہجے میں بھی نہ چاہتے ہُوئے تلخی کی کڑواہٹ دَر آئی تھی۔

اِسکا مطلب ہے واقعی ہمارے راستے جُدا ہُونے کا وقت بُہت نزدیک ہے۔ نجانے کسطرح یہ جُملہ نعمان کی زُبان سے بے اِختیار پِھسل گیا۔ نعمان خُود بھی اپنے اِس جُملہ پر حیران تھا۔ لیکن اب دِیر ہُوچُکی تھی تِیر کَمان سے نِکل چُکا تھا ۔ اور نشانہ بھی قائم کرچُکا تھا ۔ لیکن یہ نِشانہ نعمان کے نا چاہتے ہُوئے بھی فرقان کا سینہ ہی تھا۔

(جاری ہے)

Saturday, 23 May 2015

جَال ۔ دَر ۔ جَال قسط ۱



جَال ۔ دَر ۔ جَال


ارے آئیے کرامت صاحب میں تُو کب سے آپکی راہ دیکھ رَہا تھا ۔ وہ کیا خُوبصورت شعر ہے جو عموماً ایسے موقعوں پر پڑھا جاتا ہے ۔۔؟ ہاں یاد آیا۔
وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے ۔۔۔! ! نعمان علی خان نے صوفے سے اُٹھ کر کرامت صاحب سے بغلگیر ہُوتے ہوئے شعر پڑھا۔

کیوں شرمندہ کرتے ہیں نعمان صاحب میں تُو خود آپکی فون کالز کا منتظر تھا اور دیکھئے جونہی آپ کا بُلاوا مِلا ۔بندہ خُود حاضر ہوگیا کہیئے کیا فرقان صاحب نے منظوری دے دی ۔ آپکے نئے پرپوزل کی۔۔ ؟ کرامت صاحب نے سِٹنگ رُوم میں رکھے ایک خُوبصورت صوفے پر بیٹھتے ہی بڑے اشتیاق سے نعمان صاحب کی جانب دیکھتے ہُوئے اِستفسار کیا ۔

منظوری تُو نہیں دِی لیکن میں بھی ہاں کرائے بغیر ماننے والوں میں سے نہیں ہُوں ۔آج نہیں تو کل فرقان بھائی کو منظوری دینی ہی پڑے گی۔ اور ویسے بھی فیکٹری چلانے کی تمام تر ذُمہ داری میری ہی تُو ہے۔ فرقان پہلے کونسا فیکٹری چلانے میں میری مُعاونت کرتا تھا جُو اب فیکٹری کے معاملات میں مُداخلت کرے گا۔ بس وہ تُو مجھ سے غلطی ہُوگئی جو انجانے میں اُس سے اِس پرپوزل کے بارے میں اُسکی رائے معلوم کربیٹھا۔ اگر مُجھے ذرا بھی بھنک مِل جاتی کہ فرقان آجکل مُولویوں میں اُٹھنے بیٹھنے لگا ہے تُو میں اُس سے اِس نئےپرپوزل کا تذکرہ ہی نہیں کرتا ۔ نعمان صاحب نے تفصیل سے کرامت صاحب کو تفصِیلات بتاتے ہُوئے کہا۔

لیکن اُن کی رضامندی تُو چاہیئے ہی ہُوگی نا ۔ بھئی آخر وہ بھی تُو پچاس پرسنٹ کے حِصےدار ہیں آپکی فیکٹری میں ۔اور بنک ڈاکومینٹس پر اُنکے سگنیچر بھی درکار ہُونگے اور بھی کافی مسائل درپیش ہُونگے۔ بنک لُون کی منظوری سے قبل۔ لیکن اُنہیں اعتراض کیا ہے بنک لُون لینےپر ۔ آخر مجھے بھی تُو وجہ معلوم ہُو۔ ویسے جہاں تک میری معلومات ہیں آجکل کسی فیکٹری کا بھی بنک کی شراکت کے بغیر چلائے جانے کا تصور ہِی مُحال ہے ۔اور آپ تُو ماشاءَاللہ جو پروجیکٹ شروع کرنے جارہے ہیں اُس میں ایک خطیر سرمائے کی ضرورت پیش آئیگی۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ آپ اس پروجیکٹ کو بنک کی شراکت کے بَغیر چلا پائیں گے۔ کرامت صاحب نے بھی تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہُوئے بنک کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔

آپ بجا فرماتے ہیں کرامت صاحب اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ بنک کی شراکت کے بغیر اِس پروجیکٹ کو پایہ تکمیل تک نہیں پُہنچایا جاسکتا۔ اور نہ ہی اِس کے بِنَّا میں اپنا برسوں پُرانا خُواب حقیقت میں ڈھال سکوں گا ۔ لیکن یہ جُو مولوی ٹائپ لوگ ہُوتے ہیں اِنکا حال تُو آپ کو معلوم ہی ہے۔ یہ نا خُود ترقی کرتے ہیں اور نہ ہی کِسی اور کی ترقی برداشت کرسکتے ہیں ۔اسی لئے میں نے آپکو زِحمت دِی تھی تاکہ آپ سے معلوم کرسکوں ۔کہ کیا کوئی ایسی تدبیر نہیں ہُوسکتی کہ فرقان کو اِس تمام معاملے میں اِنوالو کئے بغیر یہ لُون حاصِل کیا جاسکے۔۔۔؟ نعمان نے اُمید بھری نِگاہوں سے بنک منیجر کرامت کو دیکھتے ہوئے کہا۔

نہیں نعمان صاحب ایسا بالکل بھی مُمکن نہیں ہے کیوں کہ بات دَس کروڑ کے لُون کی ہے کوئی پانچ دس ہزار رُوپے کی نہیں جو کوئی بے قاعدگی کی گُنجائش نِکالی جاسکے اتنی بڑی رقم بنک کِسی کو دینے سے قبل اُسکی سیکیورٹی کا خاطر خواہ انتظام ضرور کرے گی۔ یہ تو آپ خُوش نصیب ہیں جو میری معرفت آپکو یہ لُون ایک مہینے میں حاصِل ہُوجائے گا ورنہ لوگ اتنی کم شرح انٹریسٹ پر لُون حاصل کرنے کیلئے مہینوں نہیں بلکہ سالوں بنک کے چکر لگاتے ہیں تب کہیں جاکر سینکڑوں شرائط پُوری کرنے کے بعد ہی قرض حَاصِل کرپاتے ہیں۔ کرامت صاحب نے پہلو بدلتے ہُوئے جواب دِیا۔

میں جانتا ہُوں کرامت صاحب۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ ہماری ریپوٹیشن لاکھ بہتر سہی لیکن آپکی کوششوں سے ہی اِس لون کی آفر ہمیں ہُوئی ہے لیکن نہ جانے فرقان کس قِسم کے لوگوں کے چکر میں گرفتار ہُوگیا ہے۔ جو اُسے اُلٹی سیدھی پٹی پڑھاتے رِہتے ہیں۔ اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ہمارے مُلک میں ایسے لوگوں کی ویسے بھی کوئی کَمی نہیں ہے جنہیں دوسروں کے کام میں خوامخواہ ٹانگ اَڑانے کی عادت ہُوتی ہے۔ آپ نے وہ مقولہ تُو ضرور سُنا ہُوگاکہ۔ نہ ہم خُود کھائیں گے اور نہ کِسی اور کو کھانے دیں گے۔ نعمان نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا۔

لیکن نعمان صاحب آپ نے بتایا نہیں کہ فرقان صاحب کو آخر اعتراض کیا ہے اس ترقی کی راہ پر چلنے میں ؟ کرامت صاحب نے اپنا سوال ایک مرتبہ پھردُھراتے ہُوئے کہا۔

ارے کرامت صاحب کیا بتاؤں آپکو موصوف وہی دقیانوسی باتیں لے کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ جیسی باتیں اکثر ناکام قسم کے لُوگ کرتے نظر آتے ہیں کہ بنک سے لین دین حرام ہے اور اُنکا سار ا نظام اور کاروبار سودی ہُونے کی وجہ سے کاروبار سے برکت چلی جاتی ہے ۔ اور پریشانیاں انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ وغیرہ وغیرہ۔ نجانے کہاں سے فرقان کی مُلاقات ایک ریٹائرڈ پروفیسر صاحب سے ہُوگئی ہے۔ جناب خُود تو کِسی کالج سے لاکھوں روپیہ لیکر فارغ ہُوگئے ہیں۔ اب فرقان کو بھی اپنے پیچھے لگا لیا ہے۔ نعمان نے بات کو واضح کرنے کے بعد انٹر کام پر چائے کا آرڈر دیدیا۔

کُچھ دیر میں ملازم چائے کے دو گرما گرم کپ بِسکٹس کیساتھ سِٹنگ روم میں رکھ کر واپس چلا گیا۔ کرامت صاحب نے چائے کا کپ ہاتھ میں اُٹھاتے ہوئے نعمان صاحب کی طرف دیکھتے ہُوئے کہا۔ دیکھیئے نعمان صاحب میں دینی معاملات میں تُو اپنی کوئی رائے پیش نہیں کرونگا۔ کیونکہ میری دِینی معلومات نہ ہُونے کے برابر ہی سمجھیں ۔مگر میں آپ کو دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا۔ ہوسکتا ہے کہ اگلے ماہ یا دو ماہ میں میرا ٹرانسفر کِسی دوسرے شہر میں ہُوجائے۔ اُسکے بعد میں آپکی کوئی مدد نہیں کرپاؤں گا۔ اِس لئے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپکا کام آسانی سے ہُوجائے تُو آپکو جلد از جلد فرقان صاحب کو راضی کرنا پڑے گا اِس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ یا دوسری صورت میں۔۔۔ کرامت صاحب نے بات کرتے کرتے جُملہ ادھورا چھوڑ دیا۔

دوسری کیا صورت ہے کرامت صاحب آپ کُھل کر بات کریں۔ نعمان نے پُر اشتیاق لہجے میں اِستفسار کیا۔ نعمان کا خیال تھا کہ شائد کرامت صاحب کوئی لین دِین کی بات کرتے ہُوئے جھجک رہے ہیں ۔

دوسری صورت یہ ہے نعمان صاحب کہ۔۔۔ فرقان صاحب آپکو اَٹارنی پاور دے دیں۔ یا آپ اُن سے کِسی طرح شراکت ختم کردیں۔ اسطرح فیکٹری کے تمام معاملات کی ڈیلنگ صرف آپ کے پاس آجائے گی اور میں آپکو قرضہ دِلوانے میں کامیاب ہُوجاؤں گا ۔لیکن اسکے لئے بھی آپکو جلد از جلد تمام ڈاکومینٹس تیار کروانے ہُونگے۔ یُوں سمجھ لیں کہ آپکے پاس زیادہ سے زیادہ بیس یا پچیس دِن ہُونگے۔ کرامت صاحب نے ہچکچاتے ہُوئے دوسری تجویز پیش کردی۔

ارے نہیں کرامت صاحب فرقان کیساتھ میری تب سے یاری ہے جب ہماری جیبوں میں ایک پھوٹی کُوڑی بھی نہیں ہُوتی تھی یہ کروڑوں کا بزنس تو چند سال سے ہے ورنہ ہمیں دیکھ کر تو لوگ یہی کہتے تھے کہ ۔ لُو آگئی 2 نکموں کی جُوڑی۔ اُس وقت ہماری جیب میں ایک چائے کے بھی پیسے نہیں ہُوتے تھے کہ آدھے آدھے کپ کی عیاشی ہی کر لیتے۔ فرقان اتنا سخت انسان نہیں ہے ۔ اُسے دولت کی اہمیت کا خُوب اندازہ ہے۔ اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ آج لوگوں میں ہماری جو عزت اور جو بھی ہماری کاروباری ساکھ ہے۔ وہ انہی پیسوں کی بدولت ہیں۔ میں فرقان کو پھر سے سمجھاؤں گا ۔اور مجھے یقین ہے وہ بلاآخر میری بات مان ہی جائے گا۔ نعمان نے جذباتی لہجے میں اپنی بات مکمل کرتے ہُوئے کہا۔

چلیں پھر ٹھیک ہے آپ فرقان صاحب سے بات کرلیں۔ کہتے ہیں ایک جگہ بار بار قطرہ گرنے سے تُو پتھر میں بھی سُوراخ ہُوجاتا ہے ۔ اور اپنے فرقان صاحب تُو نہایت نفیس اور سمجھدار انسان ہیں۔ ویسے بھی سُنا ہے کہ انسان کا قلب مُنقلب ہُوتا ہے۔ ہُوسکتا ہے اِس مرتبہ آپ کی بات اُنکے دِل کو چھو جائے آخر آپ اُنکے دوست اور خیر خُواہ ہیں ۔اور اس نئے پرپُوزل سے صرف آپکی ذات کو ہی تُو فائدہ نہیں پُہنچے گا پچاس فیصد مُنافع تُو اُنہیں بھی مِلے گا جو میرے خیال میں سالانہ دُو تین کروڑ سے کِسی طرح کم نہیں ہوگا۔ کرامت صاحب نے بات مکمل کرنے کے بعد کھڑے ہُو کر مُصافحہ کیلئے نعمان کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہُوئے کہا۔

نعمان آفس کے گیٹ تک کرامت صاحب کو چھوڑنے کے بعد واپس آکراپنی آرام دہ نشست پر نیم دراز ہُوگیا۔ اُسے کرامت صاحب کی دوسری تجویز قطعی پسند نہیں آئی تھی۔ بلکہ اُسے حیرت اِس بات پہ تھی کہ کِس بات سے کرامت صاحب کو اتنی ہمت ہُوئی کہ اُنہوں نے مجھے فرقان سے علحیدگی کا مشورہ دے ڈالا۔ حالانکہ وہ ایسی کوئی بات کبھی اپنے ذہن کے پُوشیدہ گُوشے میں بھی نہیں لایا تھا۔ ۔چہ جائیکہ کرامت صاحب نے وہ بات اپنی زُبان سے ادا کردی۔ اور نعمان کو صرف گُمان نہیں بلکہ کامل یقین تھا کہ کبھی فرقان نے بھی ایسی کِسی بات کا تصور نہیں کیا ہُوگا۔

نعمان کی زندگی میں اُسکے خوابوں کی بڑی اہمیت تھی لیکن وہ اُن خوابوں کے لئے اپنے جگری یار کو قربان نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن آج کرامت صاحب کی گُفتگو نے بیشُمار اندیشے اور خُوف کے بادل نعمان کے سر پر ایستادہ کردئیے تھے۔ وہ جتنا اِن خیالات سے اپنی سوچ کو باز رکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ اُسی قدر زیادہ خیالات کے ناگ اُسکے دِماغ پر اپنے مہیب پھَنّوں سے حملہ کر رہے تھے۔چند جُملے بار بار نعمان کے دِماغ میں گُونج رَہے تھے ۔۔ کیا فرقان کبھی میرا ساتھ چھوڑ سکتا ہے۔۔۔؟کیا میں فرقان کو اپنے خُوابوں کی بھینٹ چڑھا سکتا ہُوں۔۔۔؟ کیا ہماری دوستی کِسی نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔۔۔؟ اور ایسے ہی بیشُمار سوالات نعمان کی سُوچوں کو منتشر کررہے تھے۔ نعمان کو ایسا محسوس ہُورَہا تھا جیسے یہ سوالات اُسکی دماغی شریانوں کو پھاڑ ڈالیں گے۔ پھر کُچھ سُوچ کر نعمان نے فُون کا رِیسیور اُٹھایا اور فرقان کے نمبر پنچ کرنے لگا۔ دوسری جانب سے فرقان نے جونہی السلامُ علیکم کہا۔ نعمان نے فرقان سے جلد فیکٹری میں آجانے کی استدعا کرتے ہُوئے فون کا ریسیور پٹختے ہُوئے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔

(
جاری ہے)

عامل کامل ابو شامل (قصہ فرح)قسط 33



گُذشتہ سے پیوستہ۔
   

کچھ ہی دِن بعد میرے والد صاحب نے میری غیر موجودگی کو محسوس کرتے ہُوئے کچھ سپاہی مجھے طلب کرنے کیلئے بھیج دیئے۔ لیکن میں نے واپسی سے صاف انکار کردیا۔۔۔ یہ کھیل کئی ماہ چلتا رہا۔ میری والدہ کے  بھی مسلسل واپسی کیلئے پیغامات مجھے موصول ہُورہے تھے۔ ایک دِن میں اپنی والدہ سے مُلاقات کیلئے اپنی ریاست پُہنچ گیا۔ اُور اُنہیں اپنی تمام دِلی کیفیات سے آگاہ کردیا۔ اُنہوں نے بھی مجھے کافی خبردار کیا۔کہ،، انسانوں کی دوستی یا دُشمنی ہم جنات کیلئے کبھی سُود مند ثابت نہیں ہُوتی۔ لیکن میں نے منت سماجت کرکے اُنہیں اِس بات کیلئے آمادہ کرلیا۔کہ،، میں اُن سے مُلاقات کیلئے وقتاً فوقتاًً ریاست آتا جاتا رُہوں گا۔ اُور جیسے ہی میرے ہاتھ گوہرِ مُراد لگا میں ہمیشہ کیلئے واپس لُوٹ آونگا۔ میں والدہ سے مُلاقات کے بعد جب سیالکوٹ پُہنچا ۔ تو ایک قیامت میری منتظر تھی۔۔۔ فرح جس میڈیکل یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہی تھی۔ اُسی یونیورسٹی کے ایک نوجوان  ڈاکٹر دلشاد احمد کی فیملی فرح کا رشتہ لیکر آئی تھی۔ فرح کی فیملی کو وُہ رشتہ اتنا پسند آگیا۔کہ،، اُنہوں نے  فرح کی رضامندی دیکھ کر فوراً ہی رشتہ کیلئے حامی بھرلی۔۔

اب مزید پڑھیئے۔

مجھے فرح کی فیملی سے ذیادہ فرح پر غصہ آرہا تھا۔ جسے میری تکلیف اُور محبت کا ذرہ سا بھی احساس نہیں تھا۔ ایک میں تھا جو اُس کیلئے شہزادوں جیسی زندگی چھوڑ کر جُوگی بن گیا تھا۔ اُور ایک وُہ بھی جس نے کتنی آسانی سے دلشاد کیلئے  شرماتے ہُوئےحامی بھر لی تھی۔۔۔ لیکن پھر مجھے  اپنی بے وقوفی کا احساس ہُوا۔کہ،، بھلا فرح میری تکلیف کو کیسے سمجھ سکتی ہے؟۔ اُس بیچاری کو  تویہ خبر ہی نہیں تھی کہ،، میں اُس کیلئے کیسے کیسے پاپڑ بیلتا پھر رَہا ہُوں۔ لیکن اب میں نے فیصلہ کرلیا تھا۔ کہ مجھے جلد از جلد فرح کو اپنی موجودگی کا احساس دِلوا دینا چاہیئے۔ سُو میں نے سب سے پہلے ایک چاندنی رات  میں  فرح کوسُوتے ہُوئے اغوا کرلیا۔ اُور اُسے ایک ایسی وادی میں لےگیا۔ جہاں کی خوبصورتی دیکھ کر انسان کو جنت کا گُمان ہُونے لگتا ہے۔ یہاں جا بجا پہاڑوں سے  بہتےچشمے اُور تمام زمین پر بچھی ریشمی گھاس، پھلوں سے لدے  قطار در قطار درخت ، اُور درختوں پر چہکتے پرندے ، انسانوں کو مدہوش کرنے کیلئے کافی تھے۔ جبکہ اُس رات بدر کامل کی چمک دمک نے ماحول پر عجیب سی رومانی کیفیت بھی  برپا کی ہُوئی تھی۔ میں نے خود کو سُنوار نے میں کوئی کسر نہیں اُٹھارکھی تھی۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہُوں۔کہ،، اُس رات اگر  مجھے دُنیا کی  تمام مِس ورلڈ بھی دیکھ لیتیں۔ تو مجھے حاصل کرنے کیلئے وُہ ضرور ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش کرتیں۔

اُس رات میں بُہت ذیادہ پُراُمید تھا۔ اِس لئے تمام تیاری کے بعد میں نے بڑے پُر اعتماد انداز میں  اُسے جگانے  اُور خُود کو اُس پر ظاہر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔۔۔ میں نے دھیرے سے کئی مرتبہ اُسکے قدموں پر بُوسے دیئے۔ وُہ ہر مرتبہ  کسمسا کر کروٹ بدلتی رہی۔ جسکے بعد میں  اُسکے قدموں پر مزیدایک بُوسہ کردیتا۔ یہاں تک کے اُس نے ایک اَدا سے آنکھوں کے دریچے ذرا سے وَا کردیئے۔ لیکن جونہی اُسکی نظر مجھ پر پڑی وُہ حیا سے سِمٹ کر  وحشت سے اپنے چاروں جانب دیکھ کر خوابناک لہجے میں گُویا ہُوئی!!! آپ کون ہیں، اُور میں یہاں کیسے آگئی ۔؟؟؟ میرا خیال تھا کہ،، وُہ جاگنے کے بعد   اس طلمسی  اُور رومانٹک ماحول میں خود سپردگی کی کیفیت میں ڈھل جائے گی۔ لیکن وُہ تو ایک ہراساں آہو ،،کی مانند سِمٹتی ہی چلی جارہی تھی۔۔۔ آپ پرستان  میں ہیں شہزادی فرح اُور میں یہاں کا شہزادہ ہُوں۔۔۔ میں نے حتی الامکان اپنے لہجے میں اپنایت اُور مٹھاس سمونے کی کوشش کی۔۔۔ اُس نے پہلی مرتبہ نارمل انداز میں میرے سراپے کا جائزہ کا  لیکر میری صداقت کو پرکھنے کی کوشش کی۔۔۔ وُہ رفتہ رفتہ ماحول سے متاثر ہُورہی تھی۔ لیکن  اُس کے اندر کی بے چینی بھی اُسکے چہرے پر مترشح تھی۔۔۔ آپ تو واقعی شہزادے لگ رہے ہیں۔ اُور یہ جگہہ بھی واقعی  کہانیوں کے پرستان ہی جیسی ہے۔۔۔ لیکن میں کوئی شہزادی نہیں ہُوں!!! اُور بائی دا ،وِے  آپکو میرا نام کیسے معلوم ہے؟؟؟ اُور میں اپنے گھر سے یہاں کیسے پُہنچ گئ؟۔۔۔۔۔۔۔ کس نے کہا۔کہ،، آپ شہزادی نہیں ہیں؟؟؟ آپ شہزادی فرح ہیں۔ اُور میرا نام شہزادہ ابوشامل ہے۔ اُور میں  اپنے دِل میں آپکو  اپنی ریاست کی ملکہ بنا کر دُنیا کی تمام نعمتوں کو آپکے قدموں میں ڈھیر کرنے کی خواہش کا ارادہ رکھتا ہُوں۔۔۔ میں نے اپنی خاہش کو الفاظوں میں سمونے کی کوشش کرتے ہُوئے اُسے بتایا۔


دیکھیئے  شہزادہ ابو شامل  صاحب میں واقعی آپکو نہیں جانتی۔ اُور نہ ہی میں کوئی شہزادی ہُوں۔ آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہُوئی ہے۔ میں میڈیکل کی طالبہ ہُوں۔ اُور ابھی چند دِن پہلے ہی ،میری منگنی ہُوچُکی ہے۔ اُور عنقریب میری شادی بھی ہُونے والی ہے۔ ۔۔۔۔ فرح کی گفتگو جاری تھی کہ ،،میں نے اُسک بات کاٹتے ہُوئے کہا،، کیا مجھ میں کوئی کمی ہے؟ جو آپ مجھے ٹُھکرا کر کسی عام سے انسان کیساتھ زندگی گُزارنا چاہتی ہیں۔۔۔۔ دیکھیئے  میرا رشتہ میرے والدین کی  خُواہش اُور میری مرضی سے طے پایا ہے۔اسلئے میں کسی دوسرے مَرد کے متعلق سُوچنا بھی گناہ سمجھتی ہُوں۔ آپ پلیز جو بھی ہیں مجھے میرے گھر تک پُہنچادیں۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہُو۔کہ،، بدنامی کا داغ ہمیشہ کیلئے میری رِدائے عصمت کو گہنا کر  میلا کردے۔ اِس مرتبہ فرح  کے آبگینے مکمل طور پر چھلکنے کیلئے بیقرار ہُورہے تھے۔۔۔۔ فرح کے جواب نے میرے اَرمانوں کے تاج محل کو چکناچُور کرڈالا تھا۔ مجھ میں مزید سکت نہیں تھی۔ اُسکی بے اعتنائیوں کو برداشت کرنے کیلئے۔ اِس لئے  میں نے دُوبارہ نیند کی وادی میں  داخل کرنے کے بعد اُسے اُسکے  بستر پر  واپس پُہنچا دیا۔ صبح جب اُسکی آنکھ اپنے بستر پر کھلی تو اُسے رات کے تمام واقعات خُواب  کی طرح محسوس ہُوئے۔ اُس نے اللہ کا شکر ادا کیا۔کہ،، وُہ حقیقت کے بجائے خواب دیکھ رہی تھی۔

اِس واقعہ کے بعد میں نے کئی مرتبہ اُسے  حالت نیند سےاغوا کرکے دُنیا کی خُوبصورت ترین وادیوں میں اپنی محبت کا احساس دِلانے کی کوشش کی۔ لیکن اُس نے ہمیشہ مجھ پر دلشاد کو فوقیت دی۔۔۔  وُہ ہر مرتبہ صبح جاگنے کے بعد گُزری رات کے واقعات کو خُواب سے تشبیہ دیتی ۔ البتہ اَب وُہ اِن مُسلسل خوابوں کی وجہ سے پریشان رہنے لگی تھی۔۔۔۔اُسکے مُسلسل انکار کی وجہ سے میری طبیعت میں بھی بُہت ذیادہ جھلاہٹ رہنے لگی تھی۔ کبھی  کبھی دِل چاہنے لگتا۔کہ،، اُسے ہمیشہ کیلئے اغوا کرکے لیجاوٗں۔ لیکن پھر  جب یہ خیال آتا۔کہ،، زبردستی اپنے خیالات کسی پر تھوپنے سے کسی کے دِل میں محبت کے بجائے نفرت کا ذیادہ اندیشہ رہتا ہے۔ تو میں اپنے ارادے سے باز آجاتا۔۔۔ لیکن ایک بات مجھے بُہت اچھی طرح سے سمجھ  آچکی تھی۔کہ،، جب تک دلشاد کا کانٹہ ہمارے درمیان رہے گا۔میں کبھی بھی فرح کو حاصل نہیں کرپاوٗں گا۔۔۔ اسلئے میں نے فرح کے بجائے اَب دِلشاد کو اپنی توجہ کا مرکز بنالیا تھا۔ ۔۔۔ البتہ رات ڈھلتے ہی میں فرح کے رُوم میں داخل ہُوجاتا۔ اُور رات کا بیشتر حصہ اُس ہرجائی محبوب کی دید میں بسر ہُوجاتا۔

ایک دِن دلشاد کی نگرانی کرتے ہُوئے مجھے یہ بات معلوم ہُوئی۔کہ،، موصوف ویک اینڈ منانے کیلئے  اپنے  ایک جگری دوست کو مانسہرہ سے لیکر وادی کاغان  میں گُزارنے کا اِرادہ رکھتے ہیں۔ یہ سفر دلشاد سے ذیادہ میرے لئے اہمیت کا باعث تھا۔۔۔ اُور اِس سفر میں سب سے بڑی بات یہ تھی۔کہ،،  سفر کے دوران دلشاد نے اکثر  سفرپہاڑوں پر بنی تنگ گُزرگاہوں پر کرنا تھا۔جہاں لینڈ سلائیڈنگ معمول کی بات تھی۔ اُور اکثر گاڑیاں دریائے کُنہار کے عشق میں ڈوب جایا کرتی تھیں۔پھر وُہ وقت بھی  جلد آگیا،، جب دلشاد خُوب تیار ہُوکر عازم سفر ہُوا۔۔۔ میرا ارادہ تھا کہ وادی کاغان کو ہی ہمیشہ کیلئے دلشاد کا دائمی ٹھکانہ بنادوں۔ لیکن مانسہرہ آنے سے قبل ہی دلشاد نے جونہی فرح کے نمبر کی پیڈ پر پنچ کرنے شروع کئے ۔تو میرا دماغ اُلٹ گیا۔ اُور ساتھ ہی دلشاد کی گاڑی بھی سینکڑوں فٹ گہری کھائی کی نذر ہُوگئی۔ میں نے جب نیچے جا کر دیکھا تو وُہ  باقی ماندہ گاڑی میں خُون میں لت پت زندگی کی آخری سانسیں گِن رہا تھا۔ میرے جگر سے اُور میری زندگی سے کانٹا نکل رَہا تھا۔ اُور میں خُوشی سے یاھو ،،کا نعرہ بُلند کررہا تھا۔ وادیوں میں میرے نعرے کی گُونج سے ایکو پیدا ہُورہا تھا۔ جیسے تمام وادی بھی میرے ساتھ جشن مناتے ہُوئے یا ھو، یاھو ۔۔۔۔کے نعرے بُلند کررہی ہُو۔
(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

Thursday, 21 May 2015

عامل کامل ابو شامل قصہ فرح کا قسط 32



انتساب۔ کہانی کی یہ قسط (جانِ عشرت کاشف وارثی) اُور محترمہ ڈاکٹر عنبل وارثی کے نام کرتا ہُوں۔
گُذشتہ سے پیوستہ۔
   
ابھی تک اُسی ڈھونگی کی مدد کے انتظار میں ہُو۔  جتنی شدت سے اُس ڈھونگی کو پُکار رہے ہو اتنی شدت سے اگر تُم خُدا کو پکارتے تو وُہ تمہیں کب کا  مِل گیا ہُوتا!!!  گاڑی سے باہر وہی فقیر کامل علی کا  مذاق اُڑاتے ہُوئے قہقہ لگارہا تھا۔۔۔۔  بند کرو اپنی بکواس اُور دفع ہُوجاوٗ یہاں سے۔ کامل علی فقیر کو دیکھ آپے سے باہر ہُونے لگا۔۔۔۔ کسے دیکھ کر چِلا رہے ہیں آپ ؟؟؟؟۔۔۔۔۔ کیا تُم اندھی ہُو؟ جو تمہیں یہ فقیر دِکھائی نہیں دے رہا۔جاناں کی حیرت پر کامل علی نے گردن موڑ کر درشت لہجے میں جواب دیا۔۔۔۔ مجھے واقعی یہاں کوئی فقیر دکھائی نہیں دے رہا جانوں آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟؟؟!!! جاناں نے کار  کا شیشہ نیچے اُتارتے ہُوئے باہر جھانک کر ایکبار پھر تشویش بھرے انداز میں کامل کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔ کامل  علی نے حیرت سے پہلے جاناں کی طرف دیکھا ۔ اُور پھر فقیر کی طرف دیکھا ۔ فقیر بدستور کامل علی کو استہزائیہ نظروں سے دیکھ رَہا تھا۔۔۔۔ میں پھر کہتا ہُوں تُم سے کہ،، نکل آوٗ اِس دلدل سے۔ اِس سے پہلے کہ،، واپسی کی راستہ کھو بیٹھو۔ فقیر نے پھر کامل علی کو  تاکید کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ اتنی دیر میں سنگنل گرین ہُوچکا تھا۔پیچھے سے گاڑیوں کے ہارن شور مچانے لگے تھے ۔ کامل علی نے فقیر پر نگاہ رکھتے ہُوئے گاڑی فُٹ پاتھ پر ایک سائیڈ لگائی۔ اُور جونہی گاڑی سے اُتر کر باہر آیا۔ اتنی دیر میں وُہ فقیر ایک مرتبہ پھر کامل علی کی نگاہوں سے اُوجھل ہُوچکا تھا۔۔۔۔

اَب مزید پڑھیئے۔
کامل علی جُھلائے ہوئے انداز میں جب اپنے گھر پُہنچا تو  بنگلہ کے دروازے سے تالا غائب دیکھ کر چکرا گیا۔۔۔  لگتا ہے آج کوئی گھر کی بھی صفائی کرگیا ہے۔ کامل  کی بُڑبڑاہٹ سُن کر جاناں بھی ہراساں ہُوکر کہنے لگی۔پلیز آپ تنہا گھر میں داخل نہ ہُوں۔ ہوسکتا ہے ابھی تک کوئی گھر میں موجود ہُو۔ اُور کہیں وُہ آپ کو کچھ نقصان نہ پُہنچادیں۔۔۔ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے،، پہلے میں باہر سے ہی تسلی تو کرلوں ،، کہ،، کوئی گھر میں موجود بھی ہے یا نہیں کامل نے کار کا دروازہ کھول کر  دبے پاوٗں مین گیٹ کی طرف بڑھتے ہوئےسرگوشی میں  جاناں کوجواب دیا۔۔۔۔ کامل علی جب دبے قدموں گیٹ سے اندر داخل ہُونے کی کوشش کررہا تھا۔ تبھی اُسے ابوشامل کی چہکتی آواز سُنائی دی۔۔۔ عجیب انسان ہُو بیگم کو باہر گاڑی میں چھوڑ کر اپنے ہی گھر میں چوروں کی طرح داخل ہُو رہے ہُو۔ یار  بیچاری بھابی کو بھی اندر لے آوٗ یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے۔۔۔ اِس مرتبہ ابوشامل نے جملہ اتنی بُلند آواز میں کہا تھا کہ،، جاناں تک بھی اُس کی آواز پُہنچ چُکی تھی۔ اُور اب وُہ اطمینان سے گھر میں داخل ہُورہی تھی ۔  ابوشامل کو سامنے دیکھ کر جاناں نے شکوہ کیا۔۔۔ ابوشامل بھائی !!! بھلا یہ بھی  کوئی  طریقہ ہے اپنوں کو پریشان کرنے کا۔کہ،، بغیر بتائے پورا مہینہ غائب ہُوگئے۔۔۔ آپکو خبر بھی ہے کہ،، کامل آپکی وجہ سے کتنے پریشان تھے۔۔۔۔۔ جاناں کی موجودگی کی وجہ سے کامل کا  بس نہیں چل رہا تھا کہ ِ،، افلاطون کا چہرہ نُوچ   نُوچ کر لہولہان کردے۔ اِس لئے وُہ دِل پر جبر کرتے ہُوئے گاڑی  کار پُورچ میں داخل کرنے کیلئے انتہائی غصے میں باہر نکل گیا۔

رات کو بنگلے کی چھت پرتنہائی میسر آتے ہی کامل نے انتہائی غصہ کی حالت میں  ابوشامل پر سوالات کی یلغار کرتے ہُوئے آج کی ڈکیتی کے متعلق بتایا۔ ۔۔۔ تُمہارا غصہ اپنی جگہہ بجا ہے میرے دُوست لیکن جب تُمہیں اصل کہانی کا علم ہُوگا ۔ تو تُم مجھ پر غصہ کرنے کے بجائے مجھ سے ہمدردی کرنے لگو گے کیوں کہ میں کسی کی مدد کے چکر میں خُود ایک مصیبت میں گرفتار ہُوکرمُوت سے  بال بال بچا ہُوں۔۔۔۔ کامل کی خاموشی دیکھ کر ابو شامل نے اپنی گفتگو جاری رکھی۔۔۔۔ میں دراصل اُس دن نفاست صدیقی سے مُلاقات کے بعد اپنے کسی کام سے سیالکوٹ گیا تھا۔۔۔۔۔ سیالکوٹ گئے تھے مگر کیوں اُور تمہارا کونسا ضروری کام تھا سیالکوٹ میں؟؟؟ کامل علی نے بیچ میں لقمہ دیتے ہُوئے کہا،۔۔۔۔۔  یہ ایک الگ کہانی ہے میرے دُوست مگر سچی بات یہ ہے کہ،، میرا بھی کوئی اپنا رہتا ہے سیالکوٹ میں جسکی وجہ سے مجھے   اس شہر سےبُہت محبت ہے۔ اُور میری اِس کمزوری کا گھنشام داس کو بھی علم تھا۔ جسکی وجہ سے ہمارے درمیان میں جنگ کی ابتدا ہُوئی تھی۔۔۔۔۔۔ اسکا مطلب ہے۔کہ،، تم مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے ہُو۔ ورنہ جس طرح میں نے اپنی زندگی کا ایک ایک ورق تمہارے سامنے کھول کر رکھ دیا تھا۔ اگر تم بھی مجھ پر اعتبار کرتے تو مجھ سے پردہ نہیں رکھتے۔  کامل علی نے دِل گرفتہ لہجے میں ابوشامل کی گفتگو کو کاٹتے ہُوئے کہا۔۔۔۔

نہیں یار کامل!! ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ جسے میں تم سے چھپاوٗں۔۔۔ لیکن یہ ایک ایسی کہانی ہے جسے میں جب بھی یاد کرتا ہُوں تو آتشی ہُونے کے باوجود میرے سینے میں بھی نابرداشت ہُونے والا ایک اَلاوٗ دہک جاتا ہے۔ اس لئے میں کم ہی اُن یادوں سے واسطہ رکھتا ہُوں۔۔۔ ابوشامل نے   اپنی آواز میں درد سموتے ہوئے  ایک لمحے کیلئے خاموشی اختیار کرلی۔ جیسے وُہ  کچھ یاد کررہا ہُو۔۔۔۔۔ دراصل بات یہ ہے میرے دوست کہ،، تُم سے ملنے سے  ۶ ماہ قبل میں اپنے چند دوستوں کیساتھ جھیل سیف الملوک پر تفریح کیلئے آیا تھا۔ ہم تمام دوست وہاں خُوب ہلا گُلا کرتے ہُوئے اپنا وقت گُزار رہے تھے۔کہ،، اچانک ایکدن سیالکوٹ سے ایک فیملی گھومنے کیلئے ناران آئی۔ تو میں نے  زندگی میں پہلی مرتبہ ایسا حُسن کا شاہکار دیکھا۔ جسے دیکھ کر بیک وقت چاند کی چاندنی اُور گلاب کی پنکھڑیوں کی لطافت کا احساس  دِل میں پیدا ہُونے لگا۔۔۔ وُہ  لڑکی  جسکا نام فرح تھا۔بلاشبہ شہزادہ سیف الملوک کی بدیع الجمال کی طرح حسین تھی۔۔۔ اُسے دیکھ کر پہلی مرتبہ میرے دِل میں یہ احساس جاگا۔کہ،، زندگی کا سفر  دلپسند ساتھی کیساتھ   ہی گُزارنا چاہیئے۔ حالانکہ مجھے  میرے دوستوں نے اِس خیال سے باز رکھنے کیلئے بُہت جتن کئے۔اُور مجھے بُہت سمجھایا۔کہ وہ خاکی ہے۔ اُور ہم آتشی،،  اسلئے یہ مِلن کبھی ممکن نہیں ہُوگا۔لیکن کوئی نصیحت دِل پر کار گر نہیں گُزری۔ میں اُس فیملی کیساتھ ساتھ سیالکوٹ چلا آیا۔ جبکہ میرے تمام دوست میری ہٹ دھرمی اور ضد دیکھ کر واپس لُوٹ گئے۔

میں خاموشی سے رات دِن فرح کی نظروں سے اُوجھل ہُوکر اُسکے قریب ہی رہتا۔۔۔ اُسکی قربت نے مجھ پر عجیب سی کیفیت طاری کردی تھی۔۔ اُسکے پسینے کی خُوشبو، اُسکی سانسوں کا لمس، اُسکا ہر ایک انداز قاتلانہ تھا۔۔۔ میں اُس کے سامنے آکر اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔ لیکن ایک خُوف میرے دِل سے نکلنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ کہ،، کہیں وُہ میری اصلیت جان کر  بھڑک نہ جائے،، یا کہیں مجھ سے خُوفزدہ نہ ہُوجائے۔ میں کسی ایسے موقعے کی تلاش میں تھا۔کہ،، کاش اُسے خُود میری ضرورت آپڑے۔ یا  وُہ خُود کسی نادیدہ ہستی کو  مدد کیلئے پُکارے تو میں لپک کر اُس کے سامنے ظاہر ہُوکر کہوں۔ کہ،، اے جان تمنا میں حاضر ہُوں تمام زندگی آپکی غلامی کا دَم بھرنے کیلئے۔۔۔۔ پھر  وُہ مجھے قبول کرلے۔ جسکے بعد میں تمام دُنیا کی خُوشیوں کو اُسکے قدموں میں ڈھیر کرتا چلا جاوٗں۔۔۔۔

کچھ ہی دِن بعد میرے والد صاحب نے میری غیر موجودگی کو محسوس کرتے ہُوئے کچھ سپاہی مجھے طلب کرنے کیلئے بھیج دیئے۔ لیکن میں نے واپسی سے صاف انکار کردیا۔۔۔ یہ کھیل کئی ماہ چلتا رہا۔ میری والدہ کے  بھی مسلسل واپسی کیلئے پیغامات مجھے موصول ہُورہے تھے۔ ایک دِن میں اپنی والدہ سے مُلاقات کیلئے اپنی ریاست پُہنچ گیا۔ اُور اُنہیں اپنی تمام دِلی کیفیات سے آگاہ کردیا۔ اُنہوں نے بھی مجھے کافی خبردار کیا۔کہ،، انسانوں کی دوستی یا دُشمنی ہم جنات کیلئے کبھی سُود مند ثابت نہیں ہُوتی۔ لیکن میں نے منت سماجت کرکے اُنہیں اِس بات کیلئے آمادہ کرلیا۔کہ،، میں اُن سے مُلاقات کیلئے وقتاً فوقتاًً ریاست آتا جاتا رُہوں گا۔ اُور جیسے ہی میرے ہاتھ گوہرِ مُراد لگا میں ہمیشہ کیلئے واپس لُوٹ آونگا۔ میں والدہ سے مُلاقات کے بعد جب سیالکوٹ پُہنچا ۔ تو ایک قیامت میری منتظر تھی۔۔۔ فرح جس میڈیکل یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہی تھی۔ اُسی یونیورسٹی کے ایک نوجوان  ڈاکٹر دلشاد احمد کی فیملی فرح کا رشتہ لیکر آئی تھی۔ فرح کی فیملی کو وُہ رشتہ اتنا پسند آگیا۔کہ،، اُنہوں نے  فرح کی رضامندی دیکھ کر فوراً ہی رشتہ کیلئے حامی بھرلی۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔